اسامہ بن لادن: دس سنجیدہ انکشافات

July 9, 2013 at 23:20 , ,
امام دین؛

bin ladenدو مئی 2011ء کے بعد پارلیمنٹ کے حکم پر بننے والے اسامہ بن لادن کمیشن نے اپنی رپورٹ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے سپرد کی۔ لیکن ماضی کی طرح روئتی سست روی کا مظاہرہ کیا گیا اور اس رپورٹ کو منظر عام پر آنے کا مطالبہ ایک خواب بنتا نظر آیا۔ ماضی میں حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ ذولفقار علی بھٹو کے دور میں بنی لیکن منظر عام پر تب آئی جب نواز شریف کے دوسرے دور میں انڈین اخبارات میں شائع ہوئی تو دیکھا دیکھی پاکستانی اخبارات میں بھی قسط وار اشاعت کا سلسلہ چل نکلا۔

لیکن زرائع ابلاغ کی ترقی نے اس بار جلد اس راز کو طشت از بام کر دیا ہے۔ نتیجہ کی سب سے پہلے لائن پاکستانی حکومت کی کارکردی کا پول بھی کھولی نظر آئی ہےکہ اللہ کے آسرے پر چلنے والے ملک کے حالات کس حد تک درگوں ہیں۔

اس 337صفحات کی رپورٹ سے چیدہ چیدہ اقتباس پیش خدمت ہیں۔

اسامہ نے 2002ء سے 2011ء تک پاکستان میں چھ رہائشیں تبدیل کیں۔
اس کی آخری رہائش گاہ ایک ایسا کمپاؤنڈ تھا جس میں دو مکانات یوں تعمیر کیے گئے تھے کہ ایک گھر کے مکینوں کو دوسرے گھر کے مکینوں کا بھی نہیں پتا تھا۔ اس رہائش گاہ کی تعمیر پر کسی اتھارٹی نے کوئی نقطہ چینی نہیں کی۔ اسامہ بشمول اپنی بیویوں اور بچوں کے اس جگہ چھ سال رہا۔ جبکہ اسی کمپاؤنڈ کے دوسرے گھر میں کویتی اپنے بیوی بچوں کیساتھ رہائش پزیر تھا۔

اس نے اپنی داڑھی صاف کر دی تھی اور اکثر کاؤبوائے ہیٹ پہنتا تھا۔
یقیناً آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوئی ہو گی لیکن پہچان چھپانے کے لیے اسامہ جیسی ہستی نے سنت رسول کی قربانی بھی کر ڈالی تھی۔

ایک کار میں پولیس نے اسے روکا لیکن بنا کوئی سوال کیے اسے جانے دیا گیا۔
عبدالکویتی کی بیوی کے بقول ایک بار سوات کے بازار میں اسامہ کی کار کو پولیس نے تیز گاڑی چلانے پر روکا۔ پولیس کا یہ افیسر جب اس معاملے میں کویتی سے گفتگو کر رہا تھا تو کار میں بیٹھے اسامہ بن لادن کو پہچاننے میں ناکام رہا اور ان کو جانے دیا۔

الکویتی کی بیوی نے ان چھ سالوں میں اسامہ بن لادن کو کبھی نہیں دیکھا
اسے پردہ کہیں ، رازداری یا کمپاؤنڈ کی ہیت تعمیرکہ کویتی کی بیوی نے اس جگہ رہتے ہوئے چھ سال میں کبھی اسامہ کو نہیں دیکھا۔ اسامہ کے بچے کویتی کے بچوں کیساتھ بھی نہیں کھیلتے تھے۔

الکویتی کی نو سالہ بیٹی کمپاؤنڈ کے دوسرے گھرکے رہائشی کے لیے متجسس تھی۔
جب اس بچی نے اپنے والد سے پوچھا کہ اس جگہ رہنے والا کبھی بھی بازار کیوں نہیں جاتا تو کویتی نے یہ کہا کہ بیچارہ بہت غریب ہے۔ اس پر اس بچی نے اسامہ بن لادن کو “مسکین کاکا “کا خطاب دیا۔ایک دن بن لادن کی تصویر الجزیرہ پر دیکھ کر اس بچی نے اپنے مسکین کاکا کو پہچان لیااور اپنی ماں کو بھی بتایا۔ اس کے بعد کویتی نے خواتین کے ٹی وی دیکھنے پر پابندی لگا دی۔

اسامہ اپنے پوتے پوتیوں کو خود مذہبی تعلیم دیتا تھا۔
وہ ان کو کھیلنے کا موقع دیکر سرپرائز بھی دیتا تھا، سبزیاں اگانے کی ترغیب اور کارکردگی دکھانیوالے کو انعام بھی دیتا تھا۔

دو مئی کی رات اسامہ کی سب سے چھوٹی بیوی طوفانی آواز سن کر سب سے پہلے اٹھی۔
اسامہ نے اپنی دو بیٹیوں کو ایک کمرے میں چھپنے اور ان کو کلمہ پڑھنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ امریکی ہیلی کاپٹر آگئے ہیں اور وہ ابھی چلے جائیں گے۔ تاہم ان لڑکیوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی آپریشن شروع ہو گیا۔

ڈی جی آئی ایس آئی کا بیان لیک ہونیوالی رپورٹ میں غائب
صفحہ نمبر 196 کے آخر میں جب ڈی جی کا بیان شروع ہوتا ہے تو اس سے اگلا صفحہ (197) اس الجزیرہ کی ویب سائٹ پر لیک ہونیوالی رپورٹ میں غائب ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس کے لیک ہونے میں ملوث ہے۔

ذمہ داری کس کی؟
سیاستدان فوج پر اور فوجی حکومت پر اس واقعے کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، کوئی بھی اپنی ذمہ داری نبھانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ کمیشن جس مقصد کے لیے بیٹھا تھا یعنی ذمہ داروں کا تعین، وہ بھی اپنے اس فرض کو سر انجام دینے میں ناکام رہا۔ کسی کا نام نہیں لیا گیا صرف گول مول الفاظ میں کہا گیا کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے آفیسر جن کا ہم نام نہیں لے سکتے اس وقوعے کے ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ اسامہ کا وہاں چھپنا حکومت کی اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی غیر فطری رہائش گاہ پر پاکستانی انتظامیہ، فوج اور خفیہ اداروں کے کان کھڑے ہونے چاہیے تھے اور ناکامی حکومت کی ہر سطح پر نااہلی کا نتیجہ تھی۔


Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ 5 = twelve

%d bloggers like this: