جمہوریت خلافت سے بہتر کیسے

October 20, 2013 at 02:02 , ,
امام دین؛

خطبہ حج الوداع کے موقع پر نبیﷺ نے ایک لاکھ صحابہ کے جم غفیر کو خطاب کرتے فرمایا کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر، اگر کوئی نکٹا حبشی بھی قران و سنۃ پر لیکر چلے تو اس کی اطاعت کرنا۔

لیکن جب عمل درامد کا وقت آیا تو کسی نے نبیﷺ کی وفات کے بعد اس قول کی روشنی میں حضرت بلالؓ کو خلافت کا امیدوار سمجھنا گوارا بھی نہ کیا۔ خلافت کے جھگڑے میں حضرت عمرؓ کا یہ استدلال حرف آخر ٹھہرا کہ انہوں نے نبی سے سنا کہ میرے بعد خلیفہ قریش سے ہو گا۔

نبیﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی بھی خلافت کے خدوخال واضح نہیں کیے کہ یہ کس طرز کی حکمرانی ہوگی۔ نہ ہی یہ مسلمانوں نے ایسا کچھ پوچھنا مناسب سمجھا۔ نبی کے پردہ کر جانے کے بعد یہ کام مسلمانوں نے ازخود انجام دیا۔ خلافت چونکہ انسانوں کا بنایا ہوا نظام تھا لہذا خامیوں سے مبرا نہ ٹھہرا۔

اگرچہ خلافت کے درمیان میں نظام حکومت کی باگ دوڑ مملوکوں اور غلاموں کے ہاتھ میں چلی گئی لیکن خلافت کا سب سے بڑا عہدہ خلیفہ کا ہی تھا۔ جیسے مملکت خداداد پاکستان کا سب سے بڑا عہدہ صدر کا ہے لیکن تمام تر اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ ابوبکر سے شروع ہونے والی خلافت سے لیکر 1923ء میں خلافت کے اختتام تک خلافت کی مسند پر بیٹھنا صرف ایک قریشی کو نصیب ہوا باقی مسلمانوں کے لیے یہ عہدہ شجر ممنوعہ قرار پایا۔

مسلمانوں کو یہ توفیق نہ تو خلافت کے ہوتے ہوئی نہ ہی اس کے بعد جمہوریت میں ہوئی کہ ایک کالا اس کا سربراہ اعلی مقرر ہو۔ لیکن “کفر” کے نظام جمہوریت کی بدولت اسلام کے اوپر بیان کیے گئے درخشان اصول جس کا پرچار کرتے مسلمان نہیں تھکتے کو عملی جامہ آج کے مسلمانوں کے سب سے بڑے “دشمن” امریکہ کو ہی نصیب ہوا جہاں ایک کالا اوبامہ وہاں کا صدر بن گیا۔

وہ جمہوریت جسے مسلمان دن رات بددعائیں دیتے ہیں اور دن رات دوبارہ خلافت کے نظام کے حصول کے کوشاں ہیں کو ہی یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے نبیﷺ کی بات کو سچ کر دکھایا۔ اسی طرح خلافت میں جانشینی کے معاملے پر جس طرح انسانی خون پانی کی طرح بہتا رہاکے برعکس جمہوریت میں کم از کم پرامن انتقال اقتدار تو ممکن ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عام آدمی خواہ وہ دودھ جلیبی بیچنے والا ہی کیوں نہ ہو اس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خلافت یا جمہوریت نظام برے نہیں بلکہ جمہوریت خلافت کے برعکس کچھ مزید اچھائیوں کی حامل ہے۔ جہاں اختیارات ایک فرد واحد کے ہاتھ میں نہیں۔ نہ ہی ایک فرد واحد کے الفاظ فرمان کا درجہ رکھتے ہیں۔

نبیﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ میں صرف دینی معاملات میں تمہاری رہنمائی کرتا ہوں دنیاوی معاملات تم مجھ سے بہتر سمجھتے ہو۔ یہی بات قرآن میں بھی بیان ہے کہ اللہ نے انسان کو قلم سے پڑھنا سکھایا۔ اب اللہ نے انسان کو سائینس یا آرٹس پڑھنا تو نہیں سکھایا بلکہ قرآن میں دینی علوم ہی سکھائے تاکہ آخرت کی تیاری ہو۔ تو یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں کسی بھی نظام کی قید نہیں صرف رہنما اصول بتائے گئے ہیں۔ جو بھی نظام بنایا جائے اس میں اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ کیا اس میں انسانوں کی بھلائی ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے کمیونزم بھی ثابت ہو سکتی ہے اور کیپٹل ازم بھی۔ اسی طرح جمہوریت انسانوں کا بنایا ہوا نظام ہے جو خلافت سے بدرجہ بہتر ہے۔

بدقسمتی سے اسلام کے نام پر فرقہ واریت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ جمہوریت میں یہ بات بھی مدنظر رکھی جاتی ہے کہ ایسی قانون سازی نہ ہو جس سے کسی اقلیت کو نشانہ بنایا جائے۔ لیکن خلافت میں اگر خلیفہ ایک فرقے کا ہوتا تھا تو دوسرے فرقے کے لوگوں کو جان بچانا مشکل ہوجاتا تھا۔

رسل نے کیا خوب کہا، دو طرح کی اخلاقیات ہوتی ہیں ایک وہ جس پر لوگ عمل کرتے ہیں اور دوسری وہ جس کی تبلیغ کرتے ہیں

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 7 = sixteen

%d bloggers like this: