جنات اور مافوق الفطرت کی تشریحات

October 14, 2013 at 05:35
انا الحق؛

جب ہم اس موضوع پر بحث کرتے ہیں تو بہت دلچسپ لگتا ہے اور تجسس پیدا ہوتا ہے چاہے مذہبی گفتگو ہو یا سائنسی جنات کو سمجھنا اور ان کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ آخر یہ جنات ہیں کیا یہ مافوق الفطرت تجربات کیوں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ہماری خوائے حس ہے یا وہم یا کوئی نفسیاتی بیماری اگر حقیقت ہے تو اس کی کیا توجیح پیش کی جاسکتی ہے۔ یہاں جنات پر ہماری بحث اس لیے ہے کہ ہم کسی طرح سے حقیقی روشنی ڈال سکیں۔

نہ کہ کیسی کو سچا ثابت کرنا یا کسی کی تذلیل کرنا۔ جنات کے لیے لفظ بھوت، سایہ، آسیب، چھلاوا، چڑیل، دیو وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس موضوع کو سمجھنا اور توہمات کو دور کرنا کیوں ضروری ہے؟

میر پور خاص کے علاقہ کوٹ غلام محمد کے ایک عامل نے 19 دسمبر 2008 میں جن نکالتے ہوئے تین خواتین کو آگ میں پھنک دیا جس پر دو خواتین موقع پر ماری گئیں جب کہ تیسری کو بچا لیا گیا۔ عامل باوا بھاگنے میں کامیاب رہا۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال تھی کہ جاننا کیوں ضروری ہے؟ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہمارے اردگرد ہو رہے ہوتے ہیں۔ سکولوں کالجوں میں یہ واقعات اکثر کیوں نظر آتے ہیں۔ راقم نے بہت سارے عاملوں سے خود ملاقات کی اور دریافت کیا کہ لڑکیوں کو جن پڑھنے کی وجہ کیا ہوتی ہے جس پر ان کا اقرار تھا کہ 50 سے 60 فی صد لڑکیاں محبت میں ناکامی کی وجہ سے ایسی حرکتیں کرتیں ہیں جو عین نفسیاتی اور معاشرتی مسلہ ہے۔

آئیں اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔

سائنسی خیالات:

ایک ماہر طب جان فرئیر نے 1813 میں ایک مضمون لکھا جس میں اس نے سایہ نظر آنے پر ایک نظریہ قائم کیا جس میں اس نے کہا کہ بھوت پریت کا نظر آنا اصل میں بصری فریب حس ہے(آپٹیکل ایلیوزن)۔

بصری فریب حس کیا ہے؟ حقیقت کے برعکس آنکھیں تصویر کو کسی اور طرح بنا کر دماغ کو پیش کرتی ہیں جس سے خطائے حس پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح بعد میں آنے والے ایک فرانسیسی ماہر طب ایلیگزینڈر جیکویس نے جنات کو خطائے حس کا نام دیا یعنی جس میں انسان کی کوئی ایک یا تمام حسیں خطا یا غلطیاں کرتی ہیں اور اپنا فعل درست نہیں ادا کرپاتیں۔ بناکسی بیرونی محرک کے ہی دماغ میں اس محرک (مثلا آواز یا بو وغیرہ) کا احساس اجاگر ہوجاتا ہے، جیسے غیرموجود کو دیکھنا ، کسی کے بولے بغیر ہی آواز و گفتار کو سننا ، کسی بو کے نہ ہونے کے باوجود اس بو کو سونگھناوغیرہ وغیرہ۔ یہ سب دماغ و اعصاب میں مختلف اقسام کے نقص کی بنا پر ہوتا ہے اور اس کو نفسیات میں ایک شدید ذہنی کیفیت یا مرض کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

جو نیکل تحقیقی متشکک کمیٹی کے رکن ہیں جو نے لکھا ہے کہ کوئی بھی یقینی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ مُردوں کی روحیں کسی جگہ پر آباد ہوتی ہیں۔ یہ انسانی ادراک اور شعور کی محدودیات اور طبعی چیزوں کی محدود تفصیل وجہ بنتی ہے کہ بھوت پریت نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر کمرے میں دباؤ ایک دم سے کم ہو تو دروازہ خود بخود زور سے بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بہت ساری طبعی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جو سمجھ میں آ سکتی ہیں پر سمجھی ہی نہیں جاتیں۔

پیریڈولیا (pareidolia) ایک فطری میلان ہے جو کہ بے ترتیب ادراک کو جمع کر کے ذہن میں نقش شدہ تصاویر دیکھتا ہے۔ پیریڈولیا دراصل مذہبی وہم بھی ہو سکتا ہے اور انسان کا اپنا تخیل بھی جس میں وہ مختلف چیزوں میں اپنے ذہن کے تراشے تراشتا ہے جیسے بادل میں محبوب کی شکل نظر آنا۔ چاند پر مہدی یا عیسی کی شکل نمودار ہونا ۔ بادل سے محمدﷺ کا لکھا جانا۔ یہی ذہنی وہم مرضی کے بھوت پریت تراش کر اپنے ہی ذہن کو پیش کرتا ہے۔اس کے علاوہ جو نیکل نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جنات کے نظر آنے کی ایک اور وجہ محیطی بصارت ہے(peripheral vision)۔

رات کے وقت جب دماغ تھک چکا ہوتا ہے اور بصری اور صوتی وہم زیادہ ہوتے ہیں اس وقت محیطی بصارت اپنا کام کرتی ہے یہ ایسی بصارت ہوتی ہے جو عین آنکھ کے مرکز کے علاوہ اور مقام سے آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ کیونکہ مرکز کو سینٹرل گیز کہتے ہیں جہاں سے کسی چیز کا صحیح عکس بنتا ہے۔ محیطی بصارت کو آسانی خراب کیا جا سکتا ہے۔

نفسیات میں جنات کے نظر آنے کی وجہ نیند آور خطائے حس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ماحول بھی بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔ درجہ حرارت، ہوا کا دباؤ، ذہنی کفیت اور روشنی کی مقدار وغیرہ۔

لائرنٹین یونیورسٹی کینڈا کے ایک محقق مائیکل پریسینگر نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ ارضیاتی مقناطیسیت یا زمین کی قوت ثقل یا سورج کی کشش انسانی دماغ کے ٹیمپورل لوب پر اثر کر کےبہت سارے ایسے تجربات پیدا کرتے ہیں جو جنات کے نظر آنے سے ملتے جلتے ہیں۔

اس کے ریچرڈ وائزمین نے کہا ہے کہ الٹراسونیک لہریں بھی انسانی حس کو متاثر کرتیں ہیں جو کہ ایسے تجربے کا باعث بنتا ہے۔

کاربن مونو آکسائیڈ کی جسم میں زہریلی مقدار بصری اور صوتی حسیوں کو تبدیل کر دیتی ہے۔

تجربہِ آسیب

یہ ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جس میں جس میں غیر ذی روح یا غیر جاندار اور غیر موجود کا احساس طاہری ادراک اور شعور سے کیا جائے۔ آسیب کو محسوس کرنے والا ہوش میں ہوتا ہے اور خواب نہیں دیکھ رہا ہوتا۔

جنات کو بیان کرنے کے لیے آسیب کے بارے یہ بیان کیا جاتا ہے۔

جنات کی بہت ساری قسمیں بیان کی جاتیں ہیں وہ جنات جو کسی خالق نے انسانوں کے ساتھ خلق کیے ہیں۔ وہ بھوت پریت جو انسانوں کے مرنے کے بعد مکتی نہ ملنے پر زمین پر ہی آباد ہو جاتے ہیں اور دوسرے انسانوں کے تنگ کرتے ہیں۔

کوانٹم میکنیکس اور جنات:

کوانٹم میکنیکس دراصل اٹیمی(جوہری) درجے پر کسی چیز کی تشریح کو کہتے ہیں۔ جے اٹیم کے جوہری زروں کے بارے تحقیق جیسے پروٹون، نیوٹران، الیکٹرون اور دوسرے ذرے۔

دو اہم طبیعات دان ڈاکٹر سٹیوراٹ ہمروف اور راجر پینروز نے یہ نظریہ قائم کیا کہ کے انسانی شعور ہمارے دماغی خلیوں میں موجود میئکرو ٹیبیول سے پیدا ہوتا ہے۔ اور یہی مائیکرو ٹیبیولز کوانٹم تجزیہ کرتے ہیں۔

ان کے خیال میں جب انسان قریب المرگ تجربہ کرتا ہے تو اس وقت کوانٹم معلومات ہمارے دماغ سے نکل جاتی ہے۔ اور بعد میں بھی موجود رہتی ہے۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ بیرون جسم خود کو محسوس کرتے ہیں اور کسی سرنگ کے آخر پر روشنی کے اثا ر۔

بہت سارے سائنسدان اس سے متفق نہیں ہیں لیکن مشہور سائنسدان ہنری سٹپ جس نے ہزنبرگ کے ساتھ کام کیا ہوا ہے وہ بھی ان دو سائنسدانوں کا ہامی ہے۔

شائد یہی انرجی جو معلومات کی شکل میں ہمارے گرد موجود ہوتی ہے وہ متوازن نہ ہونے کی وجہ سے جنات کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ کوانٹم میکنکس ایک توجیح ہے اس طرف پر اس پر نفسیاتی بیماریوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

کوانٹم میکینکس میں مشاہدہ کرنے والا اس وقت جنات دیکھتا ہے جب اس کے جذ بات اور احساسات کوانٹم کائنات کو اپنے مطابق تراشتا ہے۔ جنات ان احساسات کے باقی نشان ہوتے ہیں جن احساسات کی وجہ ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی لیے مرنے والوں سے جنات نہیں بنتے بلکے زندوں سے ہی بنتے ہیں اور ان کی اپنی کائنات سے کس طرح کی کشش ہے۔

اٹیمی درجے پر لہروں میں ہلچل پیدا کرنے سے خاص قسم کی تصاویر کا احساس پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کا انحصار جذبات کی طاقت اور ان کے اثر پر ہے۔ اس سے مختلف قسم کے جن بنائے بھی جا سکتے ہیں۔

منفی جذبات ان کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ کوانٹم سپین آف یونیورس میں اگر دیکھا جائے تو مخالف سپین میں یہ جنات زیادہ آسانی سے پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ غم کے جذبات یہ جن آسانی سے پیدا کرتے ہیں جیسے محبوب جو مر چکا ہو اس کو سیکھا کیسی قریبی رشتہ دار کو دیکھنا اس میں شامل ہے۔

جنات کی درجہ بندی کوانٹم میکنیکس میں

جس شدت کی کوانٹم لہریں ہوں گی اسی سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جن کی شکل و صورت کس طرح کا ہو گا۔
اس کی جسامت، شکل اور حجم
اس کا علاقہ جس میں ظاہر ہوا
اور وقت، ظاہر ہونے کا درجہ

اسی بنیاد پر لوگوں کو جو جنات نظر آسکتے ہیں وہ کئی قسم کے ہو سکتے ہیں۔

چھوٹے گول رشنی کے دائرے جو اکثر کیمرے میں قید نظر آتے ہیں اور دیکھنے والے کو بار بار نظر آتا ہے۔
آسیب جو تھوڑا بہت انسانی شکل سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔
انسان کی شکل کے جن جو حس سے محسوس بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اور مشاہدہ کرنے والے کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ بالکل آزاد اہم حسیوں سے محسوس ہونے والے جنات بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

آخری قسم بہت کم نظر آتے ہین جو کے بہت زیادہ کوانٹم خرابی سے کئی سال بعد نمودار ہوتے ہیں۔یہ تشریح بہت اہم ہے اور غور طلب کہ کس طرح کوانٹم میکینکس نظری فریب حس پیدا کر کے جنات ظاہر کروا سکتاہے۔

نفسیاتی تشریح

بہت ساری نفسیاتی امراض ایسی ہیں جن کے اثرات بلکل جنات جیسے ہی ہوتے ہیں۔ اور مریض کو لگتا ہے کہ وہ واقع جنات کے حصار میں ہے۔ اور معاشرے میں موجود ضعیف العتقاد لوگ اس کو ہوا دے کر مریض کویقین دلا دیتے ہیں کہ وہ واقع جنات کے سائے تلے ہے۔

Windig : یہ ایک نفیساتی بیماری ہے جس میں انسان کو انسانی گوشت کی شدت سے طلب ہوتی ہے اور اپنے آپ کو آدم خور محسوس کرتا ہے۔ جو علاج کرنے والوں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Gururmba: یہ بھی دماغی بیماری ہے جس میں انسان وحشی ہو جاتا ہے اور لوگوں کو تنگ کرتا ہے گھر سے بھاگ کر جنگلوں میں چلا جاتا ہے۔ تیز تیز بولتا ہے اور تقریر کرتا ہے۔

بیمارِ جنات یا گوزٹ سیکینس

یہ بیماری معاشرتی گھٹن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جس میں عموما مرے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں۔ علامات میں کمزوری بھوک کا نہ لگنا اور دم گھٹنا ڈراونے خواب اور بھوت پریت کا نظر آنا شامل ہے۔

Grisi siknis یہ بیماری بھی گھٹن والے اور بند معاشروں میں ہوتی ہے جس کی زیادہ متاثر جوان خواتین ہوتی ہیں 15 سے 18 سال کی لڑکیاں شامل ہیں۔ علامات میں سر درد، بے چینی متلی، قے اور خوف مریض زمین پر بے ہوشی کے عالم میں گر جاتا ہے اور جن نظر آتے ہیں آوازیں آتی ہیں۔ اکثر خواتین یہ اظہار کرتی ہیں کہ ان کو کوئی ماورا طاقت مار رہی ہے۔

انفصام (شیزو فرنیا)

انفصام ایک ذُھانی مرض ہے اور یہ شعور اور ہوش کی حالت میں اوھام اور خطائے حس پیدا کرتا ہے۔انفصام ایک ناکارہ کردینے والی ذہنی کیفیت ہے ۔ دس یا بیس کی دہائی کی عمر میں اسکا اظہار خاندان والوں اور دوست احباب کے ليے ایک انتہائی سراسیمہ کردینے والی صورتحال ہوتی ہے جب مریض کا رویہ تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اس کو غیر موجود سنائی یا دکھائی دینے لگتے ہیں ، وھام بڑھتا چلاجاتا ہے اور اسکی گفتگو میں اضطرابی اور بے ترتیبی پیدا ہوجاتی ہے۔انفصام کا حامل شخص ، غیرموجود کو دیکھ سکتا ہے ، کوئی بات نہ کر رہا ہو تب بھی آوازوں کو سن سکتا ہے جو کہ اس سے گفتگو بھی کرسکتی ہیں۔

اگر آواز دلچسپ ہو تو وہ اس پر ہنس سکتا ہے۔وہ آوازوں سے بات کر سکتا ہے۔ اور آوازیں اسے خوفزدہ اور پریشان بھی کرسکتی ہیں۔
(جاری ہے)۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− seven = 1

%d bloggers like this: