جنات اور مافوق الفطرت کی تشریحات (۲)۔

October 17, 2013 at 05:30 ,
انا الحق؛

جنات پر بہت سارے نقطہ نظر سے بات کی گئی ہے جس میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ تمام نظریات کو زیر بحث لایا جائے مگر ابھی بھی بہت سارے اہم نظریا ت باقی ہیں جو جنوں کے نظر آنے کی وجہ واضع کر سکتے ہیں۔

ہم اکثر چھوٹے بچوں اور جانوروں کو دھوکہ دیتے نظر آتے ہیں جس سے عموما بچے اس دھوکے کو صحیح سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں مگر بچوں کو اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کے لیے دھوکہ کیا ہے۔ وہ اسی کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔

جنات بھی ہمارے ذہن کا ایک طرح کا دھوکہ ہیں اور ان جنات کا کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ وہ کسی خدا کی مخلوق ہوں۔ لیکن وہ ہمارے ارد گرد ہونے والے ایسے طبعی عوامل ضرور ہیں جن کا ہمارے اوپر منفی یا مثبت اثر ہو سکتا ہے۔

جن کو ہماری محدود ادراک کی قوت محسوس نہیں کر سکتی یا سمجھ نہیں سکتی اس لیے مافوق الفطرت قرار دے کر خاموش ہو جاتی ہے۔

Ideomotor effect تصوّری حرکت۔ خیالی حرکی: نَظَریات کی صُورَت میں ذہنی تَوانائی جِس سے عُضلات کی خُودکار حَرکَت ہوتی ہے۔ ذہنی قوت تصورات کی صورت میں۔ اعصاب کی خودبخود حرکت۔ کرتی ہےجس طرح ذہنی قوت تخیلات کی صورت میں پٹھوں اعصاب اور اعضاء کو تحریک دیتی ہے اسی انداز سے ایک مشتعل ذہن بازوؤں کو جوشیلی کیفیت سے قارف کرتا ہے۔

یہ نظریہ استعمال کرتے ہوئے بہت سارے روحانی ادارے مرے ہوئے رشتہ داروں سے ملاقات کرواتے رہے جس میں اپنے ہی اعضاء کو استعمال کرتے ہوئے بات کرنے والے کو احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ روح سے محو کلام ہے۔

انفرا سائیونڈ ویوز

انفراسائونڈ وہ آواز کی لہریں ہیں جن کی فریکیونسی 20 ہٹز سے کم ہے۔ انسان صرف 20000 ہٹز تک کی آوازیں سن سکتا ہے۔ اس سے کم کی آواز کو وہ سن نہیں سکتا انہی خاموش آوزوں کو انفراسائنوڈ کہا جاتا ہے۔ بے شک انسان ان کو سننے سے قاصر ہے مگر محسوس کر سکتا ہے جو تھرتھراہٹ کی شکل میں محسوس کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر رچیرڈ وائزمین نے لکھا ہے کہ ہم انفراسائنوڈ کو اپنے معدے میں محسوس کر سکتے ہیں چاہے وہ منفی احساس ہو یا مثبت۔۔ اسی طرح خوفناک جگہ پر ایسا احساس خوف طاری کر سکتا ہے۔

انفراسائنوڈ کس طرح اور کیسے پیدا ہوتی ہیں؟ یہ عموما طوفان، اندھی اور موسم کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور اس کے علاوہ ہمارے اردگرد بہت بڑے آلات سے بھی پیدا ہوتیں رہتی ہیں۔

اپنی تجربہ گاہ میں آیسب کو دیکھ کر وچ ٹینڈی گھبرا گیا اور سمجھا کے شائد وہ کسی جن کے حصار میں ہے۔وچ ٹینڈی ایک ماہر سائنسدان تھا اس نے اپنی تجربہ گاہ میں کچھ نئے پنکھے لگوا ئے جیسے ہی اس نے پنکھے چلائے اس نے محسوس کیا کہ اس کے سامنے آسیب ہیں۔ اس نے تحقیق کی کہ پنکھے جو کہ 19 ہٹز تک انفراسائنوڈ پیدا کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے سامنے رکھی تلوا ر کو ارتعاش کرتے دیکھا اس نےنتیجہ اخذ کیا کہ کوئی ایک ہی طاقت ہے جو میری تلوار اور آسیب کا احساس پیدا کر رہی ہے۔ اسی طرح فطرت نے ہماری آنکھوں کی ارتعاش کی حد بھی 20 ہٹز تک رکھی ہے۔ انفراسائنوڈ لہروں نے وچ ٹینڈی کی آنکھوں میں 19 ہٹز پر تھرٹھراہٹ پیدا کی جس سے ایسی تصویریں پیدا ہوئیں جو اصل میں وہاں موجود نہیں تھیں۔ جسیے ہی ٹینڈی نے وہ خاص پینکھے بند کیے تو وہاں کوئی جن موجود نہیں تھے۔

ڈاکٹر وائزمین نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ کچھ ایسے مقامات جہاں یہ دعوہ کیا جاتا رہا تھا کہ جنات کی زد میں ہیں وہاں پر تحقیق کی اور معلوم کیا کہ وہ انفراسائونڈ کی بدولت پیدا ہوئیں۔ ڈاکٹر وائیزمین نے یہ بھی کہا کہ تمام مافوق الفطرت تجربات کی وجہ انفراسائونڈ لہریں ہی ہیں۔

برقی دماغی تحریک

یہ دماغ کی ایسی تحریک ہے جس کے ذریعے سے ہم دماغی علاج بھی کرتے ہیں۔ اور اس سے پیدا ہونے والا احساس بہت سارے گواہوں کے بیان کے مطابق جنات کا احساس پیدا کرتاہے۔ جیسے ہی برقی محرک دماغ کو متاثر کرتا ہے تو لوگ آسیب کے دیکھنے کا نام لیتے ہیں۔ اور ان کو لگتا ہے کہ آنکھوں کے پاس کوئی وجود آ رہا ہے جو قریب آ کر غائب ہو جاتا ہے۔

سویڈن میں سائنسدانوں نے مرگی کے مریضوں کے دماغ کو برقی طور پر محرک کیا تو اس سے ان کو حراساں کرنے والا احساس پیدا ہو گیا۔ مریضوں نے بتایا کے ان کے پیچھے کوئی شخص بیٹھا ہے جو ان کی نقلیں اتار رہا ہے اور ہوبہو انہی کی طرح کا ہے۔ جو کچھ ان مریضوں نے کیا وہی وہ آسیب کر رہے تھے۔ لیکن جب ڈاکٹروں نے کچھ لکھا ہوا پڑھنے کو کہا تو اس آسیب نے وہ کاغذ ان سے چھننے کی کوشش کی۔

اصل میں جب سائنسدانوں نے تحریک دی تو اس وقت ٹیمپورو پرئیٹل جنکشن آف برین پر اثر ہوا یہ دماغ کا وہ مقام ہے جہاں پر انسان کو خودی کی پہچان ہوتی ہے یا میں کا احساس ہوتا ہے۔ اس حصے کے کام میں خلل سے جو کہ انسان کی مدد کرتا ہے اپنے میں اور دوسروں میں فرق کرنے میں ڈاکٹر نے اس حصے کو متاثر کرکے اپنے ہی جسم سے ناآشنائی پیدا کردی۔ جس سے اپنے ہی وجود کا احساس ایک علیحدہ جسم کی ماند ہو گیا۔

اس تشریح سے بہت سارے مسائل حل ہوگئے جن کی توجیح پیش نہیں کی جا سکی تھی۔ دماغ کے اس حصے کو متاثر کرنے سے ہی بہت سارے مافوق الفطرت مظاہر رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔

حرکتِ غیر ارادیِ

یہ شعور کی تبدیل شدہ ایسی شکل ہے جس میں انسان اپنے ہی دماغ کی سوچ کو کسی اور وجود کا حصہ سمجھتا ہے۔

یہ آٹومیٹزم ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے لاکھوں سالوں سے انسان مرے ہوئے لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں اور بہت سارے ادارے اس پر کام بھی کر رہے ہیں۔

اصل نظریہ یہ ہے کہ انسان کا دماغ خالی کیا جائے اور اس کو کونیاتی شعور سے جوڑا جائے تاکہ اس کے جسم میں کئی سال پرانی روحیں آ کر سما سکیں۔

پرانے مذاہب کے شمنز اسی طرح روحوں سے محو کلام ہوتے تھے۔

یہ ایسا عمل ہے جس میں لوگ وہ کرتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں جس سے وہ آشنا نہیں ہوتے۔ حقیقت میں جب انسان اپنا دماغ صاف کر لیتا ہے تو اس وقت اس کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کیسی قریبی کی روح کو تلاش کرے۔

یہی طریقہ انسان کو اپنے دماغ سے آنے والی معلومات کو کسی روح کی معلومات تسلیم کرواتا ہے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت حد تک ہمارا دماغ ان کاموں میں شامل ہوتا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہم ہر وہم اور فریب کا عالم طاری ہے اگر ہم سوچنا بالکل چھوڑ دیں تو ہر چیز جو کہ سمجھ آنے والی حیرت ہے لیکن سوچنا چھوڑنے سے وہ مافوق الفطرت بن جاتی ہے۔ بہت سارے ایسے واقعات جو خاص لوگوں سے ہوتے ہیں وہ اس کو واقع سچ سمجھتے ہیں۔ اس میں ان کا قصور نہیں قصور ان جاہلوں کا ہے جو ان کو ان پر جنات کے سایے کا یقین دلا کر وہم میں ڈالتے ہیں۔

آنے والی قسط میں پیرانارمل ایکٹویٹی پر بھی روشنی ڈالی جائے گی جو عموما زیر بحث نظر انے والا موضع ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 4 = eight

%d bloggers like this: