انقلاب یا ارتقاء

August 2, 2014 at 08:53 , ,

مبارک حیدر؛


آجکل پاکستان میں انقلاب ایک پسندیدہ لفظ ہے۔ یہ ایک دلچسپ مطالعہ ہے کہ جیسے جیسے کسی سماج سے دلیل اور ڈائلاگ جلا وطن ہوتے چلے جاتے ہیں انقلاب کا تذکرہ تیز ہوتا جاتا ہے۔ حیات اور انسانی سماج کی نشو و نمو میں فطری عمل انقلاب نہیں ، بلکہ ارتقاء ہے۔

انقلاب انسانی معاشرہ کا ایک ایسا المیہ ہے جس کی اذیت نت نئی اذیتوں کو جنم دیتی چلی جاتی ہے۔ انقلاب کا تصور “اچانک پن ” اور تشدد کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ استدلال اور معقولیت کی موت سے انقلاب کو حیات ملتی ہے۔ فطرت میں انقلاب نہیں ارتقا ہے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی اور انسان فطرت کی چیرہ دستیوں سے لڑتے ہیں۔ زندگی کی کم ذہین شکلیں فطرت سے شاکی ہوتے ہوئے بھی اس کے ہاتھوں شکست کھاتی رہی ہیں۔ تاہم فطرت سے لڑتے ہوئے زندگی کو جتنی بھی کامیابی ملی قوت سے نہیں بلکہ ارتقا سے ملی ، فطرت ایسے عوامل کا اجتماع ہے جن کا حاصل جمع ، اندھی قوت ہے ، جبکہ ارتقا صلاحیت ہے۔ زندگی نے قوت کا مقابلہ قوت سے نہیں سیکھنے کی صلاحیت سے کیا۔ چنانچہ یہ کہنا درست لگتا ہے کہ ذھانت سے پہلے کا ارتقا شکستوں سے نکلنے کی جبلی صلاحیت کا نام ہے جوبار بار غلطی سے سمت کا تعین کرنے کا عمل ہے۔ یہی صلاحیت ارتقائی عمل سے ذھانت میں تبدیل ہوئی ہے۔

انسان بھی ہمیشہ سے فطرت کا باغی رہا ہے۔ لیکن انسان کو فطرت کے جبر سے آزادی ہمیشہ ذھانت کے استعمال سے ملی ، علم سے ملی۔ یعنی اس نے قوت کا مقابلہ کرنے کے لئے قوت کے پیچھے چھپے ہوئے قوانین کا علم دریافت کیا اور استعمال کیا۔ یہ ارتقائی عمل ہے ، جبکہ انقلاب قوت کے خلاف قوت استعمال کرنے کا عمل ہے جس میں ایک غیراعلانیہ اعتراف موجود ہوتا ہے کے جبر کے خلاف لڑنے والی آزادی کا لشکر بہتر ذھانت و صلاحیت سے محروم ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ انقلابی عنصر جبر کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ پاتا۔

ارتقا کی پہچان یہ ہے کہ یہ وجود کے اندر سے اگتا ہے ،آہستگی سے پھیلتا ہے ، جبر کے بغیر بلکہ جبر کے باوجود پھیلتا ہے اور وجود کو حیات بخش آسودگی کا احساس دیتا ہے۔ اسے قوت اور جبر تمام تر کوششوں کے باوجود روک نہیں پاتے۔ یہ وجود کو ایسے بدلتا ہے کہ وجود کو واپسی پر آمادہ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ پتھروں کے دور سے ابتک انسانی معاشروں نے جس جس منزل کو پیچھے چھوڑا ، وہ مستقل طور پر ماضی ہو گئی۔ کوئی اس کی طرف پلٹا نہیں۔

اس کے بر عکس جو نظام انقلاب سے رائج ہوئے وہ اپنے تقدّس کے باوجود اندرونی خلفشار کا شکار ہو گئے اور ہر کوشش اور جبر کے باوجود دوبارہ قائم نہیں ہو سکے۔

انقلابی نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ اسکا نظریہ انسانی زندگی میں رائج ہونے سے پہلے اقتدار مانگتا ہے۔ اسکا نظریہ معاشرہ کی زندگی میں جبر کے بغیر قائم نہیں رہ پاتا۔ انقلاب خود رو نہیں ہو سکتا۔ خود رو حالتوں میں یہ بد ترین بدامنی کی صورت اختیار کرتا ہے۔

ارتقائی نظام کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اقتدار سے پہلے سماجی زندگی میں رائج ہوتا ہے۔ اقتدار اسکا نتیجہ ہوتا ہے۔ ارتقا خود رو عمل ہے۔ یہ انسانی معاشرہ کی باطنی نشو و نما کا اظہار ہوتا ہے۔

ان گنت اندھی الجھنوں میں پھنسے ہوئے پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ عالمی انسانی ارتقا کا موجودہ مرحلہ اس کے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے جسے چھوڑ دینا اس کے لئے ممکن نہیں۔ لیکن ایک جابر گروہ اپنے نظریاتی تشدد کی طاقت سے اس کے فکری ارتقا کو روکے ہوئے ہے۔ یہ سماج عملی طور پر ارتقا کے راستے سے ہٹ نہیں سکتا اور فکری طور پر پر اس رستے پر چل نہیں سکتا۔ اسی اذیت کا نتیجہ ریاکاری اور انتشار ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



4 + nine =

%d bloggers like this: