جنسی استحصال، عورت، مشرق و مغرب

June 28, 2013 at 13:04 , , ,
ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

سعودی عرب کے شہر قطیف کی ایک عدالت نے جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں اغوا کارمجرموں کو 80 سے لیکر 1000 کوڑوں کی سزا اور دس ماہ سے لیکر5 سال قید کی سزائیں سنائیں، جبکہ زیادتی کا شکار 19سالہ سعودی لڑکی کو 90 کوڑوں اور 6 ماہ کی قید کی سزا سنائ گئی، اس بد قسمت کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک”نامحرم” سے تصویریں لینے گئی تھی اور اپنے ساتھی سمیت اغوا اور پھر زیادتی کا شکار ہوئی، وکیل نے مجرموں کی سزا بڑھانے کی غرض سے عدالت کو سعودی عرب کے اکثریتی سنی مسلک کے ایسے مقدمات کے بارےمیں دیےگئے ایک فتوے پر قائل کرنے کی کوشش کی جسکے مطابق ایسے جرم کی کم سے کم سزا موت ہونی چاہیے، جس پر عدالت نے مقدمے پر نظرثانی کی اور مجرموں کی سزا بڑھا کر 2 سال سے لیکر 9 سال تک کردی۔

لیکن “نظرثانی” کے بعد نیا عدالتی فیصلہ وکیل عبدالرحٰمن اللحیم کیلیے حیران کن تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میڈیا سے بات کرنے کے قابل تعزیر جرم پر اسکی موکلہ کی سزا بڑھا کر 200 کوڑے کر دی گئی، اور بات یہاں ختم نہیں ہوئی، اس وکیل کو نہ صرف مقدمے کی پیروی سے روک دیا گیا بلکہ اسے دھمکی دی گئی کہ اگر وہ مقدمے سے علیحدہ نہ ہوا تو اسکا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ سی این این سے بات کرتے ہوے اس نےکہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ میری موکلہ کو نہ صرف وکیل رکھنے کے حق سے بلکہ تمام انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے گا، مقامی طور پراللحیم کو جو کہ اس سے پہلے بھی انسانی حقوق کیلیے آواز اٹھاتا رہا تھا اسکے سابقہ مقدمات کی وجہ سے ازراہ ٔتوہین و تذلیل “ہم جنس پرستوں” کا وکیل کہاگیا اور اسکالائسنس بھی معطل رہا لیکن اس مقدمے نے چونکہ بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی تھی اور زیادتی کا شکار لڑکی کی ذہنی حالت بھی دگرگوں تھی لہذا 2007ء میں سعودی فرمانروا نے اس معصوم لڑکی کو عام معافی دیکر سزا سے بچالیا۔

عربوں میں جنسی استحصال یا جنسی طور پر ہراساں کیا جانامعمول کی بات ہے، 2008ء میں مصر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا اسقدر عام ہے کہ 83 فیصد خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کی، جبکہ سعودی عرب میں انتہائی سخت معاشرتی نظام ہونے اور خواتین اور مردوں کے اختلاط کے مواقع کم ہونے کے باوجود یہ شرح انتہائی زیادہ ہے، اس بارے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آزاد ذرائع ابلاغ نہ ہونے کی وجہ سے اکا دکا خبریں ہی باہر آتی تھیں اور بظاہر تاثر یہی تھا کہ جنسی تشدد کی شرح مسلم ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں کم ہے لیکن سوشل میڈیا نے اس قدامت پسند معاشرے کی اقدار کا پول کھول دیا اور رائج فرسودہ روایات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں، انٹر نیٹ بلاگز اور ٹوئٹر پر جو اعداد و شمار سامنے آئے وہ خاصے دل دہلا دینے والے تھے، ایک رپورٹ کے مطابق 23 فیصد بچےجنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، زیادتی کرنے والوں میں بڑی تعداد قریبی رشتہ داروں کی تھی جبکہ دو فیصد اساتذہ اور ایک فیصد سگے ماں باپ بھی اس گھناونے جرم میں ملوث تھے، اس پر مستزاد یہ کہ 60 فیصد کیسز کبھی درج ہی نہیں ہوئے اور دوسرا حیرت انگیز انکشاف یہ تھا کہ جدہ اور ریاض یونیورسٹی میں کیے جانے والے سروے کے مطابق 46 فیصد مرد ہم جنس پرستی کے عادی ہیں، یہ رپورٹ ایک ویڈیو کی شکل میں یونیوسٹی کے پروفیسر اور ایک طالبہ نے یوٹیوب پر عام کی تھی، جسکے بعد پروفیسر کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے اور طالبہ کو خاموش کرا دیا گیا۔

اسی طرح مشرق وسطٰی کے دوسرے ممالک لبنان، شام،اردن، عمان، تیونس، بحرین اور کویت، اور لیبیا میں خواتین کو جنسی طور پر ہراسان کرنے کے واقعات عام ہیں ۔ اردن کی کالم نگار نرمن مرادکا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل تو دکنار کوئی بھی جامعات میں یا کسی قسم کی کانفرنس میں اس موضوع پر بات تک نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس سے نوجوانوں کو خفت اٹھانا پڑے گی تاہم یہ اس مسئلے کا حل ہر گز نہیں ہو سکتا ہے۔ جبکہ لبنان کی ایک خاتون کو جب اس سے جنسی زیادتی کرنے والے شخص سے شادی پر مجبور کیا گیا تو اس نے خودکشی کرلی۔ ایران میں یہ شرح انتہائی کم ہے لیکن اسکی سزا موت یا پھانسی ہے اور جج حالات و واقعات کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے یا محض مجرم کے اقبال جرم پر۔ سنی اسلام کی طرح چار گواہوں کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ ایران، چائنہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پھانسی کی سزا دیتا ہے اور ان میں 10سے15 فیصدریپ سے متعلقہ مقدمات پر پھانسیاں ہوتی ہیں۔

یہاں یہ کہنا ہرگز مقصود نہیں ہے کہ جنسی تشدد یا زیادتی کے واقعات و مقدمات صرف مسلم ممالک میں ہی عام ہیں اور مغرب یا آزاد دنیا اس لعنت سے محفوظ ہے، بلکہ خود امریکہ اور یورپ میں یہ شرح کافی زیادہ ہے،افریقہ کی ایک سلطنت لیسوتھو جنسی زیادتی کے مقدمات میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ یو ایس بیورو آف جسٹس کی 26 جولائی 2012ء کی رپورٹ کے مطابق سال 2012ء میں یہاں ہر ایک لاکھ میں 91 خواتین اس جرم کا شکار ہوتی ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح 6۔28 اور برطانیہ میں23 ہے۔ مصر میں اگر چہ خواتین کو جنسی استحصال کا سامنا ہے اور جنسی طور پر ہراساں کیا جانا عام ہے لیکن رپورٹ میں مصر کی جنسی زیادتی کی شرح دنیا کی کم ترین 0۔1 ہے جبکہ 1.5 کینیڈا اور 1.4 ترکی کی شرح ہے، تاہم فرق ہے تو اس مسئلے کے حل کا، کہ ایک ہی جرم کو دو مختلف نظریات کی حامل جگہوں پر کس طرح سے لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کی ایک ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں ایک شخص کو سترہ سال جیل میں گزارنے کے بعد 6 جون 2013 کو رہائی نصیب ہوئی، اس پر ایک نا بالغ لڑکی کو جنسی زیادتی اور تشددکے بعد قتل کر نے کاالزام تھا۔ بد قسمتی سے واقعاتی شواہد بھی اسکے خلاف ملےاور اسکو عمر قید کی سزا دی گئی جو کہ مقامی قانون میں25 سال تھی۔ آخرکار جدید سائنسی ٹیسٹ یعنی ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے کیس کو دوبارہ تفتیش کیلیے کھولا گیا اور اسکی بے گناہی ثابت ہوگئی، امریکہ بھر میں سو سے زیادہ افراد نے اپنی بےگناہی کے ثبوت کیلیےاس ٹیسٹ سے استفادہ کیا، مزید یہ کہ ان مقدمات سےاور ان جیسے مزید مقدمات سے نبرد آزما ہونے کیلیے مشی گن ریاست نے یہ فیصلہ کیا کہ گزشتہ 25 سال سے جنسی زیادتی کے مقدمات میں جیلوں میں قید افراد کے محفوظ شدہ ریکارڈ کو دوبارہ تفتیشی عمل کیلیے کھولا جائے اور اس ٹیسٹ سے جتنا ممکن ہو بے گناہ افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے، تاکہ سب کو یکساں طور پر انصاف مہیا کیا جا سکے اور بیگناہ ملزم بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ مشی گن کی عدالت کے ایک وکیل کی رائے یہ ہے کہ جنسی زیادتی کی شکارخواتین کیلئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور مستقبل میں اس جرم کے مستقل خاتمے کیلئے یہ عمل انتہائی مددگار ثابت ہو گا۔

اسکے برعکس اسلام بالخصوص سنی مسلک کے مطابق مجرم کا اقبال جرم یا چار گواہوں کی موجودگی کے علاوہ جرم ثابت نہیں ہو سکتا، بلکہ جرم ثابت نہ کر سکنے پر خود عورت ہتکِ عزت یا تہمت کے مقدمے میں دھری جا سکتی ہے، جرم کی روک تھام کیلیے مکمل “حجاب” یا پردہ تجویز کیا گیا ہے جسکی مسلم ممالک میں افادیت آپ نے درج بالا سطور میں دیے گئےاعدادو شمار سے ملاحظہ کر لی ہوگی اور دوسری سب سے بڑی رکاوٹ وہاں رائج شرعی و اسلامی قانون ہے جس نے الٹا مظلوم کو ہی سزا دی اور یوں دنیا بھر میں اسلام کی بدنامی کا باعث بنا۔ یہی نظام اور تدابیر و تجا ویز ہیں جنہیں پاکستان میں نافذ و رائج کرنے پر ہمارے مذہبی ناخدا تلے ہوئے ہیں۔

اسلامی نطریاتی کونسل کےڈی این اے کو جنسی زیادتی کے مقدمات میں بطورشہادت یا حتمی شہادت تسلیم نہ کرنے کے حالیہ فیصلے کی وجہ سے اسے خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ٹیسٹ کی تکنیکی صحت اور باریکیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھاجا چکا ہے، لیکن یہ “بہت کچھ” اہل علم و عقل و دانش کو ہی متا ثر کر سکتا ہے، جو کہ نام نہاد مذہبی آقاوں میں بہر حال ناپید نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔

ملک خداداد پاکستان میں “دی نیوز” کے مطابق صرف 2012ء میں خواتین کیساتھ بدسلوکی یا جنسی تشدد و اشتعال انگیزی کے 4585 واقعات پیش آئے جن میں انفرادی اور اجتماعی زیادتی کے 435 مقدمات تھے۔ یہ شرح ہمارے معاشرے اوربا شعور طبقےکے لیے ایک لمحہِ فکریہ ہے اور مذیبی رہنماوں کیلیے بھی ایک سوال ہے جن میں بعض کی سنگدلی اور بےحسی دیکھیے کہ ہمارے یہاں ایک معروف دینی جماعت کے سر براہ اور”اسلامی عالم” معاشرے میں بڑھتےہوئے اس جرم پر بے بس خاموشی کا درس دیتے نظر آتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خاتون با پردہ ہوکر گھر میں رہے، بلا ضرورت باہر نہ نکلے تو ایسے واقعات پیش ہی نہ آئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر جنسی جرائم روکنے کیلیے پہلا اور آخری حربہ “حجاب” اپنی تہزیبی و ثقافتی آماجگاہ یعنی سر زمین عرب میں جنسی جرائم روکنے میں ناکام رہا ہے توکیا بر صغیر خصوصاً پاکستان میں کامیاب ہو سکے گا اور کیاخواتین اگر گھروں میں خود کو قید کر لیں تو ہم آج کی ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ چل سکیں گی؟ مردو زن کا ممنوعہ اختلاط جو کہ مسلم معاشروں میں اس جرم کو نہیں روک سکا کوئی متوازن یا صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکے گا؟ جبکہ ترکی کی واضح مثال سامنے ہے جوکہ ایک لبرل معاشرہ ہے اور مردوزن کے اخلاط میں کافی آزاد ہے اور اس کے اعدادو شمار متاثر کن حد تک کم ہیں۔ان کو سوچنا ہو گاکہ ایسے کیسز سے نمٹنے کیلیے انہوں نے جو تدبیر و استدلال کیا ہے اسکی عقلی وضاحت کیا ہے اور یہ عملی طور پر کتنا قابل عمل ہے یا مؤثر ثابت ہوا ہے یا ہو سکتا ہے؟ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے میں ہمیں ہمیشہ کی طرح اہل عرب کی اندھی تقلید و نظریاتی غلامی پر قائم رہنا ہے یا اپنے حالات بدلنے کیلیے ماضی کے برعکس جدید سائنسی ایجادات و دیافتوں کو کشادہ دلی سے قبول کرنا ہے؟ جرم کی مستقبل میں روک تھام کیلیے کڑا نظامِ انصاف و تفتیش اپنانا ہےاور خالصتاً عقل واستدلال کی بنیاد پر نئے قوانین بنانے ہیں یا قدامت پرستی اور ذہنی غلامی میں مزید نام پیدا کرنا ہے؟

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

  • زر حمید
    ڈی این اے ٹسٹ کے رد کے بعد تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسلامی قوانین کی مضحکہ خیزی میں کوئ شائبہ بھی باقی نہیں رہا ہے۔یہ ملاں اس قوم کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے گدھے کی طرح اڑنگی لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔عورت کو چکی اور چرخے پر بٹھا کر خود اونٹوں پر سفر کرنا چاہتے ہیں۔ انکو بھیجو سعودیہ تاکہ انکی مائیں بہنیں شرعی پردے کی برکات سے مستفید ہوسکیں

Leave a reply

required

required

optional



7 − one =

%d bloggers like this: