جہالت کی ڈگریاں بانٹتی پھرتی جامعات (۱)۔

October 31, 2013 at 04:56
حیدر شاہ؛

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔ لیکن آدھا سچ نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑا رہتا ہے بلکہ سونامی کی مانند آباد بستیوں کو نیست و نابود کر سکتا ہے ۔ آج کل ایک طرف اگر کچھ بندوق والے جھوٹ اور ادھورے سچ پر مبنی خود ساختہ نظریات کو تمام معاشرے پر مسلط کرنے میں مصروف ہیں اور مزاحمت پر مار ڈالنے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو دوسری جانب میڈیا میں انہی کے بھائی بند فتووں کی کلاشنکوف لے کر ہر اختلاف کرنے والے پر فدائی حملہ کرنے میں کچھ پس و پیش سے کام نہیں لیتے ۔ اخبارات کی سرخیوں ، کہانیوں اور کالموں پر نظر ڈالئے یا ٹی وی چینلوں پر ہونے والے مباحثوں کو سنیے۔ عجب عجب دعوےدار ڈگڈگی بجاتے نظر آتے ہیں۔

کہیں کوئی صاحب پانی سے موٹر کار چلا کر پاکستان کو درپیش توانائی کا بحران ختم کرنے کا دعوی کر کے سب سے خراج تحسین وصول کر رہا ہے تو کہیں ایک لال ٹوپی والا اپنی دیو مالائی کہانیوں سے نوجوانوں کے خون کو مفت کا ابال دے رہا ہے ۔ کہیں کوئی مولانا صاحب زلزلے اور سیلاب کو ہمارے گناہوں کے سبب الہامی انتقام ثابت کرنے میں جت دکھائی دیتا ہے تو کہیں کوئی کالم نویس ایک پاکستانی بچی کو عالمی پذیرائی ملنے پر سینہ کوبی کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔

یوں تو جب سے ملالہ یوسفزئی کو گولی ماری گئی تو طالبان کے ہمدرد روز کوئی نئی تاویل گڑنے میں ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں ۔ایک معصوم سی پاکستانی بچی کو خون میں لت پت دیکھ کر عوامی ہمدردی کا ایک سیلاب اٹھا تھا اور ان سوداگروں کو اپنے نفرت کے ٹھیلے اس کی موجوں میں ڈوبتے دکھائی دینے لگے۔ اور جب سے ملالہ موت و حیات کی جنگ میں سرخرو ہو کر پاکستان کی بین لاقوامی سفیر بن کر ابھری ہے ان جنگ و جدل اور کینہ پروری کے سوداگروں کے دل و جگر تو جیسے جل بھن کر کوئلہ بن گئے ہیں۔ ملالہ نے جاگتے میں خواب دیکھے تھے ۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں سوتے میں بھی کوئی آزادی کا خواب دیکھ لے تو اس کی مشکیں کس دی جاتی ہیں۔ چنانچہ میڈیا میں موجود قلم بردار عسکریت پسندوں نے اپنی توپوں کا رخ نہ صرف ملالہ کی طرف کر دیا ہے بلکہ ہر اس ذی شعور کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جو ان کی ہاں میں ہاں ملانے کو تیار نہ ہو۔

پاکستان کے چوٹی کے سائنسدان اور مفکر پروفیسسر پرویز ہود بھائی کو جس طرح ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں میزبان اوردو مہمانوں نے دہشتگردی کا نشانہ بنایا وہ نہ صرف خود ایک شرمناک واقعہ تھا بلکہ یہ آج کے پاکستانی معاشرے کا دردناک عکاس بھی تھا ۔ چہرے پر کوئی چھوٹی موٹی داڑھی ہو اور زبان پر انتہاپسندی کے کچھ فقرے …پھر یہ وطن آپ کا ہے ،باقی سب تو ہیں خواہ مخواہ اس میں ۔غالباً اسی لئے فیض احمد فیض نے اس میں غنیمت جانی تھی کہ

“؏شیخ صاحب سے رسم و رہ نہ کی … شکر ہے زندگی تباہ نہ کی “۔

میڈیا کو منبر بنا کر ، آستینوں میں نفرت کا خنجر چھپائے ، تواہمات پرستی کا کاروبار کر نے والے ان خضر صورت بہروپیوں کا دلخراش پروگرام دیکھ کر مجھے ایک ذاتی تجربہ بھی یاد آگیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ علم و حکمت ، اور پرہیزگاری کی یہ چلتی پھرتی جامعات ‘جہالت ‘ کے سرٹیفیکٹ اور ڈپلومے تھوک کے حساب سے بانٹتی پھرتی ہیں ۔ اس جامعہ کے اعزازی و خود ساختہ وائس چانسلر اوریا مقبول جان نے ایک عدد سرٹیفیکٹ راقم کو بھی عنایت کیا ہوا ہے۔

یہ ٢٠١٢ کی بات ہے کہ عید قربان سے کچھ دن پہلے ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے ایک ممبر نے اردو کا ایک کالم تنقیدی جائزے کے لئے پیش کیا ۔ یہاوریا صاحب کی تحریر تھی جس میں انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو اسلئے خوب برا بھلا کہا تھا کہ اس نے تعلیم کے حق میں مہم کیوں چلائی ۔اس کالم میں انہوں نے سب روشن خیال اور ترقی پسند رجحانات رکھنے والوں کو ابو جہل قرار دیا تھا ۔اوریا صاحب کو سخت صدمہ تھا کہ ٹی وی کے اشتہار میں کیوں کہا گیا ہے کہ برصغیر میں حکمرانوں نے تعلیمی درسگاؤں پر اخراجات کر نے کی بجائے محلات ، باغات اور شیش محل جیسے مقبرے بنانے پر پیسے بہائےجبکہ یورپ میں اس وقت آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی یونیورسٹیاں بن رہی تھیں ۔ اوریا صاحب نے مختلف تاریخی حوالے دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے پہلے علوم و فنون کے سمندر ٹھاٹھیں مار رہے تھے ۔ ماضی میں کچھ دوست اوریا صاحب کی تحریروں کا حوالہ دے کر مجھے جوابی کالم لکھنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں مگر فیض صاحب کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے میں کوئلے کے کاروبار سے دور رہا اور یہ کہہ کے ٹالتا رہا کہ

؏اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ ، انھیں کچھ نہ کہو !

مگر ‘بت ہم کو کہیں کافر’، یہ بھی گوارا کرنا مشکل تھا اسلئے ضبط کا حوصلہ نہ رہا ۔انہی دنوں ملالہ پر حملے کا واقعہ مقبول تھا ۔ تعلیم کے حق کا تقاضا کر کے ایک ننھی منھی بچی نے جان کی پرواہ نہیں کی اور ایک میں ہوں کہ قلم کی زبان کشائی سے بھی گھبراتا پھروں ۔کمسن بچی سے میں نے بھی جرات کا سبق سیکھا اور اوریا صاحب کے مضمون میں پائے جانے والے آدھے سچ کے بقیہ حصے کو ایک انگریزی روزنامے میں اپنے ہفتہ وار کالم میں اجاگر کر دیا ۔میں نے اپنے مضمون میں غیرضروری بحث مباحثے سے گریز کیا ۔ورنہ یہ بنیادی سوال اٹھایا جاسکتا تھا کہ برصغیر میں کیوں ہر غیر ملکی مہم جو ، چاہے وہ یونانی ہو یا کوئی عرب ، ترک، منگول ہو یا افغان یا کوئی یورپی تاجر ،وہ فتح کے جھنڈے گاڑتا رہا ہے ۔ یہ ایک طویل بحث ہے جسے ایک مختصر کالم میں نہیں سمیٹا جاسکتا ۔ میں نے اپنے کالم میں صرف ایک کتاب کا تذکرہ مناسب سمجھا جسے اوریا صاحب نے دلیل کے طور پر پیش کیا تھا ۔ مقصد صرف بھولے بھالے قا رئین کو ہوشیار کرکے بتانا تھا کہ انہیں جو انگریزی مصنفین کے نام لے لے کر ماضی پرستی کی خواب اور گولیاں کھلائی جا رہی ہیں ان کے استعمال میں ذرا احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

میں ذاتی طور پر اوریا صاحب کو نہیں جانتا تاہم میڈیا کے ذریعے ان کے افکار سے آگہی کا موقع ملتا رہتا ہے ۔ وہ جو بھی کہتے ہیں محسوس ہوتا ہے بہت صدق دل سے کہتے ہیں لیکن جس صدق دل کو فہم و فراست کی پاسبانی میسر نہ ہو وہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔ پندرہ سولہ سال کے نوجوان انتہائی صدق دل کے ساتھ اپنے بدن سے بم باندھ کر مزاروں، امام بارگاہوں اور سکولوں پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اوریا صاحب کی صدق دل سے کی گئی تا ریخ گوئی میں نسیم حجازی کا رنگ خوب جم کے جھلکتا ہے۔ بچپن میں ایک طویل عرصہ میں بھی نسیم حجازی کے ناولوں کو تاریخ کی مصدقہ کتب سمجھ کر ایک تصوراتی دنیا میں آباد رہتا تھا اور کافی تگ و دو کے بعد اس طلسماتی دنیا سے حقیقت کی دنیا کی جانب لوٹنے کا موقع ملا ہے ۔ لیکن بعض قارئین پیچھے دیکھتے رہنے کی عادت میں ہمیشہ کے لئے پتھر کے بن کے رہ جاتے ہیں۔

میں یقیناً اوریا صاحب کا پہلا خیرخوا نہیں ہوں جس نے ان کو بحفاظت واپس لانے کی کوشش کی ۔”الٹی شکا یتیں ہوئیں، احسان تو گیا ” انہوں نے جوابی کالم میں خوب القابات سے نوازا ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ صرف غالب کے محبوب کے لب ہی شیریں نہیں تھے کیونکہ اوریا صاحب سے گالیاں کھا کے بھی نہ میں بے مزا ہوا اور نہ میرے شریک جرم دوست احباب ۔فرط محبت میں اوریا صاحب نے مجھے ‘جہالت کی فصیل میں قید دانشور ‘ کا لقب دے ڈالا ۔مجھے ‘جہالت کی فصیل میں قید’ کی سزا ملنے پر دکھ نہیں ہوا کہ اپنی کم علمی اور طالب علمی کا تو میں پہلے سے اقرار جرم کرتا رہا ہوں مگر ‘دانشور’ کا الزام سن کر بہت صدمہ ضرور ہوا۔ یہ ایک ایسی تہمت مجھ پر لگائی گئی تھی جس کی صحت سے مجھے مکمل انکار ہے۔ آج کل عسکری اور سول افسران با لا ،بطوردانشور ٹی وی مباحثوں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔یہ رتبۂ بلندی انہی کے لئے مختص رہے تو بہتر ہے ۔ ہاں اتنا بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جہالت کے قلعے میں میں واحد قیدی نہیں ہوں۔

یہاں اور بھی بہت سے جاہل چکی کی مشقت میں مصروف ہیں ۔ ہم میں سے کوئی بھی انقلابی نہیں مگر جیولس فو چک سے حوصلہ ضرور پاتے ہیں جو پھانسی کی کوٹھری میں بھی زندگی کے گیت گاتا رہا ۔ ہم میں سے کوئی بھی شاعر نہیں مگر پھر بھی ہر شام فیض کی طرح وطن کی مانگ کو ستاروں سے بھرتا دیکھتے ضرور ہیں ۔ جہالت کے قلعے سے کبھی کبھی تھوڑی دیر کو رہائی مل جائے تو سوال کا کشکول اٹھا کر تماشائے اہل کرم دیکھنے چل نکلتے ہیں ۔ اگر غالب جیسی جلیل القدر ہستی کو کوتوال شہر کی رقابت مہنگی پڑی اور اگر فردوسی اور البیرونی جیسےعہدساز علماء غزنوی دربار کے عتاب سے محفوظ نہ رہ سکے تو ہم ناپرساں طالبعلموں کو بھلا کب کوئی خاطر میں لائے گا۔

زیادہ سوال پوچھنے پر ریشم و کمخواب میں ملبوس زاہد، ملا اور حکیم سبھی جلال میں آجاتے ہیں اور ہمارے کشکول توڑ کر ہمیں واپس زنداں میں پھینک دیا جاتا ہے ۔مگر نہ وہ مشقِ ستم سے باز آسکتے ہیں اور نہ ہم اپنی روش ترک کر سکتے ہیں کہ حرفِ حق جب سینے میں کانٹے کی طرح کھٹک رہاہو تو اظہار کئے بنا خلش کہاں مٹ سکتی ہے۔

(جاری ہے )

Related Posts

Comments

comments

2 Comments

  • Majid

    Desprately waiting for next eposide, A Good effort to mitigate the Naseem Jihazi mid set, God bless you

Leave a reply

required

required

optional



seven − 4 =

%d bloggers like this: