بچوں کی جسمانی سزا کے صحت پر اثرات

August 12, 2013 at 10:53 , ,
امام دین؛

پاکستان میں بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کا سب سے اہم ہتھیار مار پیٹ کا استعمال ہے۔ جب والدین یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ مار کر ہی وہ بچے کو صحیح راہ پر لا سکتے ہیں تو انہیں اس کے دیرپا اثرات کا علم نہیں ہوتا کیونکہ تعلیم گاہوں میں ہمارے معاشرے کے سائینسی مطالعہ کا کوئی رحجان موجود نہیں۔

تاہم اہل مغرب اسی لیے ترقی کی معراج پر ہیں کہ وہ معاشرے کے کسی بھی پہلو کاسائینسی مطالعہ کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسی ہی ایک تحقیق میں جس میں اس بات کا مطالعہ کیا گیا کہ بچپن کی مار پیٹ کا بچوں پر بعد کی زندگی میں کیا اثر ہوتا ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوئی کہ ایسے بچوں میں موٹاپا، جوڑوں کا درد اور دل کی بیماری دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ کوئی اس سمت میں پہلی تحقیق نہیں ہے۔ اس سے پیشتر ہونیوالی تحقیق سے یہ بات طے پا چکی ہے کہ بچپن کی مار پیٹ کے نتیجے میں جھگڑالو پن اور جذبات سے مزیں شخصیت پروان پاتی ہے۔کینڈا کی ایک یونیورسٹی کی محقق کا کہنا ہے کہ “بچوں کو تنظیم کی ضرورت ہے پر اس کی قیمت مار پیٹ پر نہیں ہونی چاہیے”۔

امریکہ میں ہونیوالی اس تحقیق میں تقریباً پینتیس ہزار بالغان کا دو سال کے دورانیہ میں مطالعہ کیا گیا۔ ان میں سے صرف چار فی صد پر بچپن میں تشدد کیا گیا تھا۔

ان میں موٹاپے کی شرح عام لوگوں کی نسبت پانچ فی صد زائد تھی، جوڑوں کا درد کی شرح عام لوگوں کی نسبت اڑھائی فی صد زائد جبکہ دل کی بیماری کی شرح عام لوگوں کی نسبت دو فی صد زائد تھی۔

محققین نے اس ضمن میں دوسرے عوامل جیسے کنبے کی آمدن اور افراد کا آپس میں برتاؤ کا بھی مطالعہ کیا۔ ایسے بچے جن کو بچپن میں سخت لعن طعن کا سامنا رہا ان میں ان تینوں بیماریوں میں اضافے کی شرح بیس سے اٹھائیس فی صد زائد تھی۔ تاہم محققین ان نتائج کو حتمی نہیں سمجھتے کیونکہ مار پیٹ اورلعن طعن کا بچوں کی صحت سے براہ راست تعلق تاحال دریافت نہیں ہوا۔

عموماً والدین میں بچوں کے ڈسپلن اور لعن طعن میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے اور والدین آج بھی پرانی ڈگر پر چلتے نظر آتے ہیں۔ امریکن ہیومین ایسوسی ایشن کے مطابق چائلڈ ابیوز کی تعریف یوں کرتی ہے، “جان بوجھ کر بچوں کو مارنا، دانتوں سے کاٹنا، انکا بدن جلانا یا کسی بھی دوسری طرح بچے کو نقصان پہنچانا؛ چائلڈ ابیوز ہے”۔

سائیکالوجی ٹوڈے کے مطابق بہت سے چائلڈ ابیوزرزکو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی حدود عبور کر گئے ہیں اور ان کا طرزِعمل بچے کے لیے خطرناک ہے۔امریکن اکیڈمی برائے چائلڈ سائیکالوجی کا کہنا ہے کہ جو بچے اس تمام طرزِعمل سے بخوبی گزر بھی جائیں تو بچپن کی خوفناک یادیں دیر تک ان کے ساتھ چلتی ہیں۔ ان خوفناک یادوں کے سبب بُرے یا خوفناک بھوت پریت والے خوابوں کا نظر آنا،موت کا خوف اور کسی قسم سرگرمی میں عدم دلچسپی وغیرہ شامل ہیں۔

آج کے زیادہ تر ماہر صحت اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بچوں میں ڈسپلن صرف زبانی تبادلہ خیال سے کرنا چاہیے۔ وقتی جسمانی سزا نقصان دہ تو معلوم نہیں ہوتی تاہم اس کے دور رس نتائج ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



two + = 9

%d bloggers like this: