انسان، جنسیات اور سائینس

September 2, 2013 at 06:43 ,
ارشد محمود؛

ہمارے ہاں جنس(سیکس) ایک ممنوعہ موضوع ہے۔ ہم اس سلسلے میں اتنے ’نیک‘ ہیں۔ ہم نے خود کو کبھی پتا نہیں لگنا دیا، کہ ہم انسان اپنے والدین کے جنسی ملاپ کی پیداوار ہیں۔ جنس اتنی ’گندی‘ چیز ہے، ہم خدا کو بھی مشور ہ دے ڈالتے ، کہ اس نے پیدائش کے لئے آخر جنسی اعضاء کے ملاپ کا ’بے شرم‘ طریقہ کیوں اختیار کیا۔ لیکن ہمارے اس مضمون کا موضوع ہی یہ ہے، کہ خدا کو بطور خالق نہ صرف جنسی ملاپ سے کس قدر دلچسپی ہے، بلکہ وہ فطرت کے اندر ہر طرح کی جنسی گمراہی اور بدچلنی(PERVERSION) کا دلدادہ نظر آتا ہے، جن کو ہم ’’اخلاق یافتہ‘‘ قوموں نے گناہ کبیرہ قرار دے رکھا ہے۔ اور ان افعال کے سر ذد ہو جانے پر کیا کیا دردناک سزائیں تجویز کررکھی ہیں۔

ہمارے اپنے جسم کو سمجھنے میں طبی علم کا اثر رہا ہے۔ جسے استعمال کر کے ہم جنس کے بارے میں اپنے ثقافتی رویوں کے لئے قاعدے اور ضوابط بناتے رہے ہیں۔ ابتدائی زمانے میں انسان کی جنسی تجسس اور تحقیق ، علم حیاتیات، تشریح اعضاء، افزائش یعنی بچے کی پیدائش کے حوالے سے تھی۔ اسی کے ساتھ اخلاقیات، عصمت و عفت اور جنسی ضوابط کے معاملات بھی چلتے رہے۔ جنسی طور پر ’خراب‘ ہونے کا مطلب خودلذتی اور ہم جنسیت کو قرار دیا گیا اور ان کے لیے سزائیں تجویز کی گئی۔ ’فطری‘ اور ’صحت مندانہ‘ جنس کیاہے۔ اور پھر کس کے ساتھ، اور کس وقت آپ سیکس کرسکتے ہیں، کو متعین کیا جانے لگا۔

راقم کو یہ انکشاف اس وقت ہوا، جب حال ہی میں نیویارک میں واقع ’جنس کا عجائب گھر‘ (SEX MUSEUM) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ترقی یافتہ قوموں کے لئے عجائب گھر اتنے ہی ضروری ہیں، جیسے ان کی یونیورسٹیاں۔ یورپ میں کوئی بستی ، شہر، قصبہ ایسا نہیں ہوتا، جہاں کسی نہ کسی طرح کا کوئی میوزیم نہ ہو۔ میوزیم ان قوموں کے نزدیک تعلیمات عامہ (PUBLIC EDUCATION) کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہم جیسی قوموں کو میوزیم اور لائبریریاں نہیں جگہ جگہ ہر چند گز کے فاصلے پر پوجا پاٹ کی عمارتیں ،درگاہ، مزار درکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارا دعویٰ ہوتا ہے، ہم دنیا کی سب قوموں سے زیادہ ’سچائی‘ کو جانتے ہیں۔۔ اور یہ کافر قومیں کلمہ پڑھ کر اپنی عاقبت کیوں نہیں سنوار لیتی۔یہ وہ لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ جن کی اپنی دنیا اجڑ چکی ہے اور دنیا کو دکھانے کے لئے موت کے بعد کے خیالی اثاثے کے سوا کچھ نہیں۔ مذکورہ میوزیم جنس کے لاتعداد پہلووں پر علمی روشنی ڈالتا ہے۔ وہاں جنس سے متعلقہ کوئی بھی موضوع حرام نہیں تھا۔انہوں نے انسان اور فطرت کو بالکل ننگا کرکے دیکھا دیا ہوا تھا۔ ایک طرف فطرت تھی، حیوانی دنیا پر ایک وسیع سائنسی تحقیق اور معلومات تھی، اور دوسری طرف انسان کی جنسی دلچسپیاں اور جنسی رویوں پر سیر حاصل تصویری، ویڈیو، تحریریں معلومات تھی۔ وہاں انسانی اور حیوانی مجسمے بھی پڑے تھے۔ جو ان کے جنسی اعضاء اور جنسی رویوں کو واضح کر رہے تھے۔ راقم جب اس میوزیم سے باہر نکلا ، تو کئی حیرت ذدہ سوال ذہن میں گھومتے محسوس ہوئے۔

ہمارے اپنے جسم کو سمجھنے میں طبی علم کا اثر رہا ہے۔ جسے استعمال کر کے ہم جنس کے بارے میں اپنے ثقافتی رویوں کے لئے قاعدے اور ضوابط بناتے رہے ہیں۔ ابتدائی زمانے میں انسان کی جنسی تجسس اور تحقیق ، علم حیاتیات، تشریح اعضاء، افزائش یعنی بچے کی پیدائش کے حوالے سے تھی۔ اسی کے ساتھ اخلاقیات، عصمت و عفت اور جنسی ضوابط کے معاملات بھی چلتے رہے۔ جنسی طور پر ’خراب‘ ہونے کا مطلب خودلذتی اور ہم جنسیت کو قرار دیا گیا اور ان کے لیے سزائیں تجویز کی گئی۔ ’فطری‘ اور ’صحت مندانہ‘ جنس کیاہے۔ اور پھر کس کے ساتھ، اور کس وقت آپ سیکس کرسکتے ہیں، کو متعین کیا جانے لگا۔

میوزیم میں کئی باتوں کو تاریخی پس منظر میں بتایا گیا تھا۔ مثلا مصنوعی جنسی آلات (VIBRATORS) کے بارے بتایا گیا، کہ ان کو بیسیویں صدی کے شروع میں ماہرین نفسیات استعمال کر تے تھے۔ اس سے قبل جن عورتوں کو ہسٹریا کا دورہ پڑتا تھا، ڈاکٹر اس مریضہ کی جائے مخصوصہ پر اپنے ہاتھوں سے رگڑ پیدا کرکے اس کی جنسی تسکین کرانے میں مدد کیا کرتے تھے۔ پھر اس کام کے لئے آلات بن گے۔ جو بعد میں پورنوگرافی کے عام ہونے سے یہ اپنی ذاتی لذت کے لئے بھی استعمال ہونے لگے۔ خود لذتی یا مشت ذنی کے بارے میں بتایا گیا۔ کہ اس کا مسئلہ سماجی سطح پر ۱۷۱۲ ءمیں اس وقت اٹھا، جب ایک کتاب چھپی، جس کا عنوان تھا، ’خود خرابی کا گناہ کبیرہ‘ (Heinous sin of self pollution) ۔ جس میں خود لذتی کو کراہت آمیز فعل قرار دیا گیا۔ اور اس کے اثرات کو دور کرنے کے لئے ایک شربت (ٹانک) بھی تجویز کیا گیا تھا۔ (جس کا مطلب لوگوں کو خوفزدہ کرکے پیسہ کمانا تھا)۔ اس کا پس منظر یہ تھا، کہ بائبل میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ ’’خدا نے ایک انسان کو سزا دی، کہ اس نے ’’اپنا بیج بہا دیا..‘‘ یہ کتاب پورے یورپ میں بڑی مقبول ہوئی۔ اور مشت ذنی کو روکنے والی کئی دوائیوں کی ایجاد کے دعوے ہونے لگے۔ ڈاکٹروں اور مفکروں نے بھی خود لذتی کے سماجی اثرات پر خو ب لکھا۔ جس میں روسو،کانٹ اور فرائڈ شامل ہیں۔ یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی، کہ ناشتہ میں کارن فلیکس کا مشہور برانڈ ہے KELLOGG شروع میں خودلذتی کے برے اثرات سے بچنے کے لئے بنایا گیا تھا…!

جدید تحقیق سے کئی چیزیں سامنے آئی ہیں، جس سے پرانے نظریات ٹوٹ گے ہیں۔ مثلا یہ کہا جاتا تھا، کہ ایک جاندار اپنی زندگی میں یا نر ہوتا ہے، یا مادہ۔ جب کہ پودوں میں اور تقریبا آدھی حیوانی دنیا میں جاندار ایک ساتھ نر بھی ہوتا ہے، اور مادہ بھی۔اور وہ اپنی زندگی میں اس کا رول بدلتا بھی رہتا ہے۔ دوسری یہ غلط فہمی ہے، کہ نر ہمیشہ مادہ سے بڑا ہوتا ہے۔ بہت سی پرجاتیوں (species) میں مثلا مچھلیوں میں مادہ نر سے بڑے سائز میں ہوتی ہیں۔ یہ بھی غلط ہے، کہ صرف مادہ ہی بچے جنم دیتی ہے۔۔جب کہ بہت سی پرجاتیوں میں نہ صرف نر انڈوں پر بیٹھتا ہے، بلکہ وہ گھونسلہ بھی بناتا ہے ۔ یہ بھی غلط ہے، کہ صرف جنسی لحاظ سے دو ہی اصناف ہیں۔ کئی پرجاتیوں میں تین اور تین سے زیادہ بھی اصناف پائی جاتی ہیں۔ یہ غلط ہے، کہ قدرت نے صرف نر اور مادہ ہی پیدا کیا ہوا ہے، بلکہ ان کے درمیان سیکس کا عمل بھی ایک سے زیادہ طریقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ بھی غلط ہے، کہ نر اور مادہ کی شکلوں میں فرق ہوتا ہے۔ نہیں۔ کئی پرجاتیوں میں نر اور مادہ کی پہچان میں امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بات بھی غلط ہے، کہ نر کا جنسی عضو Penis ہوتا ہے۔ اور مادہ کا Lactates۔ کچھ species میں مادہ کا بھی جنسی عضو Penis کی شکل کا ہی ہوتا ہے۔ اور کئی نر میں دودھ پیدا کرنے والےگلینڈز( glands) ہوتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے، کہ نر مادہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ کئی پرجاتیوں میں مادہ نر کو کنٹرول کرتی ہیں۔ جنسی ملاپ نر اور مادہ کے درمیان dynamic interaction ہوتا ہے۔ مادہ ہوسکتی ہے، dominant نر کو پسند کرے یا نہ کرے۔ یہ بھی غلط ہے، کہ مادہ یک زوجگی چاہتی ہے، اور نر کثیرالزوجگی۔ کئی پرجاتیوں میں کوئی ایک یا دونوں یک زوجگی کے قائل نہیں ہوتے۔ اور زندگی بھر کی یک زوجگی تو بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔ حتی کے ان میں بھی جو عام طور پر یک زوجہ پرجاتیاں ہیں۔

جانوروں میں سیکس کے بدلے میں اپنے جنسی ساتھی کو تحفہ (زیادہ تر کھانے کی چیز) پیش کرنے کے بھی مظاہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔جسے بعض محققین نے اسے جانوروں میں prostitution کا نام دیا ہے۔ نر Macaques کو دیکھا گیا ہے، کہ اگر اس کے پاس کم مادہ ہوں، تووہ کسی ایک کے ساتھ جنسی ملاپ سے پہلے کا پیار زیادہ کرتا ہے۔ حیوانی دنیا کے بارے میں ہمارا بڑھتا علم بتاتا ہے، کہ جانوروں کے اندر حیران کن جنسی طریقے رویے رائج ہیں۔ جانور بھی foreplayکرتے ہیں۔ چومتے ہیں، گلے لگاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو جنسی ہیجان پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اور جنسی ملاپ کے ایسے ایسے طریقے کرتے ہیں، جو ہمارے تصوروں میں بھی نہیں آ سکتے۔ چنانچہ سیکس جتنا انسانی دنیا میں پیچیدہ عمل ہے۔ اور جنسی لذت صرف انسانی دنیا تک محدود نہیں ہے۔ اس نے ہمارے لئے تحقیق کے کئی در کھول دئے ہیں، کہ non reproductive sex ممکن ہے، اس کا ارتقائی عمل میں کوئی معاون کردار ہو۔ جانوروں میں بھی کئی ایسے ہوتے ہیں ، جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جنسی ساتھی ’پھانس‘ لیتے ہیں۔۔

ہم سب جانتے ہیں۔ چین کے پانڈا جانور نے دنیا میں شہرت حاصل کر رکھی ہے۔ اس کی نسل کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں جو مشکلات آ رہی ہیں۔ وہ ان کا جنس کے بارے میں ’شرم و حیا‘ کا دخل ہے۔ مادہ پانڈا کے پاس تین دن ہوتے ہیں، جب وہ حاملہ ہونے کے قابل ہوتی ہے۔ لیکن نر پانڈہ دوسروں کے سامنے جنسی فعل میں نہیں جاتا۔ چنانچہ اس کی قوت باہ اور جنسی اشتعال کو بڑھانے کے لئے اسے پانڈوں کی جنسی فعل میں مبتلا بلو فلمیں دکھائی جارہی ہیں۔۔!!! چڑیا گھروں میں پانڈوں کو لائیو جنسی فلموں کے ذریعے ان کو سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے۔ تاکہ نا تجربہ کار اور جنسی فعل کی طرف نہ راغب ہونے والے نرپانڈوں میں جنسی اشتہا پیدا کی جا سکے۔ پانڈہ کو چین اپنے لئے فخر قرار دیتا ہے۔ اس کی نسل میں کمی ماحولیاتی بربادی اور اس کی کم شرح پیدائش بڑی وجوہات ہیں۔ چین پانڈہ کو سفارتی سطح پر خیر سگالی کے لئے بھی استعمال کرتا ہے۔ ایک پانڈہ کی دوسرے ملک کو ٹرانسپورٹ کرنے کے لئے ایک ملین ڈالر کا خرچ آ جاتا ہے۔

علم حیاتیات کی رو سے جانداروں اور پودوں اتنا تنوع پایا جاتا ہے۔ کہ نر اور مادہ کے لحاظ سے صنفی تقسیم بہت ہی مشکل ہو جاتی ہے، اس لئے کہ ایسی بے شمار species ہیں، جہاںHermaphrodites یعنی نر اور مادہ کی دونوں خصلتیں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں۔ ہم نے جنسی صنفی پیچیدگی کو عورت اور مرد میں تقسیم کر کے بہت سادہ بنا دیا ہے۔ جب کہ حقیقت ایسی نہیں۔ Parthenogensis ایک ایسا عمل ہے، جہاں پیدائش کسی بھی جنسی فعل کے بغیر ہوتی ہے۔ جہاں مادہ ہی مادہ کو جنم دیتی ہے۔ جو genetical identicalیعنی جین بالکل ماں جیسے ہوتے ہیں۔ ہم انہیں کلون بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کی پیدائش چھپکلی اور سانپوں کی ۴۵ قسموں میں دیکھی گئی ہیں۔ اس طرح کے کئی واقعات چڑیا گھروں میں دیکھے گے ہیں، کہ مادہ نے مادہ کو ہی جنم دے دیا ہے، جہاں سب مادہ ہی مقید تھی۔

فطرت کے اندر ’جنسی ہم نوع خوری‘ (sexual cannibalism) بھی پائی جاتی ہے۔ جس میں مادہ جنسی فعل کے دوران یا اس کے فوری بعد نر کو کھا جاتی۔

جانوروں میں گروپ سیکس بھی ہوتا ہے۔فطرت کے اندر ایک سے زائد جنسی ساتھی بنانا عا م ہے۔ گروپ سیکس میں ایک ہی صنف بھی ہوتی ہے، اور مخالف صنف بھی۔ اسے Mating chains بھی کہتے ہیں۔ کئی کیڑے مثلاً شہد کی مکھیاں اور مینڈک گروپ سیکس میں ملوث دیکھے گے ہیں۔ گروپ سیکس سے ایک ہی وقت میں ایک نئی نسل تیار ہو جاتی ہے۔

جو طے شدہ افکار ہوتے ہیں۔ ان کو نئی دریافتیں چیلنج کرتی ہیں۔ اور طے شدہ افکار کی طرف سے مزاحمت کی جاتی ہے۔ ان کے درمیان جدوجہد جاری رہتی ہے۔ خواہ یہ افکار، ثقافتی، اخلاقی اور مذہبی ہوں۔ چارلس ڈارون کو پتا تھا، کہ اس کی تھیوری پر مذہبی پیشواوں کی طرف سے غصہ کا اظہار ہوگا۔ لیکن اس نے اپنی کتاب Origin of Species کو چھپوانے کا فیصلہ کیا۔ آج جو لوگ ہم جنس رشتے کے قائل ہو گے ہیں۔ان کو اسٹیٹس کو کی طرف سے مزاحمت پیش ہے۔ جنس اور صنفی تمیز کے پرانے معیار ڈھے رہے ہیں۔ حیوانی جنسی رویوں میں تنوع کی تحقیق کا آغاز ارسطو سے شروع ہوا۔ جب اس نے ۳۵۰ سال قبل مسیح History of Animals لکھی تھی۔ اصل میں لفظ ’فطرت‘ میں ہی اختلاف پایا جاتا ہے۔ فطرت کسے کہتے ہیں، فطرت ہے کیا۔ یہ کہنا فلاں چیز فطری ہے.. یہ بھی قابل مباحث ہے۔ اور اس کی پرانی تعریف ڈھے رہی ہے۔ جب ہم جانوروں کی جنسی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمارے فطری دنیا کے بارے میں ہمارے نظریات پر سوالات اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ سائنسی اوذاروں کے ساتھ تجزیہ و مشاہدہ اور Documentation کا عمل ہم کو بہتر طریقے سے فطرت کے اندر پائے جانے والے جنسی پیچیدگیوں کا تنقیدی تجزیہ کر نے کے قابل بناتا ہے۔

ہم جنس پرستی ۵۰۰ حیوانی انواعات کے اندر دیکھی گئی ہے۔ اصل میں یہ موضوع بھی اخلاقیات اور سیاسی مباحث کا شکار ہو گیا۔ اب GLBTQ نام سے کمیونٹی نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جن میں مردانہ ہم جنس، زنانہ ہم جنس، ہم جنسی اور مخالف جنس کو ایک ساتھ رکھنے والے، وہ جن کی جنس تبدیل ہو جاتی ہے یا کروا لیتے ہیں۔وغیر ہ شامل ہیں۔ ان کی جدو جہد سے ’ غیر فطری‘ کے بارے میں پرانے ر جعتی تصورات تبدیل ہونے شروع ہو گے ہیں۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



three − = 1

%d bloggers like this: