حلال سائنس

July 21, 2013 at 01:59
ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

ترکی کے شہر استنبول میں مقامی یونیورسٹی کے زیرِ انتظام “حلال سائنس ” کے موضوع پر ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے قریب 200 افراد نے شرکت کی۔ قلعہء اسلام المعروف “الباکستان” سے خصوصی وظائف پر چار خواتین سمیت دس افراد نے شرکت کی۔

ڈاکٹر امت آلصبور ربوہ چناب نگر سے تعلق رکھتی تھی اور ربوہ ہی میں مقامی ہاسپٹل میں پریکٹس کر رہی تھی۔ عائشہ عمر خان کا تعلق پشاور سے تھا اور وہ کالج میں بائیو کیمسٹری لیب اسسٹنٹ تھی لیکن اپنی باتجوید قرات کی وجہ سے باقاعدہ حافظہ و قاریہ عائشہ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ مہناز قادری کا تعلق یوں تو پاکپتن شریف سے تھا لیکن وہ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھی اور ایم ایس سی زووالوجی کر رہی تھی۔ جبکہ سیدہ زہرہ خانم کا تعلق ملتان سے تھا اور وہیں پر ایک یونیورسٹی کے اینمل ہسبینڈری ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر تھی۔ پاکستانی مہمان خواتین کی اسلامی اقدار اور روایت پسندی کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے اُنہیں بطورِ خاص عمدہ ہوٹل میں رہائش فراہم کی۔

ہوٹل پہنچنے پر چاروں پاکستانی خواتین شرکاء ایک دوسرے سے ابتدائی تعارف، نام اور مقام جاننے کے بعد ایک دوسرے کے فکری اور مسلکی تعلق کو بھی تقریباً جان چکی تھیں کہ جو ان کے لئے نہ تو دشوار رہا تھا نہ خوشگوار۔ سب سے زیادہ خاموشی کا اظہار ڈاکٹر امت الصبورکے تعارف کے بعد کیا گیا کیوںکہ وہاں موجود تینوں خواتین کسی بھی اور بات پر متفق ہوں نہ ہوں کسی احمدی یا مرزائی کے غیر مسلم (بلکہ اچھوت) ہونے پر متفق تھیں۔

انٹرنیٹ پر گھر کال کرتے ہوئے جب مہناز قادری نے اپنی ساتھی شرکاء کے بارے میں والد کو مطلع کیا تو ان کی تشویش دوگنا ہو گئی۔ تڑپ کر بولے کہ ترکی کی حکومت خود تو مرتد اور ملحد ہے ہی گوروں کی محبت اور کافروں کی تقلید میں دیگر مسلمانوں کے ایمان کی ابتری میں بھی پیش پیش ہے۔ مسلمان بچیوں کو اسطرح وظائف دے کر کانفرنس اور ورکشاپ میں بلا کر اہلِ دین کا ایمان خراب کرنے کے درپے ہے۔ بھلا کیا تُک ہے اسطرح کافروں کے ساتھ مسلمان بچیوں کو رکھنے کا؟ وہابی سے قرآن پڑھنا جائز نہیں کجا کہ دنیاوی علم، شیعہ کو کافر قرار دیا جا چکا اور نجس احمدی، خدا کی پناہ، مرزائی کے ساتھ کھانے پینے کو علماء نے اتنا ہی حرام قرار دیا ہے جتنا سؤر کھانے کو۔ یہ محض اتفاق نہیں با قاعدہ سازش کے تحت پاکستان بھر سے مختلف مسالک کے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ کم و بیش یہی باتیں سیدہ زہرہ خانم اور عائشہ عمرخان نے ایکدوسرے سےدہرائی تھیں” تمھیں پتا ہے ابا کہتے ہیں کہ غیر مسلم کے ساتھ کھانا پینا یا میل جول تو حلال ہو سکتا ہے لیکن کسی احمدی کے ساتھ حرام ہے۔”

اگلے دن کانفرنس میں مہناز قادری کی ریسرچ دلچسپ و عجیب رہی تھی، اس نے تحقیق کا مفروضہ یا ریسرچ ہائپوتھیسس ایک مقامی ادیبہ بانو قدسیہ کے ناول “راجہ گدھ” سے لیا تھا۔ جو کہ کچھ یوں تھا “رزقِ حرام سے انسانی ڈی این اے میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں کہ جو جینیاتی امراض کا سبب بنتی ہیں۔ مثلاً جنسی ملاپ کے دوران باتیں کرنے کے قبیح عمل سے بچے گونگے اور بہرے پیدا ہوتے ہیں”۔ اپنی ریسرچ میں اس نے قرآن اور احادیث کے حوالے دئے اور نہ ماننے والوں کی حتمی اور اٹل سزا موت تجویز کی جس پر کسی سوال کی گنجائش نہ رہی تھی،ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ تا ہم ایک اور تحقیق کہ فحش مواد اور قبیح چیزیں دیکھنے سے نظر کمزور ہوتی ہے، نظر کا چشمہ لگائے سیشن کی چئر پرسن کو کرسی پر پہلو بدلنے پر مجبور کر گئی۔

پشاور کی عائشہ عمرخان نے سئور کے گوشت کے حرام ہونے پر سیر حاصل بحث کی کہ سئور کھانے کا نقصان یہ ہوا کہ باحیا عیسائی عورت بے پردہ ہو گئی اور دلیل یہ دی کہ مغرب کی عورت میں جنسی عدم آسودگی، معاشرتی بے راہ روی اور انتہائی کم شادی کی شرح ہونے کے علاوہ طلاق کی شرح میں اضافہ کا باعث بھی سئور کا گوشت کھانا ہے۔ حاضرین میں سے یوکرائن سے شریک مغربی مسلمان ڈاکٹر علی عبداللہ نے ان کے دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے گائے اور اونٹ کے گوشت کو بھی سئو ر کی طرح نقصان دہ بتایا اور عائشہ سے ثبوت کے طور پر ریسرچ ڈیٹا طلب کیا۔ عائشہ نے ریسرچ ڈیٹا میں اعداد وشمار بتائے کہ کس طرح غیر مسلموں یعنی قادیانیوں اور شیعوں کے ساتھ کھانا کھانے سے امراض معدہ میں اضافہ دیکھا گیا یہ ڈیٹا ایک ایسے تعلیمی ادارے سے حاصل کیا تھا جس کے ہوسٹل میں مسالک سے قطعہ نظر طلباء کو اکٹھا رکھا گیا۔

زہرہ خانم اور ڈاکٹر امت الصبور نے پوسٹر کی صورت میں اپنی ریسرچ پیش کی۔زہرہ خانم نے دکھایا کیسے طبِ اسلامی سے امراض کا علاج ممکن ہے۔ڈاکٹر امت الصبور نے ریسرچ پیش کی کہ کیسےرمضان طبی مسائل کے حل میں مدد گار رہا ہے اور روزہ کے طبی و معاشرتی و روحانی فوائد کیا ہیں ۔ پاکستان کے محمد آصف اور کامران آفریدی نے مختلف اسلامی فقہاء اور احادیث کی روشنی میں شیعہ و سنی پردہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی کہ پردہ جلد کے کینسر سے بچاتا ہےجبکہ باقی چار نے کانفرنس میں محض شمولیت ہی اختیار کی۔

کانفرنس کے دوران ہی وقفے میں لنچ سرو کیا گیا۔ پاکستانی شرکاء نے خاص طور پر ظہرانہ بے حد پسند کیا۔عائشہ عمر کو پردیس میں دیسی کھانوں کا ذائقہ بہت بھایا، وہ نت نئے کھانے کھانے اور پکانے کی شوقین تھی اور اس نے ترکیب پوچھنے کو مینیجر سے رابطہ بھی کیا۔ مینیجر نے اسکی ملاقات کینٹین کی انتظامیہ سے کروادی جو کی عائشہ کے لئے خفت اور پشیمانی کا باعث رہی کہ اس کی تحقیق کے برعکس احمد حسن نامی با ورچی کا تعلق ربوہ ہی سے تھا۔ جبکہ آیت اللہ نامی ایرانی بھی اسی کینٹین میں کام کرتا تھا۔

کانفرنس کے اختتام پر تمام لوگ واپس لوٹے تو ایک بری خبر زہرہ خانم کی منتظر تھی اسکی والدہ نفلی روزے رکھ رہی تھیں اور پیا س کی شدت سے نڈہال ہو کر ڈی ہائیڈریسن کی وجہ سےہاسپٹل میں زیر علاج تھیں۔ جبکہ وہ چاروں گائے کے گوشت کے کباب کھانے کی وجہ سے فوڈ پوائزنگ کا شکار ہو گئیں، جس پر انھوں نے طبِ اسلامی نظر انداز کر کے ہوٹل انتظامیہ سے ہنگامی بنیادوں پر فوری ایلو پیتھک ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی درخواست کی۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 2 = five

%d bloggers like this: