الحاج قائد اعظم

January 1, 2014 at 00:03 ,
آصف جاوید؛

قائد اعظم انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے، بلکہ وہ ایک اعلی تعلیم یافتہ ماہر قانون دان اور ایک مہذب شہری نہیں تھے بلکہ بلکہ دیہات میں پلے بڑھے اور مدرسے کے فارغ التحصیل کٹ حجتی ملا تھے، وہ دلیل نہیں بلکہ ڈنڈے کی حکمرانی پر یقین رکھتے تھے۔ کبھی کلین شیو نہیں کی ہمیشہ داڑھی رکھتے تھے، انگریزی لباس اور بودوباش قطعی نہیں رکھتے تھے، بلکہ ٹخنے سے اونچا پاجامہ اور کرتا پہنتے تھے، کبھی کلب نہیں جاتے تھے، بلکہ تین روزہ چلے پر باقاعدگی کے ساتھ حاجی علی کی درگاہ پر تشریف لے جاتے تھے۔

کبھی پارٹیوں یا خلوت میں شراب نوشی اور ڈانس نہیں کیا کرتے تھے، بلکہ محرم کی نیاز کا شربت پیتے اور قوالیوں میں حال کھیلا کرتے تھے۔ کتوں اور سگار سے سخت نفرت کرتے تھے، کبھی سور کے گوشت کے بنے ہوئے سینڈوچ جو کہ ان کی پارسی اہلیہ محترمہ بڑے زوق اور شوق سے ان کے لئے بناتی تھیں نہیں کھاتے تھے بلکہ سیدھے کچرہ دان میں پھینک دیتے تھے، اور ہمیشہ کدو شریف کی ترکاری بڑی عقیدت اور احترام سے کھاتے تھے۔پنج وقتہ نمازی تھے، تہجد بھی پڑھتے تھے، کتے پالنا یا ان سے پیار کرنا تو درکنار کبھی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ہیں ، ہمیشہ اونٹ پالا اور اس ہی کی سواری کیا کرتے تھے اور ان کی مہنگی کاروں میں ان کے ملازمین سفر کرتے تھے۔ ، کبھی گھوڑوں کی ریس کھیلنے بمبئی ریس کلب نہیں جاتے تھے۔ بلکہ کبڈی کھیلنے بھولو پہلوان کے اکھاڑے میں جایا کرتے تھے۔

مذہبی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ ہر وقت نعتیں پڑھتے رہتے تھے، کبھی گراموں فون کی چابی بھر کر انگریزی گانوں کے ریکارڈ اپنے ریسٹ روم میں نہیں سنتے تھے، پیشاب ، پاخانہ سے فارغ ہوکر کبھی ٹشو پیپر یا پانی استعمال نہیں کرتے تھے ، بلکہ ہمیشہ استنجا کا ڈھیلا استعمال کیا، کبھی فرانسیسی اور انگریزی پرفیوم استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ بغداد کا بنا ہوا عطر استعمال کرتے تھے، ٹوتھ پیسٹ اور ٹوتھ برش سے سخت نفرت کرتے تھے، ہمیشہ پیلو کی مسواک کا استعمال کیا کرتے تھے، سگار اور سگریت سے سخت نفرت کرتے تھے اور صرف حقہ پیا کرتے تھے، گوئٹے اور ولیم ؤارڈ ورتھ کی شاعری سے سخت نفرت کرتے تھے، ہمیشہ اقبال کی بانگ درا اور مولانا اشرف علی تھانوی کا بہشتی زیور پڑھتے۔

قائد کبھی پڈنگ نہیں کھاتے تھے بلکہ حلوہ زوق اور شوق سے تناول کرتے تھے، قائد نے کبھی سر پر ہیٹ نہیں پہنا بلکہ ہمیشہ راجھستانی پگڑی پہنتے تھے، قائد اعلی تعلیم کے لئے کبھی لنکنز ان انگلینڈ نہیں گئے بلکہ دیو بند کے مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے سے درسِ نظامی میں درجہ تخصص حا صل کیا۔۔قائد کبھی سوتے میں سہانے سپنے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ ہمیشہ خواب میں نبی کریم صلی اللۃ علیہ و سلم کی زیارت کا شرف حاصل کرتے تھے۔۔۔۔۔قائد اللہ کے ولی تھے اور ان سے ہمیشہ کراماتیں سرزرد ہوتی تھیں ۔۔۔۔یہ پاکستان بھی قائد کی کرامات کا اثر ہے۔ تحریک پاکستان اور عوام کی قربانیوں کا کوئی زکر نہیں۔

یہ ایک طنزیہ تحریر ہے جو آج کے نام نہاد اسلامسٹوں کی جو قائد اعظم کو حد درجے مذہبی شخصیت ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کے جواب میں لکھی گئی ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− 5 = four

%d bloggers like this: