اسلامی نظام خلافت ۔ مرحلہ انتقالِ اقتدار

October 16, 2013 at 04:52 , ,
خاک نشین؛

خلافت کی 700 سالہ تاریخ کا مختصر احوال

پیغمبر اسلامؐ نے واضح طور پر کسی کو اپنا جانشین مقرر کیئے بغیر وفات پائی۔ آپ کی وفات کے بعد خلافت کا تنازعہ شروع ہوا جس کے اثرات اسلام میں دائمی گروہ بندی اور تفرقہ بازی کی صورت میں سامنے آئے۔ نظامِ خلافت جس کی مکمک تاریخ سے عمومی طور پر عام مسلمان کو زیادہ شناسائی نہیں ہے۔ صرف سنی سنائی چند باتوں کا علم ہے۔ علماٴ دین نے عام مسلمان کے زہین میں یک بات اچھی طرح ڈالی ہوئی ہے کہ اسلامی خلافت تاریخِ انسانی کا بہترین دور تھا اور اگر اچھی زندگی گزادنی ہے تو اسلامی خلافت کو دوبارہ قائم کرنا پڑے گا۔ اب عام مسلمان جسے دین سے زیادہ دلچسپی نہ بھی ہو وہ علماٴ کی باتوں کے زیراثر شریعت، خلافت، اسلامی نظام لانے کا خواہشمند بن جاتا۔ عام مسلمان کے سامنے تاریخ کا رکھنا بہت ضروری ہے کہ وہ حقیقت سے قریب تر ہوسکے تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوسکے۔ اسی سوچ کے پیش نظر اسلامی خلافت کی ٧٠٠ سالہ تاریخ میں خلیفہ کی تقرری کس طرح ہوتی رہی، مختصراً یہ حقائق اسلامی مستند کتب کے اوراق سے پیش خدمت ہیں تاکہ قارئین خود فیصلہ کرسکیں کو وہ ماضی کو دہرانا چاہتے ہیں یا آگے بڑھنا چاہتے ہیں:

١۔: خلیفہ ابوبکر:

پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ثقیفہ کے مقام پر انصار نے اپنا خلیفہ بنانے کیےلیے اکھٹ کیا۔ مہاجر قریش میں سے ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ انصار کے دو قبائیل بنو اوس اور بنو خزرج میں شدید مخاصمت پائی جاتی تھی اور مخالف قبیلے کے فرد کو بطور خلیفہ قبول کرنے پر کسی طور تیار نہ تھے۔ بحث مباحثے نے بھگدڑ مچا دی اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمرخطاب نے ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور انکی خلافت کا اعلان کردیا۔ مشہور انصاری صحابی سعد بن عبادہ اور عمر بن خطاب کے درمیان شدید محاذآرائی ہوئی۔ سعد نے تمام عمر ابوبکر کی بیعت نہ کی اور نہ ابوبکر کی امامت میں نماز ادا کی۔ بعد ازاں ملک شام میں سعد بن عبادہ کو نامعلوم سمت سے ایک تیر آکرلگا جس سے جان گئی۔ مشہور ہوا کہ سعد کو کسی جن نے تیر مارا ہے۔ جب ابوبکر کو خلیفہ بنایا جا رہا تھا تو پیغمبر کا خاندان بنوہاشم پیغمبر اسلام کی تدفین کے امور میں مصروف تھا۔ اس اہم معاملہ میں بنوہاشم سے رائے تک نہ لی گئی اور بنوہاشم اور بہت سے صحابہ کے نزدیک علی ابن ابی طالب خلافت کے حقدار تھے۔ جس وجہ سے علی کے حامیوں اور بنوہاشم میں سے کسی نے بیعت نہ کی اور علی کے گھر جمع ہوگئے۔ اس اجتماع کی خبر پر عمر بن خطاب کی سرکردگی میں افراد نے علی کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور دروازہ کو آگ لگا دی۔ دروازہ گرنے سے پیغمبر اسلام کی بیٹی شدید زخمی ہوگئیں جبکہ بی بی کے شکم میں بچہ محسن تھا۔ بعدازاں فاطمہ اپنے شکم میں بچے محسن سمیت وفات پاگئیں۔ اور یہاں سے ہی اسلام میں دائمی گروہ بندی کا آغاز ہوا۔ خلیفہ ابوبکر نے تقریبا دو سال خلافت کی اور اپنی وفات سے قبل بذریعہ وصیت اپنے قریبی دوست عمر بن خطاب کو جانشین خلافت مقرر کیا۔ ابوبکر پیغمبر اسلام کے سسر تھے۔

٢۔: خلیفہ عمر بن خطاب:

١٣ ہجری میں ابوبکر کی وفات کے بعد آپ بذریعہ وصیت خلیفہ مقرر ہوئے۔ آپ بھی پیغمبر اسلام کے سسر تھے۔ ٢٣ ہجری میں عجمی غلام نے حملہ کرکے قتل کیا اور یوں آپ کی خلافت کا خاتمہ ہوا۔ آپ نے وفات سے قبل قریش کے چھ افراد کو خلافت کےلیے نامزد کیا اور کہا کہ یہ چھ آپس میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کریں گے۔ ان چھ افراد میں عثمان، علی، عبدالرحمان بن عوف، طلحہ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص شامل تھے۔ انصار یا دیگر عرب وعجم میں سے کسی شخص کو شامل نہ کیا گیا۔ جبکہ عمر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو وصیت کی اگر تین تین افراد ایک طرف ہوجائیں تو عبداللہ بطور ثالث فیصلہ کرے گا۔ اگر کوئی فریق فیصلہ نہ تسلیم کرے تو جدھر عبدالرحمان ابن عوف ہوں ان کی حمایت کرنا اور باقی کو قتل کردینا۔
(تاریخ طبری۔ جلد سوم۔ صفحہ ٢۵٦)

٣۔: خلیفہ عثمان بن عفان:

٢٣ ہجری میں خلیفہ عمر کے قتل کے بعد دامادِ پیغمبر عثمان خلیفہ بنے۔ آپ کا تعلق بنوامیہ قبیلے سے تھا۔ آپ کے چچا حکم بن العاص کو پیغمبر نے گستاخی کرنے پر مدینہ بدر کیا تھا۔ جسے اسکے بیٹے مروان سمیت واپس مدینہ لے آئے اور مروان کو داماد بنانے کےساتھ ریاست کامنشی بھی بنادیا۔ جبکہ خلیفہ کا رضائی بھائی اور گورنر کوفہ ولید شراب کے نشے کی حالت میں نماز کی امامت کرواتا۔ مشہور بزرگ صحابی ابوزرغفاری نے طرزِ حکمرانی پر تنقید کی تو انہیں مدینہ بدری کی سزا دے کر صحرا میں تنہا رہنے پر مجبور کردیا جہاں انتہائی عسرت کے عالم میں ابوزر نے وفات پائی۔ ان وجوہات اور دیگر مسائل کی بنا پر مدینہ، کوفہ، بصرہ اور مصر کی عوام میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ ان تمام شہروں کے لوگوں نے مدینہ آکر خلیفہ کے سامنے باقاعدہ احتجاج کیا۔ یقین دہانیوں کے باوجود بروقت موزوں اقدامات نہ کیے گئے جس سے ٣۵ ہجری میں بغاوت نے جنم لیا اور خلیفہ کو دوران محاصرہ قتل کردیاگیا۔ قاتلوں میں خلیفہ اول ابوبکر کے فرزند محمد بن ابی بکر بھی شامل تھے جبکہ بعض تاریخی کتب ام المومنین عائشہ کے فتویٰ کا زکر موجود ہے جو انہوں نے قتلِ عثمان کے متعلق دیا۔ جبکہ مدینہ میں موجود بزرگ صحابہ اور گورنر شام معاویہ کی طرف سے بھی قتل کی درپردہ حمایت کے شواہد تاریخی کتب میں ملتے ہیں۔

۴۔: خلیفہ علی بن ابی طالب:

٣۵ ہجری میں قتلِ خلیفہ عثمان کے بعد مدینہ میں علی کی خلافت کا اعلان کردیا گیا۔ جبکہ ام المومنین عائشہ نے طلحہ، زبیر اور اپنے بھانجے ابن زبیر کی سرکردگی میں مکہ سے لشکر لے جاکر بصرہ پہ چڑھائی کرکہ قبضہ کرلیا۔ شام میں معاویہ بن ابی سفیان نے اپنی خلافت کا اعلان کردیا۔ علی نے بصرہ کو لشکر عائشہ سے حاصل کرنے کےلیے بصرہ پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے درمیان پہلی باقاعدہ بڑی خونی جنگ ہوئی جسے جنگ جمل کہتے ہیں۔ اس جنگ میں تقریبا تیس ہزار مسلمان جان سے گئے۔ علی کامیاب رہے جبکہ اسلامی عشرہ مبشرہ (١٠ صحابہ جنہیں پیغمبر نے اپنی زندگی می جنت کی بشارت دے دی تھی) میں شامل بزرگ طلحہ اور زبیر اسی جنگ میں قتل ہوئے۔ اس خونی تصادم کے بعد علی اور معاویہ کے درمیان صفین کا خونی معرکہ ہوا۔ جو ایک لاکھ بیس ہزار مسلمانوں کی جان لینے کے باوجود بےنتیجہ رہا۔ یوں اسلامی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ علی نے صفین کے بعد خوارج سے جنگ کی جس میں ہزاروں مسلمان جان سے گئے۔ ۴٠ ہجری میں فجر کے وقت مسجد میں ایک خارجی ابن ملجم نے خلیفہ علی پر حملہ کرکہ شدید زخمی کردیا جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے۔

۵۔: خلیفہ حسن ابن علی:

۴٠ ہجری میں خلیفہ علی کے قتل کے بعد انکے بیٹے اور پیغمبر کے نواسے حسن کو خلیفہ بنایا گیا۔ جبکہ شام میں معاویہ بدستور اپنی خلافت پر قائم رہا۔ حسن اپنے حامیوں کے رویہ سے سخت نالاں تھے اور جنگ وجدل سے عاجز آچکے تھے۔ اس لیے آپ نے معاویہ سے معاہدہ کیا اور خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ آپ کی مدتِ خلافت چھ ماہ تھی۔ ۵١ ہجری میں آپ کو آپکی بیوی جندہ نے زہر دیا جس سے آپ فوت ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ جندہ نے یزید ابن معاویہ کے کہنے پر آپ کو زہر دیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ١٩٣)

٦۔: خلیفہ معاویہ ابن ابی سفیان:

۴٠ ہجری میں حسن ابن علی سے معاہدہ کے بعد معاویہ تمام سلطنتِ اسلامی کا خلیفہ بنا۔ معاویہ نے ٦٠ ہجری میں وفات پائی۔ وفات سے قبل اپنے بیٹے یزید کو جانشین خلافت مقرر کیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ١٩٨)

٧۔: خلیفہ یزید ابن معاویہ:

٦٠ ہجری میں معاویہ کی وفات کے بعد اسکا بیٹا یزید خلیفہ بنا۔ پیغمبر اسلام کے نواسے حسین ابن علی نے یزید کی خلافت قبول کرنے سے انکارکر دیا۔ یزید کی افواج نے کربلا کے مقام پر ٦١ ہجری دس محرم کے روز حسین کو انکے خانوادے اورساتھیوں سمیت ذبح کردیا جبکہ مستورات کو قیدی بنا کر کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام لے جایا گیا۔ مدینہ پر حملہ کرکہ ہزاروں کنواریوں کو فوج یزید نے حاملہ کیا۔ مسجد نبوی کی بےحرمتی کی، گھوڑے باندھے اور سینکڑوں افراد قتل کیے۔ جبکہ کعبہ کو آگ لگا دی، جس کی ابن زبیر نے نئے سرے سے تعمیر کی۔ ٦۴ ہجری میں پراسرار انداز میں یزید ہلاک ہوگیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢١١)

٨۔: خلیفہ معاویہ بن یزید:

٦۴ ہجری میں یزید کی وفات کے بعد اسکا بیٹا معاویہ ثانی خلیفہ بنا۔ جبکہ مکہ میں ام المومنین بی بی عائشہ کے بھانجے عبداللہ ابن زبیر نے خلافت کا اعلان کردیا۔ معاویہ ثانی صرف ۴٠ دن خلافت کرسکا اور روایات کے مطابق اسے زہر یا چھری کے وار سے قتل کیاگیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢١٢۔ طبری جلد چہارم صفحہ ٢٨٨)

٩۔: خلیفہ مروان بن الحکم:

٦۴ ہجری میں معاویہ ثانی کے بعد مروان نے شام میں جبکہ ابن زبیر نے مکہ میں خلافت قائم کرلی۔ جبکہ مختارثقفی کی قیادت میں توابین نے کوفہ میں قتلِ حسین کا بدلا لینے کےلیے بغاوت شروع کردی۔ اسلامی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ مروان نے یزید کی بیوہ اور معاویہ ثانی کی ماں لیلی سے نکاح کرلیا۔ ٦۵ ہجری میں لیلی نے رات کو سوتے وقت گدے یا تکیے سے مروان کو دبا کر مار دیا۔ مروان کی مدتِ خلافت ٩ ماہ ہے۔
(طبری جلد چہارم صفحہ ٣۴٨)

١٠۔: خلیفہ عبدالملک بن مروان:

٦۵ ہجری میں خلیفہ مروان کے بعد اسکا بیٹا عبدالملک بن مروان خلیفہ بنا۔ حجاز پر دوبارہ قبضہ کےلیے مکہ پر حملہ کیا۔ عبداللہ ابن زبیر کی خلافت کا خاتمہ کیا۔ کعبہ پر منجنیقوں سے آگ اور پتھر برسائے۔ ابن زبیر کو قتل کرنے کے بعد کعبہ کی دیوار سے تین ماہ تک لاش لٹکائے رکھی۔ بعدازاں کعبہ کو مسمار کردیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢١۵)

١١۔: خلیفہ ولید بن عبدالملک:

خلیفہ عبدالملک کے بعد اسکا ولی عہد بیٹا ولید بن عبدالملک خلیفہ بنا۔

١٢۔: خلیفہ سلیمان بن عبدالملک:

خلیفہ ولید کے بعد اس کا بھائی سلیمان خلیفہ بنا۔

١٣۔: خلیفہ عمر بن عبدالعزیز:

آپ کو خلیفہ سلیمان نے بذریعہ وصیت خلیفہ جبکہ اپنے بھائی یزید بن عبدالملک کو آپ کا ولی عہد مقرر کیا۔ آپ دو سال خلیفہ رہے۔ آپ کے خاندان بنوامیہ نے آپ کو زہر دے کرقتل کردیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢۴۴)

١۴۔: خلیفہ یزید بن عبدالملک:

یزید نے خلیفہ بننے کے بعد خلافت کے ایک اور امیدوار یزید بن مہلب پر کربلا کے قریب حملہ کرکہ قتل کیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی)

١۵۔: خلیفہ ہشام بن عبدالملک:

١٠۵ ہجری یزید بن عبدالملک کے بعد اس کا بھائی ہشام بن عبدالملک خلیفہ بنا۔

١٦۔: خلیفہ ولید بن یزید:

١٢۵ہجری میں ہشام کے بعد اسکا ولی عہد ولید بن یزید خلیفہ بنا۔ ولید کو اس کے خاندان کے ایک فرد اور خلافت کے امیدوار یزید ناقص بن ولید کے حکم پر قتل کردیا گیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢۴٩)

١٧۔: خلیفہ یزید ناقص بن ولید:

١٢٦ ہجری میں خلیفہ ولید کو قتل کروا کہ یزید ناقص خلیفہ بنا۔ صرف چھ ماہ خلافت کرسکا اور پراسرار طور پر فوت ہوگیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢۵١)

١٨۔: خلیفہ ابراہیم بن ولید:

١٢٧ ہجری میں خلیفہ یزید ناقص کے بعد اسکا بھائی ابراہیم خلیفہ بنا۔ لیکن بنی امیہ ہی کے ایک فرد مروان بن محمد نے اپنی جماعت سمیت خروج کرکہ اپنی خلافت کا اعلان کردیا۔ ابراہیم صرف ٧٠ دن خلیفہ رہا اور بعد ازاں خلافت مروان بن محمد کردی۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢۵۴)

١٩۔: خلیفہ مروان بن محمد: (آخری اموی خلیفہ)

١٢٧ ہجری خلیفہ ابراہیم کو خلافت سے الگ کرکے مروان بن محمد خلیفہ بنا۔ مروان نے سابق خلیفہ ولید کو قتل کروانے کے جرم میں سابق خلیفہ یزید ناقص کی لاش قبر سے نکلوائی اور سولی پر لٹکا دی۔ بنوعباس نے اموی خلافت کے خاتمہ کے لیے حربی جدوجہد کا آغاز کیا ہوا تھا اور اسی دوران خلیفہ مروان کو قتل کردیا گیا۔ ١٣٢ ہجری میں مروان بن محمد کے خاتمے کے ساتھ ہیبنو امیہ کی اموی خلافت کے دور کا خاتمہ ہوا اور پیغمبر اسلام کے چچا عباس بن عبدالمطلب کی اولاد بنو عباس کی خلافت کے دور کا آغاز ہوا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢۵۵)

آغاز دور خلافت بنو عباس
٢٠۔: خلیفہ سفاح عبداللہ (پہلا عباسی خلیفہ)

١٣٢ ہجری میں بنوامیہ کے دورِ خلافت کا خاتمہ کرکے سفاح عبداللہ پہلا عباسی خلیفہ بنا اور بنو عباس کی خلافت کے دور کا آغاز کیا۔ ١٣٦ ہجری میں خلیفہ سفاح نے چیچک کے مرض میں مبتلا ہو کے وفات پائی۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢٦٢)

٢١۔: خلیفہ منصور ابو جعفر:

١٣٦ ہجری میں خلیفہ سفاح کے بعد اسکا ولی عہد بھائی منصور خلیفہ بنا۔ خلیفہ منصور نے اپنے چچا عیسی کو ولی عہدی سے خارج کیا اور اپنے بیٹے مہدی کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢٦٢)

٢٢۔: خلیفہ مہدی ابو عبداللہ:

١۵٨ ہجری میں خلیفہ منصور کے بعد اسکا ولی عہد بیٹا مہدی خلیفہ بنا۔ خلیفہ مہدی نے اپنے بیٹوں موسی ہادی کو اپنا اور موسی ہادی کا ہارون الرشید کا ولی عہد مقرر کیا۔ خلیفہ مہدی کو زہر دیا گیا جس سے ہلاک ہوا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢٧٣)

٢٣۔: خلیفہ موسی ہادی:

١٦٩ ہجری میں خلیفہ مہدی کے بعد اسکا ولی عہد بیٹا موسی ہادی خلیفہ بنا۔ خلیفہ موسی ہادی اور ہارون الرشید کی والدہ خیزران نے خلیفہ موسی ہادی کا گلا دبا کر مار ڈالا اور دوسرے بیٹے ہارون الرشید کو مسندِ خلافت پر بٹھا دیا۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢٧٨)

٢۴۔: خلیفہ ہارون الرشید:

١٧٠ ہجری میں خلیفہ موسی ہادی کو قتل کرنے کے بعد اسکی والدہ خیزران نے اپنے دوسرے بیٹے ہارون الرشید کو خلیفہ بنایا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنی بیوی زبیدہ کی خواہش پر اپنے بیٹے امین کو ولی عہد بنایا۔ جبکہ بعدازاں اپنے بیٹوں قاسم اور مامون کو بھی ولی عہد بنا کر سلطنت تین حصوں میں تقسیم کردی۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢٨٦)

٢۵۔: خلیفہ امین:

١٩٣ ہجری میں خلیفہ ہارون الرشید کے بعد اسکا ولی عہد بیٹا امین خلیفہ بنا۔ خلیفہ امین نے اپنے بھائی مامون کو ولی عہدی سے معزول کیا جس سے بھائیوں کے درمیان خون ریز جنگ کا آغاز ہوا۔ جس میں امین قتل ہوا۔ امین کی عمر اس وقت ٢٧ سال تھی۔
(تاریخ الخلفاٴ۔ سیوطی۔ صفحہ ٢٩١)

Continues Reading…, Page 2

Related Posts

Comments

comments

Pages: 1 2

Leave a reply

required

required

optional



+ 2 = eleven

%d bloggers like this: