سٹیم سیل ( خلیہ جذعیہ) ایک عظیم خلیہ

August 21, 2013 at 00:02 ,

انا الحق؛


سٹیم سیل جو کہ زندگی کا بہت بڑا شاہکار ہے اور سائنس میں اس کو آج کل جو مقام حاصل ہے وہ کسی تعریف کا محتاج نہیں ہے۔ خلیہ جذعیہ جاندار کے جسم کا ایسا خلیہ ہے جو کہ تما م عمر تقسیم ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ خلیہ جسم میں متخصص خلیات بنانے کی استعداد رکھتا ہے یعنی جس عضو میں یہ خلیہ موجود ہوتا ہے اسی عضو کے خلیات بنا دیتا ہے۔ اور اسی بنیاد پر یہ جسم میں انواع و اقسام کے مرمتی افعال انجام دیتا ہے۔

یہ خلیہ تمام کثیر خلوی جانداروں میں پایا جاتا جو کہ مائٹوسیس(انقسام) کے عمل سے تقسیم ہوتا ہے اور بہت سارے مخصوص خلیات بنا کر خود دوبارہ نیا ہو کر مزید سٹم سیل بناتا ہے۔

سٹیم سیل کی اقسام: سٹیم سیل کی اقسام اس ذرائع کے مطابق کی جاتی ہے جہاں سے وہ حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس طرح سٹم سیل کی دو اقسام ہیں۔

خلیہ جذعیہ: کیونکہ جذعی خلیات کو دوسرے مخصوص خؒلیات کا پیشرو کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ان کو سٹیم سیل اور جذعی خلیہ کا نام دیا گیا ہے۔ جذع یعنی اصل دوسرے تمام خلیات کے اصل اور پیشرو ہونے کی وجہ سے ان کو جذعی خلیات کہا جاتا ہے۔

1: جنینی جذعی خلیہ: یہ خلیہ جذعیہ جنین (ایمبریو) سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جب بیضہ سپرم سے مل کر ذائیگوٹ (لاقحہ) بناتا ہے تو اس کے بعد عضو بننے تک کے وقت کو جنین ہی کہا جاتا ہے اس دوران حاصل کیے گئے سٹیم سیل کو جنینی جذعی خلیات کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے اخصاب ( فرٹلائزیشن) کا عمل ٹیوب میں سر انجام دیا جاتا ہے نہ کہ ماں کہ پیٹ میں اس طرح ماں کے پیٹ کے باہر جنین کو بنانے کے عمل کو مختبری اخصاب(ان ویٹرو فرٹالائزیشن) کا عمل کہتے ہیں۔ جب کہ ماں کے پیٹ میں جنین کو بنانے کے عمل کو جسمی اخصاب(ان ویوو فرٹالائزیشن) کا عمل کہاجاتا ہے۔ جنین کے سٹیم سیل پر ابھی تک مذہبی حلقوں میں کوئی واضع خیال موجود نہیں جو کہ اس پر تخقیق کی اجازت دیتا ہو بلکہ اس کی افادیت کو سمجھے بغیر مخالفت کی جا رہی ہے اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تخقیق کو آگے بڑھنا انسانیت کے لیے بہت موفید ہے۔

2:بالغ جذعی خلیات: بالغ جذعی خؒلیات جانداروں کے مخصوص خلیات(متمایزہ خلیات جیسے ہڈی کے خلیات،خون کے خلیات) کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ جبکہ سٹیم سیل بذات خود غیر مخصوص( غیر متمایزہ خلیات) ہوتے ہیں۔ ان غیر مخصوص خلیات کا کام جسم کی مرمت کے لیے مخصوص خلیات پیدا کرنا ہوتا ہے۔ 

         متمایزہ اور غیر متمایزہ خلیات: جسم کی ابتداء ایک واحد خلیہ سے ہوتی ہے اور یہ خلیہ تقسیم ہو کر ایک مکمل جاندار بنا دیتا ہے۔اور اسکی تقسیم سے بننے والے خلیات، جسم بنانے کے لیۓ درکار مختلف اقسام کے مخصوص نسیجی خلیات مثلا جلد، ہڈی ، گوشت ، دماغ اور جگر وغیرہ میں تمیز  ہو جاتے ہیں۔ اب یہ مخصوص نسیجی خلیات جو کسی خاص نسیج میں تمیز پاچکے ہیں متمایزہ خلیات کہلاتے ہیں۔  اور یہ تقسیم ہو کر اپنی ہی نسیج کے خلیات تو بناتے ہیں مگر کسی دوسری نسیج کے خلیات میں تمیز نہیں پا سکتے۔ اور وہ خلیات جو کہ کسی خاص نسیج (مثلا خون، دل، دماغ) کے خلیات بناسکتے ہیں غیر متمایزہ کہلاتے ہیں اور ان ہی کو اسٹیم سیل بھی کہا جاتا ہے۔

سٹیم سیل کی مزید اقسام: پہلی تقسیم سٹیم سیل کے حصول کے مطابق تھی یعنی وہ کن ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔ دوسری اقسام میں سٹیم سیل کی زندگی کے مختلف مراحل میں اس کی اقسام پر مبنی ہے۔

کثیر فعولی خلیات(ٹوٹی پوٹینٹ) فرٹیلائزیشن کے بعد بننے والے زائگوٹ میں کسی بھی قسم کی نسیج کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور یہ صلاحیت مرولہ کے مرحلے تک پرقرار رہتی ہے ایسے خلیات کو ٹوٹی پوٹینٹ کہتے ہیں۔ اور یہ کثیر فعولی خلیہ – زائیگوٹ – اپنی تقسیم سے ایک بالغ جسم بنانے کے لیۓ درکار تمام – تقریبا 200 اقسام – کے خلیات بنادیتا ہے۔ اسکی نہایت عمدہ مثال ہم لاقحہ (ہومو زائیگس) جڑواں بچے ہیں جو کہ موورولا سے الگ ہوجانے والے دو کثیر فعولی خلیات سے بنتے ہیں۔

    متعدد فعولی( پلوری پوٹینٹ) یہ ایسا خلیہ ہے جو کہ تینوں ایمبریونیک لئرز(جنینی طبقات) سے بننے والی ہر نسیج کے خلیات بنا سکتا ہے۔

ایمبریو کی تین تہیں ہوتی ہیں:

 اندر سے باہر کی جانب انڈوڈرم

وسط میزوڈرم

باہر والی کو ایکٹو ڈرم کہا جاتا ہے

واحد فعولی ( یونی پوٹینٹ) کا لفظ عام طور پر بالغ جاندار کے خلیات پر لاگو کیا جاتا ہے اور اس سے مراد ایسے خلیات کی ہوتی ہے کہ جو کہ صرف ایک ہی طرح کی نسیج کے خلیات پیدا کرسکتا ہے جیسا کہ اسکے نام سے ظاہر ہے۔ اور اسطرح یہ خلیات اس مخصوص نسیج کی مرمت کا فعل انجام دیتے ہیں۔ لیکن جب کوئی ایسا نقصان پیدا ہوجاۓ کہ جسکی مرمت کے لیۓ مختلف اقسام کے خلیات کی ضرورت ہو تو پھر متعدد فعولی خلیات حرکت میں آتے ہیں۔

تعارف کے بعد قارین سٹیم سیل کو مکمل طور پر سمجھ گئے ہیں اور اس کی افادیت کو سمجھنا باقی ہے جب اس کی موجودہ دور میں تحقیق پر نظر ڈالیں تو سٹیم سیل نے حیاتیات کے شعبہ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

بی بی سی نیوز سے لی گئیں سٹیم سیل پر حالیہ تحقیق کی اہم سرخیاں

1: امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کلوننگ کے ذریعے ابتدائی ایمبریو پیدا کیا ہے جو کہ علاج کے شعبے میں ایک بہت بڑا قدم ہے۔

یہ کلون کیے گئے ایمبریو سٹیم سیل کے لیے ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیے گئے تھے جس کی مدد سے دل کے پٹھے، ہڈیاں، دماغ کے ٹشو اور انسانی جسم میں کسی بھی قسم کےسیل بنائے جا سکتے ہیں۔

یہ دعویٰ ایک تحقیق میں کیا گیا ہے جو ایک جریدے ’سیل‘ میں شائع کی گئی اور اس کلوننگ میں وہی طریقہ استعمال کیا گیا جو برطانوی کلون شدہ بھیڑ ڈولی کے بنانے میں استعمال ہوا تھا۔

2: بندروں پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق لڑکپن میں کینسر کے علاج کی وجہ سے مادۂ منویہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہونے والے افراد بھی ایک دن اپنے محفوظ شدہ سٹیم خلیوں کی مدد سے دوبارہ اس قابل ہو سکتے ہیں۔

کینسر کے علاج کے لیے کی جانے والی کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی نہ صرف ٹیومر کو ختم کرتی ہے بلکہ ان خلیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جو مادۂ منویہ پیدا کرتے ہیں۔

سٹیم سیل نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کینسر کے علاج کے آغاز سے قبل مادۂ منویہ پیدا کرنے والے سٹیم خلیے حاصل کیے گئے جنہیں بعدازاں ایک بندر کے جسم میں داخل کر دیا گیا۔

3: برطانوی سائنسدانوں نے ایک مریض کے اپنے ہی خون سے اس کے ذاتی استعمال کے لیے سٹیم سیل بنایا ہے۔

ڈاکٹروں کو امید ہے کہ بالاخر اس سے مختلف قسم کی بیماریوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ سٹیم سیل حاصل کرنے کے آسان ترین اور محفوظ ترین طریقوں میں سے ایک ہوگا۔

عالمی طبی جریدے ’سٹیم سیل: ٹرانسلیشنل میڈیسن‘ میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سٹیم سیل کا استعمال شریان بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



one + = 8

%d bloggers like this: