انسانی تہذیب کا ارتقاء (حصہ دوم) اسلام ازم

June 29, 2013 at 07:36 , , ,
امام دین اور احمد وقاص کی مشترکہ کاوش؛

جنگلوں سے شروع ہونیوالا ارتقاء جو اب کثیرالجہتی معاشرے میں تبدیل ہو چکا ہے اور انسان اب جھونپڑی سے نکل کر میٹروپولٹن میں رہتا ہے، سننے میں انسان کو بہت محظوظ کرتا ہے۔ ہم نے صفر سے سب کچھ شروع کیا اور اب ارض وسماء کوتسخیر کر چکےہیں۔بہت سے مذاہب نے گرزتے وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتےہوئے اس تبدیلی کو تسلیم کر لیا ہے اور خود کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھال لیا ہے۔اب یہ مذاہب معاشرے کاصرف ایک ادارہ بن گئے ہیں۔

لیکن مذہب اسلام اس معاملے میں کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہوا اور ابھی بھی اپنی متروک شدہ روایات پر ڈٹا ہوا ہے۔ امام غزالی نے مذہب کے علم برداروں کو دلیل و استدلال کا فن دیا ہے۔ اس کے دیے ہوئے دلائل استعمال کرتے ہوئے مذہب کے یہ علم بردار نہ صرف انسانی تہذیب کے ارتقاء کو جھٹلاتے ہیں بلکہ اس کے متوازی نام نہاد اسلامی تہذیب کا ڈھول بھی پیٹتے ہیں۔ جو سننے میں تو بہت متاثر کن ہے لیکن حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ ایک اپنی طرز کی شدت پسندی پر مبنی تھیوری بنتی جا رہی ہے۔ مزید براں یہ بھی دیکھنے میں آئیا ہے کہ توجیہات کے استعمال سے ماضی کی بربریت اور کٹھور پن پر مشتمل ان روایات کو قانونی شکل دینے اور اخلاقی اعتبار سے قابل قبول بنانے کی لا حاصل سعی بھی کی جا رہی ہے جسے انسانی تہذیب نے اپنے ارتقاء کے دوران بہت پہلے رد کر دیا تھا۔ اسلامی تہذیب کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اسلام نے بطور ایک ادارہ اپنا دائرۂ کار بہت وسیع کر لیا ہے۔ بہت سا مواد اور کتب لکھی گئی جس میں اسلامی کلچر، اسلامی حکومت، اسلامی سیاست، اسلامی روایات، اسلامی معاشرتی نمونہ ، اسلامی حقوق نسواں ، اسلامی معاشی ماڈل ، اور اسلامی معاشرتی اقدار جیسی نئی نئی اصلاحات متعارف کروائی گئی۔

ان لوگوں نے اسلام کو ہر معاشرے ، ازم اور فلسفے کے بطور ایک متبادل کے طور پر لا کھڑا کیا۔ جس کے نتیجے میں اسلام بتدریج اسلام ازم میں بدل گیا۔ اگر یہ اصلاحات اپنے لفظی مطلب کی طرح معتدل ہوتی ہوں یقیناً ایک عمدہ نعم البدل ہوتی لیکن حقیقت کا اس سے دور دور تک بھی واسطہ نہیں۔ اس طرح اسلام کا ایک رجعت پسند ، ماضی میں ڈوبا ہوا ایسا چہرہ سامنے آیا جو آج بھی گزرے ماضی کے ظلم و جبر اور وحشیانہ طرزفکر کو پناہ دیے ہوئے ہے۔غزالی کے دیے ہوئے استدلال کو اس ناانصافی کو انصاف قرار دینے پر محنت ہو رہی ہے ۔ ایک لاطینی فلاسفر کا قول ہے، “انسان کائینات میں ہر شے کی عقلی توجیہ پیش کر سکتا ہے”۔

باوجود اس کے کہ آج کا انسان اکیسویں صدی میں جی رہا ہے لیکن اسلامسٹوں (اسلام پسندوں) نے نہ صرف تہذیب کی ارتقاء میں بڑھتے ہوئے ہر قدم کی مخالفت کا بیڑہ اٹھا لیا ہےبلکہ عرب قبائلی اور بدوؤی تہذیب جو کہ ڈیڑھ ہزار سال پرانی ہے کو اپنی اخلاقیات کےلیےسر چشمہ بنا لیا ہے اور اسی کو سب سے اعلیٰ و افضل گردانے کی رٹ لگائے ماضی کے سراب میں کھویا ہوا ہے۔ اس کوشش میں مسلمان دنیا سے مسلح لڑائی کرنے میں دریغ نہیں کرتے۔ طالبان، القاعدہ، حزب التحریر اور ان جیسے بہت سے دیگر گروہ علیٰ لاعلان ان کو نافذ کرنے کے لیے سرگرم بھی ہیں۔ وہ اعلانیہ اس بات کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ماضی کا وہ متروک دور واپس آ کر رہے گا اور اس مقصد کے لیے وہ جان قربان کرنے کو بھی تیار ہیں۔ ان کے لیے یہی متروک نظام ہی بقا کا واحد زریعہ ہے جس کا ایک اہم جز بربریت ، قتل و غارت اور تشدد ہے جبکہ دوسرے انسان ان نام نہاد خوبیوں کو صدیوں پہلے ترک کر چکے ہیں۔ مسلمان نہ صرف انکو سینے سے لگائے ہوئے ہیں بلکہ اس پر فخر محسوس کرتے اور اتراتے بھی ہیں۔

انسان جنگلوں میں چار پاؤں پپر بھاگتے بھاگتے کھڑا ہوا ، دو پاؤں پر بھاگنے لگا ، ساتھی چوپایوں پر سواری کرنے لگا اور پرندوں کو دیکھ کر ہوا میں اڑنے کی خواہش کرنے لگا۔ ایک وقت آیا جب انسان نے ہوا میں اڑنا شروع کر دیا اور پھر اڑتے اڑتے زمین کے مدار سے باہر آسمانوں کی سیر کرنے لگا۔ ایسے میں اگر کوئی اسے آ کر یہ بتائے کہ یہ سب جو تم نے کیا ہے سراب ہے اور اصلی زندگی ساتویں صدی کی تھی، یہ سب چھوڑو اور او بدوانہ طرزمعاش اپنا لو۔رہن سہن ، اخلاقیات سب وہی اعلی ہیں اور وقت وہی اچھا تھا جب ہم گھوڑوں پر پھرتے تھے اور کچے گھروں میں رہتے تھے جب کہ اندازہ ہے کہ اٹھاسی فی صد بچے اپنی پہلی سالگرہ نہیں دیکھ سکتے تھے تو اس وحشی کا بندہ کیا کرے جو آج سے خوش نہیں اور ماضی کو آئیڈیل مانتا ہے؟

اس تحریر کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Related Posts

Comments

comments

1 Comment

  • بہت اچھا۔ لکین اصل وجہ ایک اور بھی بنتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی پیدائش قبائلی نظام میں ہوئی اور پھر جاگیرداری نظام نے اس کا خوب استعمال کیا اور آج تک کر رہا ہے۔ بادشاہت کے نظام کو تقویت دینے کے لیے مذہب بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اور یہی کردار چودہ صدیوں سے اسلام نے کیا اور اسی لیے لاشعوری طور پر اسلام کے ماننے والے اسی بادشاہت کی طرف پلٹنے میں اپنی بقا سمجھتے ہیں۔ اور اس کے لیے شعوری کوششیں کرتے ہیں۔جب کہ آج کے جدید سرمایہ داری نظام میں جس طرح انسانیت کے استحصال کے نت نئے ہتھکنڈے سامنے آ چکے ہیں ان میں مذہب کا ہتھیار بہت چھوٹا نظر آ رہا ہے۔

Leave a reply

required

required

optional



5 − = one

%d bloggers like this: