انسانی تہذیب کا ارتقاء

June 27, 2013 at 10:36 , ,
امام دین اور احمد وقاص کی مشترکہ کاوش؛

بنی نوع انسان کا ارتقاء جنگلوں سے شروع ہوا اور اب وہ کثیرالمنزلہ عمارتوں میں رہائش پذیر ہے۔ ۔ان میں سے بعض زمین کی بجائے اب خلا میں قیام پذیر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین کی حدوں کو نہ صرف عبور کر گئے ہیں بلکہ آسمانوں پر بسیرا کیے ہوئے ہے۔کہاں کبھی انکی گزر بسر شکار اور گھوم پھر کر ہوتی تھی۔ پھر چھوٹے چھوٹے شکاریوں کے گروہ بنے اورجنگلوں سے شروع ہونے والے اس ارتقا ءمیں انسان نے جنگلوں میں رہائش ترک کر کے آبادیاں بسائیں جو آگے چل کر قبائل کا روپ دھار گئی۔ یہ قبائل ملکر ایک قوم بنے اور قوموں کے بطن سے ملک وجود میں آئے۔

ابتدائی گروہوں اور قبائل میں کوئی ادارہ نہیں تھا۔ یہ آبادیاں وحشی، جنگلی اور غیر مہذب تھی جن کے وجود کا انحصار انتقام، لڑایوں اور لوٹ مار پر تھا۔ یہ بس زندہ رہنے کی ایک جستجو تھی جس میں انسان نے دو ٹانگوں چلنا تو سکھ لیا تھا مگر ابھی دماغی طور پر نابالغ تھا ۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، جان کے بدلے جان ان کا سماجی انصاف کا نظام تھا۔ اپنی نسل اور قبیلے پر تفاخر عام تھا اور دیگر نسلوں اور قبائل کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔انسانی غلامی عام تھی اور غلاموں کی خریدوفروخت کا مقصد دوسروں کو شرمندہ کرنا اور گھٹیا ہونے کا احساس دلانا تھا ۔عورتوں کو مردوں کی جائیداد سمجھا جاتا تھا، گھر میں زیادہ عورتوں اور بیویوں کا ہونا بہادری کی علامت اور مردانہ خوبی تھی۔

آہستہ آہستہ قبائلی نظم و ضبط کے لیے ایک ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں قبیلہ کے بعد مذہب کا ایک ادارہ تشکیل پایا جو کہ شائد پہلا منظم ادارہ ہے انسانی تاریخ میں ۔ جس کا مقصد معاشرے میں امن اور کچھ مشترک اخلاقی اور قانونی روایات کا بنانا تھا ۔اس طرح مذہب قوائد و ضوابط کا یک مجموعہ بن کر سامنے آیا ۔ یہ ادارہ بھی غیر مہذب اور انتقامی اقدار پر مبنی تھا کیونکہ اس کا مقصد تو قبائلی معاشرے کو منظم کرنا تھا ،جس میں بدلہ کو انصاف کا نام دیا گیا اور ووہی آنکھ کے بدلے آنکھ کو قانونی حیثیت دے دی گئی . اس ادارے نے بربریت پر مبنی تمام اقدار مثلاً غلامی، لوٹ مار اور کثیرالازواج کو قانوناً جائز قرار دیا ۔آہستہ آہستہ یہ ادارہ بھی ارتقا کے عمل سے گزرا اور اس ادارے نے لوگوں کو یہ سکھایا گیا کہ کیسے غلاموں اور عورتوں سے کچھ بہتر سلوک کرنا ہے ۔ مگر کوئی بھی مذہب ان قبائلی روایات کو غلط نہیں کہ پایا ۔نہ اس نتیجہ پرپہنچ سکا کہ یہ سب برائیاں ہیں اور تمام انسان، خواہ وہ کسی بھی دوسرے مذہب، جنس، نسل یا معاشرے سے تعلق رکھتے ہوں ، برابر ہیں۔ مذہب کا ایک مثبت پہلو تھا خود احتسابی سکھانا۔ اداروں کی غیرموجودگی میں خود احتسابی ایک اچھی حکمت عملی تھی ۔اور انسانی ضروریات کے تحت بننے والا یہ ادارہ آہستہ آہستہ پورے معاشرے پر ہاوی ہو گیا۔ اخلاقیات سے لے کر قوانین اور بنیادی نظریات سے لیکر سیاست تک ہر جگہ اسکی طوطی بولتی۔اور یہ ادارہ آہستہ آہستہ نہ صرف طاقت کا منبع بنا بلکہ ایک استحصالی طاقت اور جمود کی علامت بن کر سامنے آیا۔

روز اول سے انسانی معاشروں میں سوچ بچار کرنے والے ۔ سوال کرنے والے اور اجتماعی سوچ رکھنے والے لوگ موجود رہے ہیں ۔ وہ لوگ بھی جنہوں نے مذہب کا ادارہ بنایا اور اسکو اگے بڑھایا اور وہ بھی جو مختلف سوچ رکھتے تھے ۔ہمیشہ سے آزاد سوچ کے مفکر اور متضاد سوچ کے حامل دنیا زیر عتاب رہے ہیں، ایک وقت ایسا آئیا جب ان میں سے کچھ بہادر انسان اس ادارے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئےاور دنیا کو یوں بدلنے کی ٹھانی کہ اس بدلی دنیا میں عقل و دلیل اور دماغ کا استعمال سب سے افضل ہو گیا۔ یہ سب لوگ اُس پرتشدد وحشی معاشرے کی گھٹیا وحشیانہ قبائلی اقدار کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے اس سارے غیر مہذب اور ناانصافی پر مبنی معاشرے کی اعلانیہ ملامت کی اور ان تمام وحشی اقدار کو مسترد کر دیا۔ اور انسان کو صرف انسان سمجھنے پر زور دیا ۔نسلی، قبائلی اور سب تفاخر رد کر دئے گئے اور یوں جدید تہذیب کی طرف انسان نے قدم بڑھایا۔

آہستہ آہستہ بنی نوع انسان نے، معاشرے کی بہتری کے لیے مزید اچھے اور بہتر راستے تلاش کر لیے. عقل پرستوں کو دنیا میں حکومت ملی اور ترقی کا ایک نیا دور کھلا ۔ ماضی کے آزاد سوچ کے مفکروں کو بھی اپنایا اور سراہا گیا۔دیکھا جائے تو یہ تمام انسانی ارتقاء، حیاتیاتی یعنی بیالوجیکل ارتقاء کی طرح ہی ہے۔ بیالوجیکل ارتقا میں یک خلوی سے کثیر خلوی جاندار اور افعال کو سرانجام دینے کی مخصوصیت(ڈویژن آف لیبر)کی طرح انسانوں نے ماڈرن اور جدید معاشرے تشکیل دیے جس میں بہت سے ادارے تھے جو اپنے افعال اور فرائض میں مخصوص تھے۔اب ہمارے پاس حکومت کا ادارہ الگ ہے اور قانون ساز، فوجی، نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے ادارے ، معاشرتی و ثقافتی ادارے ہیں۔اس ارتقا کے نتیجے میں جو ‘ ڈویژن آف لیبر’ معاشرے میں ارتقا پذیر ہوئی اس کے نتیجہ میں مذہب بھی معاشرے کا ایک ادارہ بن گیا ہے جس کا کردار پہلے کی نسبت بہت مخصوص ہے، جبکہ ماضی میں یہی ایک واحد مرکزی ادارہ تھا جو حکومتی، انتظامی ، اخلاقی اور ہر ادارے کا کام کرتا تھا۔

(جاری ہے مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

Leave a reply

required

required

optional



5 − three =

%d bloggers like this: