راولپنڈی عاشورہ فسادات: پس پردہ حقائق

November 22, 2013 at 08:08 , , ,
فیصل مسعود؛

سب سے پہلے میں اس ویڈیو کا ذکر کرونگا جس میں انتہا پسند سپاہ صحابہ کے کارکنان نے مسجد کی چھت سے نہ صرف پتھراؤ کیا بلکہ فائرنگ بھی کی.اس ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد کی چھت سے نہ صرف پتھراؤ کیا جارہا ہے بلکہ فائرنگ بھی کی جارہی ہے۔

اس ویڈیو میں آپ صاف دیکھہ سکتے ہیں کہ مسجد سے پتھراؤ اور فائرنگ کے وقت مسجد میں کوئی آگ لگی ہوئی نہیں تھی۔


اس ویڈیو میں آپ صاف دیکھ سکتے ہیں کہ آگ مسجد کی پچھلی طرف سے اٹھ رہی ہے، حالانکہ مسجد کا دروازہ اس وقت تک بند ہے اور نا ممکن ہے کہ جلوس کے شرکاء پیچھے جاکر کسی بھی صورت میں وہاں آگ لگاسکیں.شیخ رشید مسلسل یہ بات لوگوں کو سمجھارہے ہیں کہ اندر سے آگ کا لگنا بہت بڑی سازش تھی۔ تاجروں کا نمائندہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ آگ بڑی منصوبہ بندی سے لگائی گئ تھی.اور صرف مسجد کے انتظام میں آنے والی دکانوں کو آگ لگی ہے اور دائیں بائیں کی ایک بھی دکان کو آگ نہ لگی اور نہ نقصان پہنچا.یہ دکانیں قیام پاکستان سے کرائے پر چڑھی ہیں اور ان کا کرایہ صرف سو روپے تھا جو کہ مسجد کو جاتا تھا ان کو خالی کروانے کا سب سے اچھا طریقہ تھا کہ ان کو آگ لگادو۔ مارکیٹ کے لوگوں اور دکانداروں کے مطابق بھی مسجد انتظامیہ کا مارکیٹ انتظامیہ سے شدید اختلافات کا سلسلہ کافی عرصے سے چل رہا تھا اور پھر مارکیٹ کو آگ لگانے کی وڈیو میں مدرسے کے طلبا کا موجود ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے.یہ والی ویڈیو دیکھیں اس میں عینی شاہد کہہ رہا ہے کہ آگ سپاہ صحابہ والوں نے خود لگائی ہے۔

شیخ رشید نےکہا کہ راجہ بازار نہیں جلا ہے بلکہ مسجد کےساتھ کی دکانیں جلائی گئی ہےانہوں نےکہا کےجن لوگوں نےمسجد پر حملہ کیا انکو مسجد کےراستےکا تمام علم تھا انہوں نےکہا کہ مسجد میں زخمی ہونےوالےلوگ ہسپتالوں سے بھاگ گئے۔

مدرسے کے طالب علم خود مارکیٹ کو آگ لگانے میں مصروف ہیں
ویڈیو میں صاف ظاہر ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو آگ بھی لگا رہے ہیں اور ویڈیو بھی بنا رہے ہیں۔

حکومت کہ رہی ہے کہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھہ علاقوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔
Click here to read Ch Nisar statement
جنگ اخبار کا رپورٹر احمد نورانی صاف یہ کہہ رہا ہے کہ عاشورے سے قبل جوٹویٹ کیے گۓ تھے کہ سپاہ صحابہ والے مسجد میں جمع ہوکر شیعہ جلوس کو روکیں تو وہ ٹویٹر اکاؤنٹ بلکل اصلی ہیں اور احمد لدھیانوی اس ٹویٹر اکاؤنٹ کو خود بھی فالو کرتا ہےاحمد نورانی کے مطابق اس کو یہ سازش بے نقاب کرنے پر سپاہ صحابہ والوں نے اس کو جان سے مارنے کی بھی دھمکی دی ہے۔


مولانا طاہر اشرفی کھل کر کہ رہے ہیں کہ یہ فساد سپاہ صحابہ کا کروایا ہوا ہے اورسپاہ صحابہ کا ایجنٹ تاجی کھوکھر اس میں ملوث ہے۔

مندرجہ ذیل ویڈیو میں دیکھیں گے تو آپ کو اس ویڈیو میں تاجی کھوکھر کا ایک گن مین کالے کپڑے میں ملبوس ایک طالب علم پر تشدد کرتے ھوۓ ملے گا حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طالب علم کو بچانے والوں کو سپاہ صحابہ والوں نے مارنے والا لکھا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاجی کھوکھر کا آدمی کالے کپڑے میں کیا کر رہا تھا ؟اس ویڈیو سے اور طاہر اشرفی کی باتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سپاہ صحابہ کے دہشت گرد کالے کپڑے میں بیگناہ سنیوں پر تشدد کرنے کے لئے اور جلوس کو خراب کرنے کے لئے جلوس میں شامل ہوۓ تھے۔اس بات كى تحقيقات كى ضرورت ہے كہ سانحه تعليم القران مين تاجى كهوكهر كا كيا كردار ہے اس كے گن مين وہاں کیوں تھے؟ طاہر اشرفی نے ان کی پول پٹی کھول کر رکھہ دی ہے کہ فسادات میں یہ لوگ خود ملوث ہیں۔

سپاہ صحابہ نے سوشل میڈیا میں جھوٹا پروپیگنڈا کیا کہ ٩٠ افراد قتل ھوۓ بعد میں پتا چلا کہ ١١ افراد تھے اور یہ بھی کہا گیا کہ معصوم بچوں کے گلے کاٹے گئے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ تصاویر عرب ممالک شام اور عراق کی تھیں۔

سپاہ صحابہ نے فسادت کروانی کی بہت سازش کی مگر طاہر اشرفی اور دیگر دیوبندی اور بریلوی علماء نے اس کی سازش ناکام بنادی.
آخر وہ کون سی کالعدم تنظیم ہے جس کے افراد خود کش جیکٹ سمیت پکڑے جاتے ہیں، کھلے عام دوسروں کو کافر اور مشرک کہتے ہیں مگرمیڈیا سمیت اکثریت ان کا نام لینے کے بجائے صرف کالعدم کالعدم کہتی ہے ؟؟ یہ مٹھی بھر خارجی ہیں جو شیعہ سنی اتحاد نہیں چاہتے۔ ان کا عزم ہے کہ سنیوں کو شیعوں کے خلاف کھڑا کر دیں ۔۔ لیکن رسول اکرمﷺ کا کلمہ گو بیوقوف نہیں کہ وہ اپنے ہی جیسے دوسرے کلمہ گو سے دست و گریبان ہو جائے.. مرض کو دبانے سے مرض ختم نہیں ہوجائے گا، وقت آگیا ہے کہ اہل سنت اور شیعہ مل کر سپاہ صحابہ کے ناسور کوچیلنج کریں ورنہ جو ہو رہا ہے خدانخواستہ اس سے بد تر نہ ہوجائے ۔ اب حکومت یہ فیصلہ کر لے وہ اس ملک میں لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسی تنظیمیں چاہتی ہے یا امن۔ یہ لوگ ہیں ہی دہشتگردانکا کام صرف پاکستان میں شیعہ اور سنی کولڑوانہ ہی ہے۔جبکہ انکا خوددور دورتک اہلسنت سے کوئ تعلق نہیں ہے۔اس سانحہ کے بعد سپاہ صحابہ نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ جلوسوں پر پابندی لگانے سے امن ہو جائے گا جبکہ مہذب قومیں کھلےعام مذہبی جلوس تمام دنیا میں نکالتی ہیں. مسئلہ عوام کے جلوس نہیں دہشتگرد ہیں۔ عوام کو نہیں، درندوں کو بند کیا جائے امن جلوس پر پابندی سے نہیں بلکہ انتہا پسند سپاہ صحابہ کے حامی مولویوں اور طالبان کو بند کرنے سے آۓ گا۔

یہ پوسٹ “آؤ پاکستان تعمیر کریں” کے بلاگ سے نشرمکرر کی گئی ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 + = sixteen

%d bloggers like this: