تحریک الباکستان

November 20, 2014 at 05:19 , ,

مبارک حیدر؛


جانے یہ مقام حیرت ہے یا مقام سعادت کہ جب بھی اسلام کا ذکرآئے ، ذہن میں عربوں سے بھی پہلے پاکستان کا نام آتا ہے ، جو ترقی کی منزلیں مارتا الباکستان بن گیا ہے یعنی العرب کے پیچھے لگی ب سے جڑ گیا ہے ۔ ہاں کبھی کبھی اسلام کے ساتھ سعودی عرب کا خیال بھی آتا ہے ۔ بلکہ اب تو ایسا بھی ہے کہ الباکستانی مجاہدوں کی بے لوث تنظیم “داعش” کی نوازش سے عراق و شام بھی مشرف بہ اسلام ہو گئے ہیں ، ورنہ یہ دونوں ملک تو مدتوں سے صرف عرب تھے جو خود کو تاریخی طور پر مسلم سمجھتے تھے ۔ خود سر زمین حجاز کے عرب حضرت الوہاب کے ظہور سے پہلے صدیوں تک محض ثقافتی مسلمان رہے۔ یعنی اس ثقافت سے منسلک رہے جو دین ابراہیمی اور سبائین کے دور سے رائج تھی یعنی نماز ، روزہ ، عیدین اور حج کی ثقافت ، غلام رکھنے بیچنے کی ثقافت ، تجارت کے سفر پر نکلنے کی اور حسب توفیق حرم بھرنے کی وہ ثقافت جسے اسلام نے بتوں سے ہٹا کراللہ اور ثواب کی ثقافت بنایا تھا ۔

پہلی دو تین صدیوں کا جہادی اسلام عربوں کے لئے تہذیبی فخر کی علامت ضرور رہا لیکن ہلاکو کی آمد سے کہیں پہلے عرب اپنی تلواریں نیاموں میں ڈال کر اصلی مردانہ قوت کی ریسرچ میں لگ چکے تھے ۔ آج بھی ایک خوش حال عرب کی پہچان نماز ، عورت اور عطر ہے ۔ ب بندوق کے لئےاس نے ب باکستان کو چن لیا ہے ۔ یعنی انسانی گردنیں کاٹنے کا کام ہمارےسپرد کر کے اہل حجاز اب صرف اپنے ہی بدن کے ایک عضو کی گردن کاٹتے ہیں ۔ تلوار سے عربوں کی اسی دوری نے شاہ ولی الله اور اقبال جیسے نیک دل مسلمانوں کو عمربھر غم میں غرق رکھا۔

ترکوں نے دنیا بھر میں اسلام کے شمشیری پہلو کا ڈنکا بجایا لیکن اپنے اقتدار کے لئے نہ کہ اسلام کے لئے ۔ وہ نہ صرف غیرعرب تھے بلکہ انھیں عربوں سے کوئی عقیدت بھی نہ تھی ۔ چنانچہ جبّہ کے ساتھ سر پر گٹھلیوں والی رسی باندھنے کا یہ فیشن جو الباکستان میں چلا ہے ، ترکوں میں کبھی مقبول نہیں ہوا ۔ نہ ہی ترکی کو کبھی الترکی لکھا گیا۔

ابھی تک الباکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کی تحریک کا مرکز پنجاب ہے جس کا نام پ سے شروع ہوتا ہے ۔ تجویز ہے کہ پنجاب کو پ پانیوں سے الگ کر کے ب بنجر کر دیا جائے ۔ یوں ال بنجاب کو عرب کی ریت جیسی خشکی نصیب ہو سکے گی ۔ اس سلسلے میں اس پنجابی نوجوان کا ذکر ضروری لگتا ہے جسے انگریزی بولنے کا شوق بھی اتنا ہی شدید تھا جتنا عرب بننے کا ۔ وہ جبّہ و دستارمیں ہوٹل آیا ۔ کار کھڑی کرنے کے لئے جگہ نہ ملی تو ریسپشن پر آ کر بولا
Hi Misther, your hothel has no barking blace? Wherever I go ith is writhen “No Barking, No Barking”. Very funny! Where shall I bark?

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 6 = fifteen

%d bloggers like this: