شریعت کی تشریح

February 12, 2014 at 00:01 ,
انا الحق؛

شریعت عربی زبان کا لفظ ہے ۔لفظ شریعت کامادہ ش۔ر۔ع ہے اور اس کا لغوی معنی ہے وہ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔اس کے علاوہ موجودہ لغت میں اس کے معنی ہیں قانونِ اسلام، مذہبی قانون وغیرہ۔
ابن منظور نے لسان العرب میں اس کے اصطلاحی معنی یہ بیان کیے ہیں
’’بندوں کے لئے زندگی گزارنے کا وہ طریقہ جسے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا اور بندوں کو اس پر چلنے کا حکم دیا”
مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مسلمانوں کے پاس ایسا قانون ہے اگر ہے تو کیا حدیثوں سے اس کا حوالہ دو گے یاں قرآن سے اور کیا قرآن قانون کی کتاب ہے؟ کیا قرآن واقع قانون کی کتاب ہے۔
اور احادیث سے سوائے، شادی بیاہ، زنا، چوری، قتل کے اور کیا کچھ ملتا ہے؟ مسلمانوں کی شریعت متعہ، حلالہ، زنا، شادیوں، جنابت، مباشرت، غسل جنابت، پاخانہ ، کے علاوہ ہے کیا؟
اب اللہ کی طرف سے جو شرعی احکام ہمارے سامنے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛

1. شریعت موسوی
2. شریعت عیسوی
3. شریعت محمدی

شریعت کی بہت ساری قسمیں ہیں جو ساری کی ساری انسان کی اپنی من گھڑت ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بنائی گئی ہے۔شریعت محمدی کا وجود بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ مسلمان کبھی بھی یہ ماننے کو تیا ر نہیں ہیں کہ یہ قانون قابل عمل نہیں ہے اور اگر یہ قانون قابل عمل ہے تو کہاں ہے کیا کسی مسلمان کے پاس کوئی ایسے مسودے موجود ہیں جن کو فوری طور پو کسی ملک میں لاگو کیا جا سکے ؟ اس سوال کے جواب میں ملا کہتا ہے کہ قرآن و سنت جناب جس قرآن و سنت کی آپ بات کر رہے ہیں وہ اتنی منتشر و بکھری ہوئی ہے پہلے تو اس کو سمجھنا مشکل ہے دوسرا اس کو موجودہ ماحول کے مطابق ڈھالنا یہی ہے کہ سارا قران سنت بدل دیا جائے۔ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فقہ والے کسی دوسرےکی شریعت کو مانیں کیونکہ ہر فرقے کی اپنی من گھٹت ایک شریعت ہے۔ اور اگر ااحادیث اور تاریخ کی بات کی جائے جو کہ 100٪ مسلمانوں نے کبھی کھول کر بھی نہیں دیکھی وہ قوم جس نے کبھی قران کا مطالعہ نہیں کیا وہ احادیث کو کیا خاک پڑھے گی۔

کیا دنیا میں اللہ کا قانون انسانوں کے مرہونِ منت ہے ؟ کیا دین فطرت کے قانون کو فطرت ہی دنیا میں نفاذ نہیں کر سکتی؟ وہ اللہ اتنا مجبور ہے کہ اس کے بندے پہاڑوں پر بیٹھے اس کے نفاذ کے لیے جنگیں لڑ رہے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ اس شریعت کا کوئی وجود ہے ہی نہیں آج تک کسی نے اس کا ڈھانچہ تک نہیں بنایا جب بھی کبھی ضیاءالباطل جیسے لوگوں نے شریعت کو نفاذ کرنا چاہا ملک کا بیڑا غرق کیا۔
حدود یعنی وہ حد جو اللہ نے معین کر رکھی ہے۔ اسی کے مطابق حدود آرڈیننس بنایا گیا ہے۔

شریعت کی لفظی تشریح کے بعد آتے ہیں اس کی حقیقت کی طرف کہ آخر شریعت چیز کیا ہے کہ یہ خدا کا قانون ہے؟
اگر حمارابی کے قوانین دیکھے جائین تو وہ بھی سختی میں اسلام سے ملتے جلتے ہیں۔ اس کے قوانین میں ہاتھ کاٹنے، زندہ جلانے، پانی میں پھنکنے، غلام بنانے، انگلیاں کاٹنے، آنکھ کے بدلے آنکھ کان کے بدلے کان کا ذکر ملتا ہے۔ اسلام نے بھی کچھ اسی سے متاثر ہو کر عباسی اور اموی ادوار میں یہ قوانین گھڑ لیے۔

ہمیں واضع طور پر کہیں بھی قرآن و احدیث میں شریعت یان اسلام قانون نہیں ملتا یاں ایسا بھی نہیں دیکھا کہ کسی مسلمان نے کوئی ایسا قانون بنایا ہو جو قابل عمل ہو جن ممالک مین قانون اللہ نافذ ہے ان میں زیادہ تر افریقی ممالک شامل ہیں جہان پر پہلے ہی قحط سالی ہے اسی طرح افغانستان، ایران، سعودی عرب کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

یہ لیجے شریعت کا سیدھا راستہ صرف ایک حوالہ کافی ہے باقی قوانین کا مطالعہ کیجے۔

ہاتھ کاٹنے کی سزا
کیونکہ بہت سارےحضرات کو اگر حدیث کا حوالہ دیا جائے تو وہ فورا حدیث کے منکر ہوجاتے ہیں اس لیے اللہ کے کلا م سے شریعت کی واضاحت کی جائے گی۔
[5:34] یقیناً اُن لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہے کہ انہیں سختی سے قتل کیا جائے یا دار پرچڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں دیس نکالا دے دیا جائے۔ یہ ان کے لئے دنیا میں ذلت اور رسوائی کا سامان ہے اور آخرت میں تو اُن کے لئے بڑا عذاب (مقدر)ہے۔
[5:39] اور چور مَرد اور چور عورت سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو اُس کی جزا کے طور پر جو انہوں نے کمایا (یہ) اللہ کی طرف سے بطور عبرت (ہے) اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔

حضرت عمر نے انہی قرانی سزاؤں کو اپنے دور حکومت میں معطل کرکے امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت انسانوں کی بہتری کے لیے قرآن کے واضح احکامات میں بھی ردوبدل کر سکتی ہے۔

یہ تھی ایک مثال ہاتھ کاٹنے کی اسلام میں اسی طرح کی چند مثالیں زانی، غلاموں کی خرید و فروخت، شرابی، اور قتل کی کچھ سزائیں ہیں کچھ وراثت کے قوانین کچھ حدود اللہ اور نماز روزہ زکوۃ جیسے جعلی قوانین خود مرتب کر لیے ہیں۔

سوچئے جلد ہمارے ارد گرد ایک ایسا قانون لاگو ہو گا جو ہے ہی نہیں جس کی کوئی ایک بھی سیدھی بات نہیں یعنی عمل کے قابل۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



6 − four =

%d bloggers like this: