سچ اور جھوٹ

January 4, 2014 at 00:12 , ,
اناالحق؛

سچ کیا ہے؟ جھوٹ کیا ہے؟ یہ دونوں مطلق نہیں ہو سکتےان کے مطلق ہونے کا معیار ان کا کسی ماحول میں موجودگی پر انحصار ہے۔ یعنی جو کوئی بھی کسی نظریہ کے سچ ہونے کا دعوہ کرے گا وہ اس کے تجربات اور مشاہدات کی محدودیات کی بنا پر ہوگا ۔ ممکن ہے جو دعوہ آپ کسی نظریے کو سمجھ کر کر رہے ہوں وہ آپ کا اپنا معیار ہو۔

جیسے سائنسی قانون اور مذہبی قانون ۔ عموما سائنسی قوانین وہ ہوتے ہیں جو بار بار کسی بھی ایک جیسے مقام پر دھرانے کے بعد آنے والے نتیجے کے بعد اخذ کیے جائیں ۔ تو اس کو انسان کی محدود نظر ،فکر، تجزیہ نے اخذ کیا ہو گا جبکہ کائیناتی لحاظ سے وہی چیز نامکمل ہو گی۔

ہم کسی بھی نظریے کو سو فیصد سچ یاں جھوٹ ثابت نہیں کر سکتے جو کچھ عرصہ قبل سچ تھا اور تجربات سے ہی سچ مانا جا رہا تھا آج جھوٹ ثابت ہو چکا ا س لیے بہت سارے جھوٹ سچ ثابت ہو چکے اب آخر سچ کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

اگر ہم اپنے سچ کو سائنسی بنیادوں پر استوار کریں اور یہ اخذ کریں کہ سائنس ہمیشہ سچ بتاتی ہے تو کس طرح ہم سائنسی فلسفہ کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑیں گے یاں پہلے سے موجود سائنسی تحقیق پر قناعت کرتے ہوئےاپنے سائنسی سچ کا انتخاب کریں گے؟ اب کیونکہ کوئی بھی انسان مطلق سچ نہیں پا سکتا تو کس طرح اپ کسی ماضی کی سائنسی سچائی پر آپنے سچ کو ثابت کریں گے؟ جب کہ وہ معیار کسی اور کے معین کردہ ہیں۔

اسی طرح مذہبی سچائی جو بلکل ساکت و جامد سچائی کا دعوہ ہے یعنی کسی ایسے مطلق خدا پر ایمان جس کو حواس سے سمجھا نہیں جا سکتا۔ اور مطلق تو وہ چیز ہوتی ہے جو حواس پر پورا اترے اس سے یہ اخذ ہو اکہ وہ مطلق سچ نہیں ہو سکتا۔

سچ اور جھوٹ کا معیار بھی اپنا ہے ہر انسان کا

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ nine = 10

%d bloggers like this: