جماعت اسلامی اور تذبذب کا شکارعوام

November 14, 2013 at 08:28 , , ,
پروپگنڈے کے فن میں جتنی مہارت جماعت اسلامی کو حاصل ہے اگر آج ہٹلر زندہ ہوتا تو وہ یقیناً اپنے وزیر اطلاعت گوئبلز کو ٹریننگ کے لئے منصورہ بھیج دیتا۔ غالبؔ اگر موجود ہوتے تو وہ یقیناً فرماتے:

؏ پروپگینڈے کے تم ہی اُستاد نہیں ہو گوئبلز
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی منور حسن بھی تھا

ملالہ کو گولی لگنے کا واقعہ ہو، طالبان کے دھماکے ہوں یا کوئٹہ میں لشکر جھنگوی کی کاروائیاں ہوں ان سب واقعات کو جماعت نے ہمیشہ تیسری قوتوں کے کھاتے میں ڈال کر طالبان کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کی بعض اوقات تو خطرہ محسوس ہوتا تھا کے کہیں طالبان بُرا ہی نہ مان جائیں کے وہ اتنی محنت سے کاروائیاں کرتے ہیں پھر اُسکی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور جماعتی مولوی سارا کریڈٹ امریکہ انڈیا اور اسرائیل کو دے دیتے ہیں۔

جماعتیوں کا پروپیگنڈا ہمیشہ مرحلہ وار ہوتا ہے اور زیادہ تر اگلا مرحلہ پچھلے پروپگینڈے کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ مثلاً جب پرویز مشرف کے دور میں قبائلی علاقوں میں آپریشن کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کے وہاں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں تو جماعتی یہ کہتے پائے جاتے تھے کے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی جنگجو آ جائیں اور وہاں ٹِک سکیں کیونکہ اُس علاقے کی روایات یہ ہیں کے وہاں مہمانوں کو مہمان خانے میں ٹہرایا جاتا ہے اور پورے گاوں کو خبر ہو جاتی ہے پورا گاوں مہمان سے ملنے آتا ہے۔ مگر بعد میں قبائلی علاقوں تو کیا پاکستان کے بڑے شہروں سے بھی غیر ملکی جنگجو برآمد ہوے، پشاور ایرپورٹ کے حملے میں غیر ملکی وسطیٰ اشیا کے جہادی ہی ملّوث تھے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں اسلامک موومنٹ اف ازبکستان کے لوگ بھی قید تھے جو جیل حملے میں طالبان نے آزاد بھی کروا لئے۔

اسی طرح جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تھا تو جسکے آخر میں مولوی عبدالعزیز برقعہ پہن کر فرار ہوے۔ تب سے آج تک جماعتی یہ راگ الاپتے رہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی مولانا عبدالعزیز غازی کو شرمندہ کرنے کی جو انکو برقعہ پہنا کر لائیو TV پر لایا گیا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد کچھ دن پہلے تک واقعی یہ سمجھتی تھی کے جماعتی موقف دُرست ہے مگر کچھ دن پہلے حامد میر کے پروگرام میں جب مولانا عبدالعزیز تشریف لائے اور حامد میر نے مولانا سے برقعے کے بارے میں سوال کیا تو مولانا کا جواب خود ہی ملاحظہ کر لیجئے۔ اس ویڈیو میں تو مولانا نے تسلیم کر لیا اس بات کو اور برقعہ میں فرار ہونے کے شرعی دلائل بھی فراہم کر دیے۔ مولانا کے دلائل کی روشنی میں تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا برقعہ میں فرار ہونا ہر جہادی کا آخری راستہ ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کے پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے نکلنے والے برقعہ پوشوں پر خصوصی نظر رکھی جائے کیونکہ برقعہ کے اندر خاتون کی جگہ کوئی القائدہ کا جنگجو بھی برآمد ہو سکتا ہے جس کو جمعیت کے توسط سے پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا ہو۔

جب دو مئی کی سہانی رات امریکی کمانڈوز ہیلی کاپٹر میں آکر ایبٹ آباد میں جماعت کے ہیرو اوسامہ بن لادن کو حکیم ﷲ محسود کی طرح شہادت کے رتبہ پر فائز کر کے گئے تو اُسکے بعد ہمیشہ کی طرح جماعتی موقف گمراہ کن تھا کہ اُسامہ تو ایبٹ آباد میں موجود ہی نہیں تھا وہ تو کب کا مر کھپ چکا تھا یہ سب امریکیوں کا ڈرامہ ہے۔ مگر اس پروپگینڈے کی قلعی اُس وقت کُھل گئی جب الجزیرہ TV (جو کے برادر اسلامی ملک کا ہے) نے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی۔ کمیشن میں شامل جج صاحبان کی تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا کے یہ وہی رپورٹ ہے جو کمیشن نے بنائی تھی۔ اُس رپورٹ کو پڑھ لینے کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کے اُسامہ بن لادن پاکستان میں ہی موجود تھا۔ اگر کوئی اب بھی بضد ہو کے اُسامہ ایبٹ آباد میں نہیں تھا تو وہ یہ بتا دے کے پھر اُسکے درجن بھر عربی بیوی اور بچے ایبٹ آباد کب اور کیسے آ گئے۔ کیا اُن کو بھی امریکی اپنے ساتھ ہیلی کاپٹروں میں بٹھا کر لائے تھے؟

جب ملالہ کو گولی لگی تو جماعتیوں کا ابتدائی موقف یہ تھا کے ملالہ کو گولی امریکی ایجنٹوں نے ماری ہے تاکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ویسے قبائلی علاقوں میں امریکی آئے دن بغیر راہ ہموار کیے ڈرون مارتے ہیں۔ پھر جب دیکھا کے قبائلی علاقوں میں کوئی آپریشن ہوتا دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تب پروپیگنڈا اگلے مرحلے میں داخل ہوا جو کے یہ تھا، ملالہ کو گولی لگی ہی نہیں یہ سب امریکی ڈرامہ ہے مسلمانوں کی توجہ گستاخانہ فلم سے ہٹانے کے لئے۔ اسکے بعد راولپنڈی آرمی ہسپتال میں ملالہ کی عیادت کرنے آرمی چیف تشریف لے گئے تو لوگوں نے جماعتیوں سے سوال کرنا شروع کیا کے اگر ملالہ کو گولی لگی ہی نہیں تو کیا عمران خان اور آرمی چیف کیانی بھی اس ڈرامے کا حصہ ہیں؟

جب ملالہ کو ہوش آگیا اور اُسکی شکل دیکھ کر کوئی اندھا بھی بتا سکتا تھا کے گولی لگنے سے پہلے کی تصویروں اور بعد میں بہت فرق ہے۔ اب مجبوراً جماعتیوں کو یہ تسلیم کرنا پڑا کے ملالہ کو واقعی گولی لگی تھی مگر وہ اب بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کے یہ گولی اُنہوں نے ہی ماری تھی جنہوں نے اسکی ذمہ داری قبول بھی کی۔اب ملالہ کی مغرب میں پزیرائی کو ملک دشمنی سے تعبیر کر کے اسے ملک دشمن اور گستاخ رسول ثابت کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی جارہی ہے اور ملالہ کی کتاب کا غلط ترجمہ کرکے بطور دلیل پیش کیا جارہا ہے۔

ابھی تازہ ترین جماعتی شوشہ حکیم ﷲ نامی طالبان لیڈر کو شہید کہنے اور اُس پر بضد رہنے کا ہے۔ اس سلسلے میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کیونکہ حکیم ﷲ محسود امریکیوں کے خلاف افغانستان میں کاروائیاں کرتا تھا لہٰذا وہ شہید ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے ہزاروں لوگوں کا قاتل اسلئے نیک انسان تھا کیونکہ وہ میرے مخالفین کو نقصان پہنچاتا تھا۔ جماعت اسلامی نے اس پر بھی بس نہیں کیا اور یہ بھی کہا کے طالبان کے خلاف لڑنے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں۔ اب پوری جماعت اسلامی اپنے لیڈران کے بیانات کا دفع کرنے میں لگی ہوئی ہے اور جماعتی پروپیگنڈا مشینری ( فوٹوشاپ،امت اخبار، فیس بک پیجز اور کچھ کالم نگار) حرکت میں آچکی ہے مگر وہ ایک بات بھول رہے ہیں کے یہ اسّی کی دہائی نہیں ہے اور نہ اب معلومات کا واحد ذریعہ سرکاری کنٹرولڈ ٹیلیوژن اور اخبار ہیں۔ آج کے آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں جماعتی پروپیگنڈا بری طرح ناکام ہوگا اور مستقبل میں انڈیا، بنگلادیش، شام اور مصر کی طرح پاکستان میں بھی جماعتی سوچ دم توڑ دے گی۔

قرآن میں اللہﷻ فرماتے ہیں، جھوٹوں پر خدا کی لعنت

یہ پوسٹ “سیٹل منٹ” بلاگ سے نشرمکرر کے طور پر پیش خدمت ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− eight = 1

%d bloggers like this: