رائیگاں قربانی؟ لطیف جوہر کے نام خط

میرے بھوک سے تقریبا مر چکے بھائی لطیف بلوچ ! آداب
اس وقت تم کیوں یاد آئے؟ اس لیے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بہت بھوک لگی تھی، پورے آٹھ گھنٹوں سے کچھ نہیں کھایا تھا،کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا..لیکن سنا ہے تم نے انتالیس دنوں سے کچھ نہیں کھایا؟ اور سنا ہے تمہارا مطالبہ ہے کہ تمہارے ایک ساتھی کو ریاستی مجاہد و محافظ اٹھا کے لے گئے ہیں، اب وہ اسے چھوڑ نہیں رہے.. یہی ہے نا ؟

اے میرے بیوقوف بھائی! کیا تمہیں واقعی لگتا ہے کہ تمہیں بھوکا پیٹ مرتا دیکھ کر ان کے دلوں میں رحم آ جایگا، کیا تمہیں واقعی لگتا ہے کہ ایک غریب اور پھر سوشلسٹ بلوچ ہوکر تمھاری آواز میں وہ زور ہوگا، وہ شور ہوگا جو نواز شریف اور جنرل راحیل کے کانوں تک پہنچے ؟ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تیرے دوستوں کو انہی نے اغواء کیا ہے، اور پورے سامراج کے ایماء پر کیا ہے؟ کیا تمہیں واقعی نہیں لگتا کہ تم بھوک سے مر کر ان کی ایک گولی کی بچت کررہے ہو ؟

میرے بھائی تم سمجھدار لگتے ہو ، پھر تمہیں کیونکر یہ سوچ نہ آئی کہ سرزمین پاک پر ایسے احتجاج سے باتیں منوانے کا رواج نہیں؟ تم نے طالبان کو نہیں دیکھا جنہوں نے دھماکے کیے، مسجد، مندر، گرجا گھر اڑائے، لوگوں کے گلے کاٹے، ان کے سروں سے فٹبال کھیلا….تب آ کر بات کی تو ان کی بات میں بہت وزن ہے آج کل تمھاری بات میں وزن ہوتا، تمہارے آگے پیچھے میڈیا ہوتا،صحافی تمھاری واہ واہ کررہے ہوتے، لوگ ڈرتے تم سے ، دنیا تمہیں اہمیت دیتی، تمھاری بات سنتی ، تم سے کچھ لو اور کچھ دو کرتی اگر تم کچھ ایسا ہی کرتے……..

اب بھی وقت ہے، اٹھو، جاؤ ..بندوق اٹھاؤ اور شروع ان سے کرو جو تمہارے حق میں مظاہرے کررہے ہیں ، پھر ان کو جو تمہارے خلاف ہیں، پھر اسکول ، مدرسہ، چوک ، بازار ، منڈی……غرض ہر جگہ خون سے نہلا دو …… پھر بلوچیوں سے شروع کر کے ستر ہزار سندھی اور پختونوں سے گزر کر جب پنجاب تک پہنچنے لگوگے……تب تک نہ صرف تمہارا قید ساتھی رہا ہوچکا ہوگا بلکہ تمام مسنگ پرسنز کے جیل ٹوٹ چکے ہونگے۔

ایسے لیٹے رہنے سے تم اپنی ماں اور بہنوں کے علاوہ کسی کو تکلیف نہیں دے رہے، کسی کو بھی نہیں، چترال سے لے کر بولان تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں کہ تم کسی مقصد کے لیے انتالیس دن سے بھوکا لیٹے مر رہے ہو، کیونکہ چترال سے لے کر اٹک تک لوگ الیکشن والی دھاندلی کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں، اور اٹک سے اس پار والے اس دھرنے کے خلاف دھرنا ….اسلیے مخلصانہ مشوره ہے….اٹھو، کچھ کھا پی لو اور اگر اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم سے کم کسی بازار میں خودکش ہی کرلو….یقین کرو اس سے کچھ فائدہ تو ہوجائیگا، ایسے مرنے سے کوئی فائدہ نہیں

فقط آپ کا خیر اندیش ڈرپوک

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



six + 6 =

%d bloggers like this: