اوہم پرستی اور بیماریاں

September 3, 2013 at 06:01 ,
انا الحق؛

اوہم پرستی نے کبھی بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑا انسان جیتنا شعور کا دعوہ کرے وہ اوہام پرستی سے بچ نہیں سکتا۔ اوہم پرستی مذہب میں بھی شامل ہے اور اس سے جدا انسان کی روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا کے انسان اس کی لپیٹ میں رہے ہیں.. اور بیماریوں کی وجہ بھوت پریت کو سمجھنا اور ان کا علاج بھی انھیں ٹونے ٹوٹکوں سے کیا جاتا رہا ہے۔جیسے روم میں بخار اتارنے کے لیے مریض کے ناخن کاٹنے کے بعد موم میں ڈبو کر طلوع آفتاب سے قبل ہمسائے کے دروازے کے آگے رکھ دئے جاتے ہیں۔

افلاطون جیسا مفکر اپنی جمہوری ریاست میں لوگوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے گھر کے دروازے یا بزرگوں کی قبروں پر پڑی موم دیکھو تو جان لو کہ کیسی نے ٹونا کیا ہے لہذا اس کے توڑ کی کوشش کرو۔

چوتھی صدی میں بورڈیکس کے مارسیلس نے موہکوں کا روحانی علاج بتایا جو آج بھی یورپی معاشروں میں مانا جاتا ہے۔

تم اپنے موہکے کے برابر پتھر کو اپنے موہکے پر رگڑو پھر اس پتھر کو شاہ بلوط کے پتے میں باندھ کر عام گزر گا پر پھنک دو۔ جو شخص اس پتھر کو چھوئے گا اس کو موہکے نکل آئیں گے اور مریض کے موہکے صاف ہو جائیں گے۔

جزائر ارکنی کے لوگ اپنے مریضوں کو نہلانے کے بعد پانی گزر گاہ پر پھینک دیتے ہیں جو شخص اس پانی سے گزرتا ہے وہ اس مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے اور مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بویریا میں بخار اتارنے کے لئے کاغذ کے ٹکرے پر یہ عبارت لکھ کر کہ “بخار ٹھہرو، رک جاؤ” کسی کی جیب میں ڈال دی جاتی ہےجس سے اس شخص کو بخار چڑھ جاتا ہے اور مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

دانت درد کا علاج : شبھ دن میں شبھ گھڑی میں مینڈک پکڑ کر اس کا منہ کھول کر کہو میرا دانت درد ہے اس کے بعد مینڈک کو چھوڑ دو۔

منہ آنا اور منہ پکنے کا علاج: مینڈک کا منہ پکڑ کر مریض کے منہ میں دے کر کہتا ہے اس کا مرض فوراً لے لو۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مینڈک کھانسنے لگتا ہے اور مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔

کھانسی:نارتھمپٹن شائر ڈیوں شائر اور ویلز کے علاقے میں کھانسی کے مریض کا علاج کرنے کے لیے مریض کے سر کے بال اتار کا ڈبل روٹی میں رکھ کر کتے کو کھلا دئے جاتے ہیں جس سے کھانسی کتے کو لگ جاتی ہے۔

بخار: اولڈن برگ کے علاقے میں بخار کے مریض کے حصے کا دودھ کتے کو پلایا جاتا ہے اور دوبارہ مریض کو پلایا جاتا ہے جس سے بخار کتے میں منتقل ہو جاتا ہے۔

تپ دق: ویدک لوگ تپدق کا علاج نیل کنٹھ سے کرتے تھے۔

مریض کا مرض: ایتھینز میں سینٹ جان کے گرجا کا ستون اس کام کے لیے با لعموم استعمال کیا جاتا ہے۔ بخار کے مریض ایک دھگہ کو موم لگا کر اس کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔

سرگرانی: مریض سن کے کھیت میں عریاں تین چکر لگا آئے تو مریض تندرست ہو جاتا ہے۔

گٹھیا: سونن برگ میں گٹھیا کے مریض سن کے پودے کو گرہ لگا کر کہتے ہیں : اے عظیم کتان خدا تمہیں خوش رکھے میں گھٹیا کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہوں۔ میں نے گرہ میں اپنا مرض باندھ دیا ہے۔

یہ چند اہم مثالیں ہیں جو یورپ میں بہت عرصہ رائج رہیں اور کچھ ابھی بھی موجود ہیں۔ آخر انسان ہمیشہ سے اوہام پرست کیوں رہا ہے۔ ہمارے اردگرد بھی ایسی بہت سی روایات اور توہمات پرستیوں کی مثالیں عام ہیں۔ جو یان تو مذہب کا حصہ تھیں یاں انسان نے ان کو آہستہ آہستہ اس کا حصہ بنا لیا۔

بیماریوں کو پریوں، فرشتوں، جنوں اور یورپ میں چڑیل سے ملایا جاتا رہا یعنی بدروحیں اچھے انسانوں کو بیمار کرتیں ہیں اور ان سے بچنے کے لیے ان کو دور کیا جاتا اور نذرانے پیش کیے جاتے۔

ایسی طرح بیماری کو گناہوں کی صفائی کا سبب سمجھا جاتا ہے جو شخص جیتنا بیمار رہے یعنی وہ گناہوں سے پاک ہو گیا۔ یہ بات بھی بیماری کی اصل تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے۔ بیماری کی وجہ نہ نظر آنے والے جراثیم ہوتے ہیں اس کے دریافت بہت عرصہ بعد کی گئی اس سے پہلے اور کچھ علاقوں اور قبائل میں اب تک اس کو بھوت پریت کی وجہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا علاج کوئی مذہبی نمائیندہ ٹونے ٹوٹکوں سے کرتا ہے۔ دم، تعویز، منتر، جنتر اور گٹ ہمارے معاشرے کے اہم ناسور ہیں۔

بیمار کے کمرے میں ہرمل کا دھواں دیا جاتا ہے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بیمار سے جن دور ہو جاتے ہیں یاں کوئی بیرونی سایہ جب کہ ہرمل ایک ایسے پودے کہ بیج ہیں جو جراثیم کش اثرات رکھتا ہے اور ابن سینا اس کو اپنے مریضوں کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

اسی طرح یرقان کے علاج کے لیے اکثر ایک قسم کی گھاس کے پھولوں کا ہار بنا کر مریض کے گلے میں ڈال دیا جاتا ہے اور خشک ہونے تک انتظار کیا جاتا ہے۔

مختلف درختوں لکڑی کے ٹکڑے گلے میں ڈالے جاتے ہیں تاکہ مریض ٹھیک ہو جائے۔

نظر وٹو: یہ ایک طرح کا نظر اتارنے کے لیے یان تو کڑا، خالینہ، یاں کوئی علامتیہ مریض کو پہنایا جاتا ہے۔ تاکہ وہ نظر بد سے بچے جیسے چشم بد دور جیسے لفظ ست پکارا جاتا ہے۔

ایسی بہت ساری توہمات پرستی پر مبنی بکوسیات ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکیں ہیں۔ جن کو دور کرنا بھی اہم کام ہے اپنے گھر اور ارد کو اس سے مخفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی چیز کی اصل وجہ کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ اور لوگوں کو تعلیم کیا جائے کہ یہ تمام نفسیاتی تسلی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ مزید اس موضوع پر بحث جاری رہے گی جس میں یورپ سے لے کر تمام معاشروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ آپ بھی اپنے اردگرد کی کچھ توہم پرستی یہاں شئیر کریں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



five − 2 =

%d bloggers like this: