خود احتسابی

November 23, 2013 at 11:42 , , ,
محمد عمر؛

جس دور میں ہم نے شعور کی آنکھ کھولی اس وقت رابطے کے جدید ذرائع یا تو ابھی اپنے طفلانہ دور سے گزر رہے تھے، یا ان کی رسائی بہت محدود لوگوں تک تھی۔ کتاب معلومات کا واحد ذریعہ تھی اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے ذرائع بھی محدود ہوا کرتے تھے۔ اور پھر اس ملک خداداد میں اسی کی دہائی سے زبان و بیان پر جو قدغنیں عائد کی گئی تھیں، ان کی موجودگی میں عقلیت پر مبنی آزاد خیال سوچ کی ترویج بعض اوقات جان جوکھوں کا کام ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ یہ سوچ ایک محدود طبقے سے آگے نہ بڑھ سکی۔ کچھ ڈر کی وجہ سے خاموش رہے، کچھ سماجی دباؤ کے زیر اثر خود فریبی میں مبتلا ہو کر تنگ نظری کی جانب پلٹ گئے اور جو ہجرت کے متحمل ہو سکتے تھے، وہ بیرون ملک ہجرت کر گئے۔ دوسری جانب تنگ نظر سوچ کا پرچار سرکاری ذرائع ابلاغ سے لے کر تعلیمی اداروں اور حکومتی پشت پناہی میں کام کرنے والے نام نہاد دانشوروں سے لے کر مساجد کے منبروں تک ہر جگہ ڈنکے کی چوٹ پر کیا جاتا رہا۔ نتیجتاً پورا معاشرہ جہالت کی بے کراں گہرائیوں میں گر گیا۔

اس صورتحال میں تبدیلی انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے رواج پا جانے سے ہوئی۔ پڑھے لکھے طبقات کی رسائی معلومات تک ہوئی، بیرونی دنیا کی جھلک اب لوگوں کو اپنے کمروں میں میز پر بیٹھے دکھائی دینے لگی اور غیر ملکوں کی ثقافت اور وہاں کے حالات جاننے کا موقع ملا۔ یوں بند ذہنوں پر عقل نے دستک دینا شروع کی اور سوچ پر پڑے پردے اٹھنا شروع ہوئے۔ اظہار خیال کی الجھن سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے حل کر دی ۔ اب یہ آپ کے اپنے اختیار میں تھا کہ چاہے آپ اپنے اصلی نام سے اپنے خیالات کا اظہار کریں یا اگر آپ کسی وجہ سے خوفزدہ ہیں تو صرف ایک جعلی نام اختیار کیجئے اور اپنے نظریات کا پر چار کیجئے ۔یوں سلسلہ چل نکلا اور تا حال جاری ہے۔ اگرچہ اس راہ میں ابھی بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں اور قدم قدم پر رجعت پسند قوتیں اپنے نت نئے ہتھکنڈوں کے ساتھ گھات لگائے بیٹھی ہیں ،تاہم قافلہ چل پڑا ہے تو منزل پر بھی پہنچ ہی جائے گا۔ امید فتح رکھو!

تنگ نظری کے خلاف اس جدوجہد میں شامل افراد نے اپنی اپنی بساط اور مزاج کے مطابق حصہ ڈالا۔ کسی نے تحقیق کی، کسی نے بحث و مباحثے سے دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کی، کسی نے تحریریں لکھیں اور کچھ نے محض مروجہ خیالات کا کھلے عام مذاق اڑانے پر اکتفا کیا۔ طریقہ کار جو بھی رہا ہو، مختصر عرصے میں ہی ہر طرف روشن خیال سوچ کی کرنیں پھیلنا شروع ہوگئیں۔ نو واردین بچوں کی سی معصومیت سے صحن میں دھماچوکڑی مچانے لگے، پرانے کھلاڑیوں نے ذہنوں پر جمی دھول صاف کی، زمانے کے بدلتے انداز سیکھے اور میدان میں اتر پڑے۔ رجعت پسندی کو شکست دینا تو ابھی بہت دور کی بات لگتی ہے تاہم اب ترقی پسند آوازیں دن بدن بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ بجا طور پر خوش آئند سہی لیکن یہاں سے خود احتسابی کا عمل شروع ہوتا ہے، مبادا یہ کہ کوئی قدم غلط راہ پر پڑ جائے۔ تبدیلی کا راستہ روکنا تو اب نا ممکنات میں سے ہے لیکن ہماری غلطیاں منزل کو ہم سے دور اور راستے کو کٹھن بنا سکتی ہیں۔یہاں چند لمحے کو رک کر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا اور ہم پر جو بھاری ذمہ داریاں ہمارے شعور نے عائد کر دی ہیں، ان کا ادراک کرنا ہوگا۔

اظہار کی خواہش شعورکا لا زمی نتیجہ ہوا کرتی ہےاور حق دل میں اتر جائے تو انا الحق کا نعرہ سینہ چیر کر بھی باہر آ جاتا ہے۔ ہر ایک شخص اپنے ظرف کے مطابق اظہار کے طریقہ کار کا چناو کرتا ہے ۔ مذہب اور حب الوطنی کی آڑ میں جاری ریاستی جبر اور مروجہ عقائد و روایات کے اندر موجود تضادات اور مضحکہ خیزی پر تنقید کا سلسلہ جب سے سماجی رابطے کی سائٹس پر شروع ہوا ہے، احباب نے دو راستے اپنائے؛ کچھ نے دلائل اور حقائق اکٹھے کئے اور کچھ نے مروجہ عقائد کا سر عام مذاق اڑا کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اس فلسفیانہ بحث سے قطع نظر کے آیا ایک جیسے عوامل ہمیشہ ایک جیسے نتائج کو ہی جنم دیا کرتے ہیں یا نہیں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک جیسے عوامل عمومی طور پر ایک جیسے نتائج ہی کا باعث بنتے ہیں۔ کچھ یہی صورتحال اظہار کے طریقے اور اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ نتائج کی ہے۔ایک مخصوص انداز میں لکھی ہوئی تحریر کم و بیش ایک جیسے نتائج ہی پیدا کرتی ہے۔ یہاں انداز سے ہماری مراد جدید ادب کے لکھاریوں کے لکھنے کے پیچیدہ طریقہ کار نہیں بلکہ ایک عام آدمی کی نظر سے دکھائی دینے والے اظہار کے مختلف طریقہ کار ہیں۔ مزاح دلوں کو گرماتا ہے تو حقائق اور دلائل سے بھرپور تحریر سوچنے پر مجبور کرتی، ذہن کی بند کھڑکیاں کھولتی اور نظریاتی مغالطوں کے ازالے کا کام سر انجام دیتی ہے۔

ہمیں ان دونوں طریقہ ہائے کارسے کسی قسم کا اختلاف نہیں، کہ ہر ایک کے اپنے اپنے فوائد اور اہداف ہوا کرتے ہیں۔ دونوں ہی طریقوں سے ماضی پرستوں اور عقل دشمنوں کی پیش قدمی کا راستہ روکا جا سکتا ہے لیکن ہماری رائے میں فقط تمسخر اڑانے پر اکتفا ایک بند گلی میں گھس جانے کے مترادف ہے۔ کہ ایک دفعہ گھس جانے کے بعد واپسی کا راستہ تو ہے، یہ گلی آپ کو کسی اگلی منزل کی جانب لے کر نہیں جا سکتی۔ مروجہ عقائد جن کے شعور میں گندھے ہوئے ہوں ان کے کان کھولنے کو تو تمسخر یقیناً موثر ہو سکتا ہے، مگر لاشعور کی گہرائیوں میں پنہاں بتوں کو پاش پاش فقط دلیل، منطق، علم اور درست معلومات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ تمسخر آپ کے نظریاتی مخالف کی انا کو ٹھیس تو پہنچا سکتا ہے مگر اس کی دلائل پر مبنی گفتگو(بھلے ہی کتنے بودے دلائل سے لیس ہو) ایک منٹ میں آپ کی تحریر کا اثر مکمل طور پر زائل کر سکتی ہے۔

تمسخر پہلے سے تبدیل شدہ ذہنوں کو یقیناً بہت بھاتا ہے۔ اپنے نظریات کے حق میں کسی دوسرے کے منہ سے سننا ویسے بھی بھلا لگتا ہے، لیکن اگر یہ مزاح میں ہو تو اور بھی دل کو لبھاتا ہے، کہ آخر شام کو دوستوں کی محفل میں ٹھٹھہ کرنے کو بھی تو کچھ چاہئے ۔لیکن ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کوئی شخص یوں ٹھٹھے مذاق کو سن کر مروجہ عقائد سے متنفر ہوا ہو۔ اس کا الٹ اثر البتہ زیادہ دیکھا گیا ہے، جن عقائد کی بنیاد ہو اندھی تقلید پر ہو، اس کے ماننے والے ایسے ٹھٹھے مذاق کے زیر اثر اور زیادہ دفاعی طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور قائل تو کیا ہونا، مزید شدت پسندی کی جانب مائل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یو ں ٹھٹھی بازی اور نظریاتی جگت بازی الٹا مقصد کے منافی ثابت ہوتی ہے۔ بجا کہ آپکو وسعت اللہ خان اور یاسر پیرزادہ بہت پسند ہیں اور آپ لا شعوری طور پر ان کی نقالی میں بھی مصروف ہیں، لیکن ذرا اپنے دل میں جھانک کر سوال کیجئے کہ کیا جن نظریات پر آپ آج ہیں وہ وسعت اللہ اور یاسر پیرزادہ کے کالموں سے پروان چڑھے یا اس کے لئے آپ کو کچھ اور کتب و رسائل، اپنے دماغ اور اپنے احلقۂ احباب کے کچھ دوستوں کی مدلل گفتگو پر انحصار کرنا پڑا؟ اور میں جانتا ہوں کہ آپ کا جواب کیا ہو گا۔

شاہد آفریدی کے چھکے سبھی کو بھاتے ہیں، جب بھی شاہد آفریدی گراونڈ میں داخل ہوتا ہے ہجوم اس کی پر فارمنس دیکھنے کو بے تاب ہو جاتا ہے۔ تالیوں کی گونج، مداحوں کے دلوں کی دھڑکنیں، کمنٹیٹروں کا لہجہ، سب کچھ ایک دم تیز ہو جاتا ہے۔ لیکن شائد ہی کوئی ایسا سنجیدہ کرکٹ شناس ہو جو آفریدی کے طرز کرکٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہو۔ شائد ہی کرکٹ کا کوئی استاد اپنے شاگردوں کو آفریدی کے طرز کرکٹ پر تربیت دیتا ہو۔ ہجوم سے دادوتحسین کی خواہش کسے نہیں ہوتی لیکن کچھ لوگ فقط تالی کے لئے کھیلتے ہیں، اور ہماری رائے میں آفریدی ان میں سے ایک ہیں۔ ہمارے نو وارد آزاد خیالان میں بھی بہت سے آفریدی پائے جاتے ہیں۔ فیس بک پر لائکس کے لئے لکھنے والے، ٹویٹر پر ری ٹویٹ کی خاطر لکھنے والے۔ لامحالہ ایسے لوگ فقط کراوڈ کے لئے لکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو مگر یاد رکھنا چاہئے کہ آفریدی کے چھکوں سے زیادہ میچ مصباح کی دانشمندانہ اننگز نے جتائے ہیں۔ ہجوم سے دادوتحسین کی خواہش بجا، لیکن لبرل ازم کے ان شاہد آفریدیوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب ٹیم پر مشکل وقت آتا ہے تو مصباح جیسے ٹک ٹک کھلاڑی ہی ٹیم کی نیا پار لگاتے ہیں، آفریدی جیسے صفر پر آوٹ ہو کر پویلین میں جا بیٹھتے ہیں اور ڈریسنگ روم سے ٹیم کی جیت یا ہار کا ملاحظہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کو بے شک اپنے مضبوط بازووں پر بے حد اعتماد سہی اور آپ بلا ہوا میں اس زور سے گھمانے پر قادر ہوں کہ گیند سٹیڈیم سے ہی باہر جا گرے، لیکن یہ یاد رکھئے گا کہ آپ کا یہ عمل آپ کو ہجوم سے دادوتحسین تو دلوا سکتا ہے، تالیاں شائد بے تحاشا مل جائیں، لیکن ایسی تالیوں کا کیا فائدہ جب آپ کی پرفارمنس نہ آپ کو کوئی فائدہ دے سکے نہ ٹیم کو نہ ملک کو۔ اور آپ اگلی ہیں گیند پر آوٹ ہو کر پویلین میں بیٹھ کر نظارا کرنے لگیں اور انتظار کریں اگلی باری کا جب آپ پھر اس طرح گراونڈ میں اتریں گے، ایک دو چھکے لگائیں گے اور پھر خاموشی سے پویلین میں جا بیٹھیں گے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 4 = three

%d bloggers like this: