حکیم اللہ محسود کی ہلاکت اور اسلامی نظامِ خلافت

November 3, 2013 at 17:58 ,
خاک نشین اور امام دین کی مشترکہ کاوش؛

امریکن ڈرون حملے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کو اسکے قریبی ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا گیا۔ حکیم اللہ کی موت کے ساتھ ہی نئے امیر کے تقرر کے لیے کوششیں شروع ہوگئیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کے دو مختلف متحارب گروہوں کےاجلاس ہوئے۔ ایک وزیرستان میں اور دوسرا نورستان میں۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ طالبان نئے امیر کا تعین کس ضابطہ یا اصول کے تحت کریں گے۔

طالبان کے نئے امیر کی تعیناتی اسلامی نظام خلافت کی ہی ایک کڑی ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امیر کی تعیناتی میں صرف چند خواص شریک ہیں، عام طالبان، یا اُس علاقے کے عام مسلمانوں خواہ وہ کتنے ہی مومنین یا سوشل ورکر کیوں نہ ہوں اس عمل میں ان کی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔ بے یقینی کی سی صورت حال ہے۔ گروہ بندی اور تفریق کا اندیشہ ہے۔ طاقت کے بل بوتے پے فیصلہ ہو گا۔ جو زیادہ طاقتور ہو گا وہ امیر بن جائے گا۔

یہ سب کچھ نیا نہیں ہے حکیم اللہ محسود کا تقرر بھی اسی طرح ہوا تھا جب بیت اللہ محسود ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تو اس کے بھی دو دھڑے بن گئے جس میں ایک کی سربراہی حکیم اللہ محسود جبکہ دوسرے کی سربراہی قاری زین الدین کے پاس تھی۔ حکیم اللہ محسود نے خلافت کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے قاری زین الدین کے محافظ کو خرید کر اُسے سوتے میں قتل کروادیا۔ یہ سب اسلامی نظام خلافت کی دین ہے۔ یہی کچھ گزشتہ ١۴٠٠ سال میں خلافت کے نام پے کیا گیا۔ مذہب کے نام پے آمریت قائم کی گئی۔ اسی آمرانہ نظام کو مذہب کے لبادے میں چھپا کر مقدس بنا دیا گیا۔ جبکہ حقیقت میں ہر نئے امیر یا خلیفہ کی تعیناتی خون، بربریت، وحشت اور غیرانسانی رویوں سے عبارت ہے۔

مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی خلیفہ کی جانشینی بھی خون بہائے بنا عبارت نہیں ہوئی۔ جتنا بڑا مسلمان حاکم تھا اس کی گدی اتنے ہی زیادہ انسانی لہو سے آلودہ تھی۔عام آدمی کا اس عمل میں کوئی لینا دینا نہ تھا۔ ایسے طاقت کے بل بوتے پر عام عوام پر مسلط ہونے والاخود کو کسی کو جواب دہ بھی نہیں سمجھتا۔ لہذا اپنی عوام کو وہ صرف ٹیکس اکٹھا کرنے کےلیے خدا کی بنائی مخلوق سے زیادہ کوئی حثیت نہیں دیتا۔ حاکمیت کے نام پر وہ خو کو ان سے زندگی کی ہر دوڑ میں الگ اور آگے رکھتا ہے۔ کسی بھی اہم موقع پر عوام، ملک و قوم کے مفادات کی بجائے ذاتی مفادات اور ایجنڈے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حال ہی میں قذافی، صدام حسین اس کی روشن مثالیں ہیں جنہوں نے سالہا سال حکومت کی اور عوام کے ہاتھ کچھ نہ آیا،سوائے کم سن بچوں کی اموات کے۔ ایک ہی ملک کے عوام دو سے تین طبقات میں تقسیم کر دیے گئے۔ ایک حاکم اور اس کا خاندان دوسرا اس کی حکومتی مشنری جبکہ تیسری عام عوام۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی بہتری کے لیے کسی نے چودہ سو سال میں کچھ نہ کیا۔

طاقتور جنگجو ہی خلیفہ یا امیر بننے کا اہل ہے۔ آج کے دور کا مُلا اسی نظامِ خلافت کا مدعی ہے اور اسی نظام کو رائج کرنے کے لیے بےتاب ہے۔ اسی نظام کو اسلامی نظامِ حکومت کہا جاتا ہے۔ عام لوگ چند لمحوں کے لیے سوچیں کیا وہ ایسے نظام جس میں خلیفہ اور امیر کے تعین، مدت خلافت اور انتقال اقتدار کے اہم مراحل کا کوئی واضح حل نہ ہو۔ جہاں ہر خلیفہ کی موت پر منصبِ خلافت کو طاقتور جنگجو گروہوں کے رحم وکرم پے چھوڑ دیا جائے۔ جہاں عام لوگوں کی رائے کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ ایسے نظام کو اپنے اوپر مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ ایسا نظام کس طرح قابل عمل ہوسکتا ہے اور جدید دنیا میں رائج کیا جاسکتا ہے؟ یہ نظام قدیم عرب بدووٴں کا آمریت، وحشت، قبائلی عصبیت اور استحصال سے رقم نظام ہے۔ جس کی عصر حاضر میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



nine − 7 =

%d bloggers like this: