رونے کا عمل

August 31, 2013 at 07:05
انا الحق؛

ہیجانی حالت میں آنسو کو پیدا ہونا ایک خاص عمل ہے جس کے پیچھے پیچیدہ فعلیات اور نفسیات کار فرما ہوتی ہے۔ یہ آنسو لیکریمل اپریٹس (غدہ معئ) سے خارج ہونے والی نمکین اور شفاف رطوبت ہے۔انسانی آنکھ کو بغیر خارش کیے یہ عمل جاری رہتا ہے۔ لیکریمل غدہ اور اس کے اعصاب کا دماغ سے تعلق ہے کچھ سائنسدان یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ صرف انسان ہی ہیجانی آنسو بہاتا ہے۔انگریزی میں لیکری میشن جو لاطینی سے ماخوذ ہے لیکریما مطلب آنسو

چارلس ڈارون نے اپنی کتاب دی ایکسریشن آف ایموشن ان میں اینڈ اینمل میں لکھا ہے کہ” انڈین ہاتھی لندن چڑیا گھر میں روتے ہوئے پائے گئے”

اس کے علاوہ آنسو آنکھوں سے نکلنے والی رطوبت ہے جو آنکھوں کو تر رکھتی ہے اور رگڑ سے بچاتی ہے۔

آنسوؤں کی قسمیں:

بنیادی آنسو: صحتمند پستانیے کی آنکھ میں موجود قرنیہ ہر وقت تر رہتا ہے یہ بنیادی آنسو ہوتے ہیں۔ یہ آنکھ کو تر رکھنے کہ لیے ہوتے ہیں ان میں میوکن، لیپڈ، آیسوزئم، گلوکوز، یوریا، اور سوڈیم ، پوٹاشیم، اور کچھ مادے بیکٹریا سے لڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ بنیادی آنسووں کی کیمیائی ترکیب ہے۔

اضطراری آنسو:یہ آنکھ میں جلن اور خارش کی وجہ سے بنتے ہیں مثلا پیاز اور آنسو گیس کی وجہ سے بننے والے یہ آنسو جمائی ، الٹی ، اور کھانی میں بھی بنتے ہیں۔

ہیجانی آنسو:ہیجانی آنسوؤں کے پیدا ہونے کے عمل کو رونا بھی کہا جاتا ہے یہ آنسو غصے ، غم ، خوشی میں نکلتے ہیں۔

ہیجان میں پیدا ہونے والے آنسو مختلف کیمیائی خاصیت رکھتے ہیں۔

پرولیکٹن ، ایڈرینوکارٹیکوٹوروفیک ہارمون پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ لوئی مسین اور اینکفلین جو کہ قدرتی دافع درد ہیں خارج ہوتے ہیں۔

رونا ایک فائدہ مند عمل ہے اور جو کوئی اپنے انسو روکتا ہے وہ نفسیاتی اور فعلیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ وراثتی طور پر ایک بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جس میں نہ صرف مریض رو نہیں سکتا بلکہ مشکل اور دباؤ والے حالات کو برداشت کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔( فیملیال ڈسانوٹنیا)

تحقیق سے بات ثابت ہے کہ ہیجانی اور اضطراری آنسووں میں بہت فرق ہے بنیادی آنسوؤں میں مینگانیز کی مقدار ہوتی ہے جس سے جسم کا مینگا نیز لیول کم ہو جاتا ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



8 + eight =

%d bloggers like this: