بھیڑیا اور لیلا

October 28, 2013 at 17:47 , ,
عدنان خان؛

کہتے ہیں کہ ملک نیم روز کی ایک سر سبز پہاڑی وادی میں ایک بھیڑیا راج کرتا تھا۔ کہنے کو تو وہ بھیڑیا تھا لیکن اپنے تئیں اخلاقیات کا علمبردار تھا۔ وہ کبھی کسی پر ظلم نہ کرتا تھا اور گوشت خور ہونے کے باوجود کبھی کسی مظلوم کو لقمہ نہ بناتا تھا جب تک کہ اس کے خلاف کیس پکا نہ ہو۔ وادی کے سارے لگڑ بھگے اس کے انصاف اور شہزوری کی قسم کھاتے تھے اور اس کو بھیڑیا پرہول خان کہہ کر یاد کرتے تھے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ موسم بہت سہانا تھا۔ بھیڑیا اپنی اقلیم کی سیر کرتا جا رہا تھا۔ اسے کچھ پیاس محسوس ہوئی تو وہ ایک نزدیک بہنے والی ندی پر پہنچا۔ اس کے اقبال سے سب جانور وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔ بھیڑوں کا ایک ریوڑ بھی وہاں پیاس بھجانے آیا ہوا تھا۔ وہ بھی جلال شاہی کی تاب نہ لا کر وہاں سے اتنی افراتفری میں رفوچکر ہو گیا کہ ان کا ایک چھوٹا سا پیارا لیلا [میمنا] وہیں رہ گیا۔ وہ معصوم بھی ارد گرد سے بے خبر سر جھکائے پانی پیتا رہا۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ اس کی پرسکون وادی میں اب امن نہیں بلکہ صرف بھیڑیا رہ گیا ہے۔

بھیڑیے نے اس معصوم سے لیلے کو دیکھا اور اتنے لذیذ شکار کو دیکھ کر اس کی بھوک جاگ اٹھی۔ لیکن وہ اخلاقیات کا علمبردار تھا اور مقدمہ چلائے بغیر کبھی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا تھا۔ وہ کھنکارا اور لیلے کو اپنی طرف متوجہ پایا تو بولا “برخوردار، کیا نام ہے تمہارا”؟

لیلے نہ کہا “میں لیلا”۔

بھیڑیا نے کہا “دیکھو لیلا کیا تمہیں احساس ہے کہ تم اس پرسکون جنگل کے انصاف پسند بادشاہ کی کتنی بے عزتی کر رہے ہو”؟

لیلا بولا “کیسی بے عزتی بادشاہ سلامت۔ میں تو بس کچھ پانی پی کر اپنی پیاس بجھا رہا ہوں۔ پیاس بجھانا تو جرم نہیں ہے”۔

بھیڑیا زور سے چلایا “تمہیں جرات کیسے ہوئے کہ میری طرف آنے والے پانی کو گدلا کرو۔ شاہی چشمے سے پیاس بجھانے کی ہر کس و ناکس کو اجازت نہیں ہے۔ اور اس وادی کے سارے چشمے شاہی چشمے ہیں”۔

معصوم سا لیلا کانپتے بولا “حضور پانی آپ کی طرف سے بہہ کر میری طرف آ رہا ہے۔ میں کیسے آپ کے حصے کے پانی کو گدلا کر سکتا ہوں”۔

بھیڑیا غرایا “زبان مت چلاو۔ تم میرا پانی گدلا کر رہے ہو اور اپنے اس وطن کی بدنامی کا باعث بن رہے ہو۔ ویسے بھی مجھے پتہ چلا ہے کہ پچھلے سال تم نے میرے متعلق جھوٹ پھیلائے تھے جس سے ملک میں اور باہر میری بہت بدنامی ہوئی تھی۔ ایسے غداروں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا”۔

لیلا بولا “یہ کیسے ممکن ہے حضور۔ میری عمر تو صرف چار ماہ کی ہے۔ میں پچھلے سال آپ کے متعلق کیسے کچھ کہہ سکتا ہوں”۔

بھیڑیے نے کہا “تم نہیں ہو گے تو تمہارا بھائی ہو گا۔ میری بات غلط نہیں ہو سکتی”۔

لیلا کہنے لگا “میں تو اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں جناب۔ میرا کوئی بھائی نہیں ہے”۔

بھیڑیا غضب ناک ہو کر بولا “تمہارے خاندان میں کوئی نہ کوئی ہو گا۔ تم مجھے بہکا نہیں سکتے۔ جس طرح تم ہر بات کا جواب دے رہے ہو، صاف ظاہر ہے کہ کسی نے تمہیں سکھایا پڑھایا ہے۔ تم ضرور ساتھ والے جنگل کے بادشاہ کے خطرناک ایجنٹ ہو جسے اس نے مجھے بدنام کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ میں تمہیں غداری کے جرم میں سزائے موت دیتا ہوں”۔

بھیڑیے نے لیلے کو دبوچا اور کھانے کے لیے کسی اچھے پکنک سپاٹ کی تلاش میں چل پڑا۔


اس مضمون کے کرداروں کی اوریا اور ملالہ سے کسی قسم کی مماثلت نہیں ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



8 − = zero

%d bloggers like this: