اللہ کی تلوار ـ خالد بن ولید ۔ تاریخ کے آئینہ میں

November 28, 2013 at 06:52 ,

خاک نشین؛

خالد بن ولید اسلامی تاریخ کے مشہور فاتح، جنگجو، کمانڈر اور جرنیل گزرے ہیں۔ آپ کی دلیری اور اسلام کے لیئے خدمات کے پیش نظر پیغمبر اسلام نے آپ کو “سیف اللہ” یعنی “اللہ کی تلوار” قرار دیا۔ امت مسلمہ میں خالد بن ولید کو انتہائی اہم صحابی رسول مانا جاتا ہے جبکہ انکے نام کو بابرکت تصور کرتے ہوئے عام مسلمان اپنے بچوں کےنام خالد، ولید اور سیف اللہ رکھتے ہیں۔ جہاد ایک اہم اسلامی رکن ہے اسلامی جہاد کی تاریخ میں خالد بن ولید کو رول ماڈل مانا جاتا ہے۔ جبکہ آج بھی جہادی مسلمان اور اسلامی ممالک کی افواج خالد بن ولید کو آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ پاکستانی افواج کا مشہور جدید ٹینک “الخالد” انہیں کے نام سے منسوب ہے جبکہ بعض فوجی کمپنیوں، یونٹوں، بیرکوں اور برئگیڈز کے نام بھی آپ کے نام کے ساتھ منسوب ہیں۔

مالک بن نویرہ کا معاملہ

مالک بن نویرہ عرب کے علاقے بطاح کے ایک قبیلہ کا سردار تھا۔ اس کا قبیلہ ظاہری طور پر مسلمان تھا اور نماز روزہ کا پابند تھا جبکہ مالک بن نویرہ پیغمبر اسلام کے دور میں باقاعدہ زکوہ جمع کر کے پیغمبر اسلام تک پہنچاتا رہا تھا۔ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد مالک اور اسکے قبیلہ نے زکوہ خلیفہ ابوبکر کو دینا بند کر دی۔ جس پر خالد بن ولید اسلامی لشکر لے کر مالک اور اسکے قبیلہ کی گرفتاری کے لیئے بطاح آیا۔ اس سے قبل بھی چند مسلمان قبیلے خلیفہ کو زکوہ دینے سے انکاری ہوگئے تھے جن کو گرفتار کر کے خلیفہ ابوبکر کے پاس فیصلہ کےلیئے بھیجا گیا تھا۔ ان میں قرہ بن ہبیرہ، فجاٴہ اسلمی، ابوشجرہ اور دوسرے لوگ شامل تھے۔ لیکن مالک بن نویرہ کو گرفتار کر کے خلیفہ ابوبکر کے پاس بھیجنے کےبجائے خالد بن ولید نے قتل کروا دیا۔ جس پر خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ دوم عمر کے درمیان اختلاف رونماٴ ہوا اور بعض صحابہ رسول نے خالد بن ولید کی سرکردگی میں لڑنے سے انکار کر دیا۔ مالک بن نویرہ کے قتل کے پس پردہ محرکات کے بارے میں اسلامی تاریخ یوں بیان کرتی ہے۔

مالک کی گرفتاری اور خالد سے ملاقات

مشہور اسلامی مورخ یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ گرفتاری کے بعد

“مالک بن نویرہ، خالد سے بات چیت کےلیئے ان کے خیمہ میں آیا تو مالک کی بیوی “لیلی” بھی ساتھ ہی آئی۔ اس کی خوبصورتی نے خالد کو بہت متاثر کیا اور انہوں نے مالک سے کہا کہ میں تجھے ضرور قتل کروں گا۔”

محمد حسین ہیکل اپنی کتاب حضرت ابوبکر صدیق کے صفحہ 187 پر لکھتے ہیں:

“جب اس (لیلی) نے خالد کو یہ کہتے سنا کہ میں تجھے قتل کرنے والا ہوں اور ضرور قتل کرکے رہوں گا تو وہ انکے قدموں میں گر پڑی اور ان سے اپنے خاوند کےلیئے عفو و ترمم کی طلبگار ہوئی۔ اس کے بال کندھوں پر پھیلے ہوئے تھے اور آنسووٴں کی لڑی آنکھوں سے جاری تھی۔ اس حال میں اسکی خوبصورتی دوبالا ہوگئی جس نے خالد کو مسحور کرلیا۔ جب مالک نے یہ دیکھا تو اس نے کہا:

“افسوس میری بیوی ہی میرے قتل کا باعث بنی۔”

خالد نے کہا:

“تیری بیوی تیرے قتل کا باعث نہیں بنی بلکہ تیرے اعمال اس کا باعث بنے ہیں۔”

یہ کہہ کر خالد نے مالک کی گردن اڑانے کا حکم دے دیا۔

ابوالفرج اصہبانی اپنی کتاب الاغانی میں لکھتے ہیں:

“خالد نے جب اسے(مالک بن نویرہ) قتل کیا تو صحابہ کی ایک جماعت نے اس پر سخت اعتراض کیا کیونکہ خالد نے مالک کے قتل کے بعد اس کی بیوہ سے شادی کرلی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خالد اسے جاہلیت کے زمانے ہی سے پسند کرتے تھے۔ اس لیئے ان (مالک) پر تہمت لگائی گئی اور انہوں نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا تاکہ اس کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرسکیں۔”

صحابی رسول ابوقتادہ کا واقعہ پر احتجاج اور خلیفہ ابوبکر کا فیصلہ

صحابی رسول ابوقتادہ انصاری، خالد کے اس فعل سے اتنے ناراض ہوئے کہ انہوں نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ کھبی خالد کے جھنڈے تلے نہ لڑیں گے اور وہ لشکر چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ ابوقتادہ کے نزدیک خالد نے مالک کی بیوہ سے عین اس وقت شادی کرلی تھی جب مالک کا خون بھی جذب نہ ہوا تھا۔ عدت کے تین ماہ گزارے بنا کسی بیوہ سے نکاح کرنا جائز نہیں اور ایسا کرنا زنا کے مترداف ہوگا جبکہ خالد نے جس رات مالک کو قتل کیا اسی رات اسکی بیوہ سے ہمبستری کی۔ ابوقتادہ سمجھتے تھے کہ لیلی سے شادی کےلیئے خالد نے مالک کو قتل کیا۔

ابوقتادہ، خالد کے اس فعل کی شکایت لے کر خلیفہ وقت ابوبکر کے پاس گئے لیکن ابوبکر نے کوئی توجہ نہ دی اور کہا کہ ایسے شخص کے متعلق ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جسے رسول اللہ نے سیف اللہ کا خطاب مرحمت فرمایا ہو۔ ابوقتادہ یہاں سے مایوس ہوکر عمر بن خطاب کے پاس گئے اور سارا ماجرہ بتایا۔ عمر انکی باتوں سے متاثر ہوئے اور ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ خالد کی تلوار اب ظلم پر اتر آئی ہے۔ اس لیئے آپ انہیں معزول کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ قید بھی کرلیں۔

جس پر ابوبکر نے کہا:

“عمر بس کرو، خالد نے تاویل (اجتہاد) کی۔ یہ بات اور ہے کہ تاویل کرنے میں ان سے غلطی (اجتہادی غلطی) ہوئی۔”

لیکن عمر اس جواب سے مطمعن نہ ہوئے تو ابوبکر نے تنگ آکر کہا:

“عمر ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں اس تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے اللہ نے کافروں پر مسلط کیا ہو۔”

خلیفہ ابوبکر کے فیصلے کی وجوہات

محمد حسین ہیکل اپنی کتاب حضرت ابوبکر صدیق کے صفحہ 190 پر ابوبکر کے موقف کا دفاع یوں کرتے ہیں:

“ابوبکر کا خیال یہ تھا کہ کوئی سپہ سالار کسی فرد واحد یا جماعت کو غلطی سے قتل کرا دیتا ہے تو اس کا زیادہ خیال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسے نازک حالات میں کسی سپہ سالار کو سخت سزا دینا اور الزام کی تشہیر کرنا مسلمانوں کے لیئے سخت نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ابوبکر کا یہ بھی خیال تھا کہ کسی مفتوحہ قوم کی کسی عورت سے شادی کرلینا اور وہ بھی اس حالت میں کہ ابھی اسکی عدت کے دن پورے نہ ہوئے ہوں، عربوں کے رسوم و رواج کے خلاف نہیں کیونکہ اس صورت میں مفتوحہ قوم کی عورتیں لونڈیاں شمار ہوں گی جن پر انکے مالکوں کو ہر قسم کا اختیار ہوتا ہے۔

خالد بن ولید “اللہ کی تلوار” اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے اس لیئے خلیفہ ابوبکر نے انہیں طلب فرما کر صرف زبانی سرزنش کی اور معزول کرنے کے بجائے انہیں بطور سپہ سالار یمامہ جا کر مسلیمہ کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔”

حاصل بحث

اللہ کی تلوار خالد بن ولید اور مالک بن نویرہ کا واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ دور حاضر میں اگر طالبان کسی علاقہ پر حملہ آور ہوکر یا ڈیرہ جیل توڑ کر بطور مال غنیمت اگر عورتوں کو ساتھ لے جاتے اور اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں تو وہ اپنے آئیڈیل ، رول ماڈل اور ہیرو، سیف اللہ خالد بن ولید کی سنت پر عمل پیرا ہو رہے ہوتے ہیں۔ طالبان سچے مسلمان ہیں جو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ وہ مسلمان جو اس درندگی اور سفاکی کے خلاف بولتے ہوئے طالبان کی مذمت کرتے ہیں وہ ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کے قوت محرکہ کی مذمت کریں۔ اور طالبان کا قوت محرکہ چودہ سو سال قبل عرب صحراوں سے اٹھنے والی غیرانسانی رویوں کی تحریک ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 1 = eight

%d bloggers like this: