ایک ملک کی داستان

October 29, 2013 at 03:48 ,
عدنان خان؛

کہتے ہیں کہ گزرے وقتوں میں کالے کوسوں کی مسافت پر ایک ملک نیم روز نامی ہوا کرتا تھا۔ اصل نام تو اس کا کچھ اور تھا لیکن رفتہ رفتہ وہ اپنے باشندوں کی منفی ذہنیت اور کڑوے کسیلے رویے کی وجہ سے نیم چڑھے لوگوں کے روز و شب والا ملک کہلانے لگا اور بعد میں مختصراً اسے ملک نیم روز کہا جانے لگا۔ وہاں کے لوگ کبھی کسی بات پر خوش نہ ہوتے تھے۔ اگر ارد گرد کی ولایتوں میں ان کے کسی باشندے کو عزت دی جاتی تھی تو وہ شور مچاتے تھے کہ ہمارا یہ شہری تو کسی قابل ہی نہیں ہے۔ اقوام عالم اسے عزت کیوں دے رہی ہیں۔ یہ ضرور ہمارے دشمنوں سے مل گیا ہے۔ اور اگر وہ ان کے باشندوں کو نظر انداز کرتے تھے تو پھر بھی یہ قوم شور مچاتی تھی کہ کیا ہم کسی قابل ہی نہیں ہیں جو کوئی ہمارے کسی عالم فاضل شخص کو مانتا ہی نہیں ہے، یہ ہمارے خلاف سازش ہے۔اقوام عالم نے ان کے ایک عالم کو اس کی سائنسی کاوش پر ایک نوبل نامی انعام دیا تو سب ناراض ہو گئے کہ اس بدعقیدہ شخص کو یہ سائنس کا سب سے بڑا انعام کیوں دیا گیا ہے۔ اایک خاتون نے اپنے ملک میں عورتوں کو تیزاب سے جلانے پر ایک فلم بنا ڈالی اور مسئلہ اٹھانے پر اس کو ایک بڑا انعام مل گیا تو سب اس کے دشمن ہو گئے کہ ہمارے خلاف یہ کیسی سازش ہے کہ اس عورت نے ہمیں بدنام کر ڈالا ہے۔ اس عورت کے خوب لتے لیے گئے لیکن تیزاب سے جلنے والیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا۔

دوسری اقوام کو یہ اپنے معاملے میں بولنے پر ڈانٹتے تھے اور خود ساری دنیا کے ہر معاملے میں کود پڑنا اپنا حق جانتے تھے۔ یہ لوگ کھیل تماشے اور آتش بازی اور رنگ و نور کے بہت شوقین تھے اور اپنی خوشی میں اپنے ہمسائیوں کو بھی ان کے لاکھ انکار کے باوجود شامل کرتے تھے۔ اسی لیے اکثر دور دور کے ملکوں میں یہ آئے دن کوئی نہ کوئی گل کھلاتے اور کافی شور والے پٹاخے چلاتے ہوئے پائے جاتے تھے اور ازراہ تشکر وہاں سرکاری مہمان کا درجہ پاتے تھے۔

ان کے اس رویے کی وجہ سے دور و نزدیک کے سب ملک ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور اس کے باشندوں کو اپنے ملک آمد پر خصوصی قطاروں میں کھڑا کرتے تھے۔ دوسرے ملکوں کے لوگوں کو تو وہ فوراً جانے دیتے تھے لیکن نیم روز کے باشندوں کو گھنٹوں ائیرپورٹ پر ہی روک لیتے تھے اور اصرار کرتے تھے کہ کچھ خاطر مدارات اور خدمت کا موقعہ دیں۔ اپنی آنکھیں تو آپ کی دید سے ٹھنڈی کرنے دیں۔ بلکہ ویڈیو بنا کر یادگار کے طور پر محفوظ کر لیتے تھے تاکہ بار بار دیدار کر سکیں۔ قدیم شعرا اپنی محبوباوں کے سراپے کو بھی اس طرح اپنی شاعری میں محفوظ نہ کرتے ہوں گے جیسے یہ محبت کرنے والے قدردان نیم روز کے باشندوں کو ان کی جھیل جیسی گہری آنکھوں کی پتلی سے لے کر نشان انگشت تک مکمل طور پر اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتے تھے۔

یوں تو ملک میں بہت سے نابغے تھے لیکن زیادہ نام وہاں بوریا اقبال خان اور نثار اقتباسی نامی دو عظیم وقائع نگاروں کا ہوا۔ بلا کی نگاہ اور فراست پائی تھی انہوں نے۔ پلک جھپکتے میں نیم روز کے خلاف بیرونی سازش کا سراغ لگا لیتے تھے اور پل بھر میں بظاہر بہت معصوم سے تعریفی جملوں میں یہ اپنے ملک و مذہب کے خلاف توہین دریافت کر لیتے تھے۔ سارے ملک میں ان کا طوطی بولتا تھا لیکن حق یہ ہے کہ طوطی سے زیادہ یہ خود بولتے تھے۔ بڑے سے بڑے مخالف کو یہ پل بھر میں یہود و نصاری کا ایجنٹ ثابت کر دیتے تھے اور اگر وہ نابکار اقبال جرم سے انکار میں کچھ ہچر مچر کرتا تھا تو وہ دین و وطن کا دشمن قرار پاتا تھا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ اچانک مشہور ہوا کہ ایک ننھی بچی کو کچھ لوگوں نے سر میں گولی مار دی۔ دنیا میں بہت غل مچا۔ گو کہ گولی مارنے والوں نے اقبال جرم کر لیا تھا لیکن پھر بھی ان دو دانشوروں اور ان کے ماننے والوں کی نگاہ سے حقیقت نہ چھپ سکی۔ انہوں نے سب کو سمجھایا کہ دیکھو، اول تو گولی مارنے والے نیک لوگ ہیں۔ بچیوں کو گولی مارتے ہی نہیں۔ اور اگر انہوں نے گولی ماری بھی ہے تو سوچ سمجھ کر شریعت کے مطابق ہی ماری ہو گی کہ وہ تو اکبر الہ بادی کے الفاظ میں خلاف شرع تھوکتے بھی نہیں ہیں۔ اور ماری بھی ہے تو سر میں گولی لگنے کے بعد کون زندہ بچتا ہے۔ اس لیے یہ سب یہود و نصاریٰ کا سازشی ڈرامہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

بہرحال، چند ماہ بعد وہ بچی ملک سے باہر علاج کے بعد ہٹی کٹی ہو گئی اور کئی اقلیم کے ملکاوں بادشاہوں اور سربراہوں نے اس کے اعزاز میں دعوتیں کر ڈالیں۔ فرمائش ہوئی کہ اپنی آپ بیتی ہی لکھ ڈالو۔ اور اس نے لکھ ڈالی جو دنیا بھر میں مشہور ہوئی اور اسے بہت مال و دولت ملا۔

اب اس کے سازش ہونے میں کسی کو کوئی شبہ تھا تو وہ نہ رہا۔ نیم روز کے دانشور تو بوریا اقبال خان اور نثار اقتباسی تھے لیکن ساری دنیا میں کتاب اس سکول کی بچی کی مقبول ہوئی جا رہی تھی۔ یہ نیم روز کے خلاف سازش نہ تھی تو اور کیا تھا کہ وہاں کے عالموں کو چھوڑ کر وہاں کے بچوں کو عزت دی جا رہی تھی۔ بوریا اقبال خان نے ترنت کتاب منگائی۔ اسے سونگھا، تولا اور حتی کہ ادھر ادھر سے چند صفحات کھول کر ایک آدھی سطر بھی پڑھ ڈالی۔ یہ عظیم حکیم ایسے ہی تو دانشور مشہور نہ ہوا تھا۔ یہ باکمال شخص دیگ کے چند دانے ساتھ والے شخص کی پلیٹ سے چکھ کر ہی پوری دیگ کا حال بتا دیتا تھا۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا تھا اور اس کی گنتی سے چڑیا یا کوئی گنتی جاننے والا اختلاف کرتا تھا تو اسے دائرہ اسلام سے خارج کر ڈالتا تھا کہ محض ایک نگاہ میں ہی یہ مخالف کے دل کا حال جان سکتا تھا۔ اس کے لیے اس نپی تلی کتاب کے چند جملے پڑھ کر ہی اپنا مطلب نکال لینا کیا مشکل تھا۔ اس نے ایک تہلکہ خیز مضمون لکھ کر پرچے میں چھاپ دیا اور اس کتاب کے اس بچی سمیت پرزے اڑا دیے۔ نثار اقتباسی نے بھی اغلباً یہی مضمون پڑھ کر اس سے اقتباسات اٹھائے اور سیر پر سوا سیر والا مضمون لکھ ڈالا۔ اور ملک نیم روز کے باشندوں نے کتاب کو پڑھنے کی ضرورت سمجھے بغیر اس کا متن جان لیا۔ ویسے بھی ان کو بوریا اقبال خان نے نصیحت کر ڈالی تھی کہ کتاب پڑھ کر وقت ضائع کرنا ہی مقصد ٹھہرا تو مضمون ہی پڑھ کر یہ مقصد حاصل کر لیں۔

جنہوں نے کتاب کو چھوا تک نہ تھا وہ اس پر ماہرانہ رائے دینے لگے۔ اور سولہ سالہ بچی کی سوانح عمری کو ایسے تولنے لگے جیسے اس نے کوہ طور کا سفرنامہ لکھ ڈالا ہو۔ اور جنہوں نے پڑھا تھا وہ ان پر سر پیٹنے لگے۔ جس بات پر اس نے ڈیڑھ دو سو صفحے لکھ ڈالے اس کا کہیں ذکر نہ ہوا اور جس بات پر اس نے ایک ڈیڑھ صفحہ بھی نہ لکھا وہی توڑ موڑ کر حاصل مضمون قرار پائی۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



7 + six =

%d bloggers like this: