اخوان المسلمین، ایک تاریخی جائزہ

August 18, 2013 at 00:02 ,
امام دین؛

بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں اخوان المسلمین کا وجود تشکیل پایا۔ اس وقت اس جماعت کے تین رہنما تھے جن میں سے دو کا مقصد عرب کی سیکولر حکومتوں کے خلاف مسلح جدوجہد تھا۔ لیکن آج کے رہنماؤں نے آفیشلی اس مسلح جدوجہد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ آج تلاش کرنے پر بھی ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا جس سے ثابت ہو کہ یہ جماعت کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن اس جماعت کے اراکین اپنی ‘ذاتی’ حثیت میں ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں جس کا تعلق شدت پسندی سے ہو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شیو سینا صرف سیاسی جماعت ہے لیکن بہت سے غیر قانونی کاموں اور دہشت گردی میں اس جماعت کے ممبر اپنی ذاتی حثیت میں ملوث پائے گئے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے انیس سو اڑتالیس اور انچاس کی چند شہ سرخیاں ملاحظہ فرمائیں۔

دہشت گرد گروہ کی قاہرہ میں گرفتاری (21نومبر1948 صفحہ 5)۔
پولیس نے قاہرہ میں اخوان المسلمین کے ممبران کو گرفتار کر کے تشدد پر قابو پالیا۔

مصر میں اخوان المسلمین پر پابندی: اثاثے منجمد (9دسمبر1948 صفحہ 12)۔
ملک میں بم دھماکوں کے بعد ایمرجنسی لگا کر آئین معطل کر دیا گیا۔

قاہرہ میں ہتھیار برامد (16دسمبر 1948، صفحہ 17)۔
اخوان المسلمین سے پولیس نے ہتھیار برامد کر لیے۔

مصری صدر قاہرہ میں دہشت گرد طالب علم کے ہاتھوں قتل (29دسمبر 1948، صفحہ 1)۔
قاتل کا تعلق اخوان المسلمین سے ہے۔ نئی کابینہ تشکیل پا گئی۔

قاہرہ بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق(14جنوری1949،صفحہ8)۔
دہشت گردی کے تفتیشی آفیسر سڑک پر حملے میں ہلاک۔

خودکش سکوارڈ کی مصر میں اطلاع (4فروری1949،صفحہ9)۔
اخوان المسلمین کے دو سو افراد پر مشتمل سکوارڈ بن گیا۔

مصری صدر محمود نقراشی پاشا نے اخوان المسلمین کے خلاف ان خبروں پر کچھ اقدامات کیے تھے جن کے مطابق یہ جماعت شہنشاہیت اور حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والی ہے اور ان اقدامات کے صرف تین ہفتوں کے اندر شاہ فہد یونیورسٹی کے طالب علم عبدالمجید احمد حسین جس کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا، نے اٹھائیس دسمبر 1948ءکو محمود پاشا کو دن دہاڑے قتل کر دیا۔یہی نہیں حسن البنا جو کہ اس جماعت کا بانی تھا علی الاعلان ہٹلر اور نازی ازم کا مداح تھا۔

آہستہ آہستہ 1939ء تک اخوان ایک سیاسی جماعت بن گئی لیکن پھر بھی یہ جماعت اپنے کارکنوں کو فوجی تربیت دیتی تھی اور اس کا نشانہ قبظی عیسائی اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار تھے۔

26اکتوبر1954ء میں اخوان کے ایک رکن عبدالمومن عبدالرؤف مصر کے صدر جمال عبدالناصر پر قاتلانہ حملے میں ملوث پایا گیا۔ اسی طرح انور سادات کی اسرائیل سے امن بات چیت پر برہم ہو کر اخوان نے اسے بھی قتل کروا دیا۔

1971ء میں شام کا صدر حافظ الاسد تھا جس کا تعلق شعیہ فرقے سے تھا۔ اخوان جو کہ سنی فرقہ کی جماعت ہے شعیوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتی۔ اسد نے اخوان کو ٹھنڈا کرنے کے کچھ جتن کیے لیکن اس کی لبنان سول وار کے دوران موانة فرقے کی مدد نے اخوان کو اس کے خلاف جہاد کے اعلان پر اکسایا اور اخوان نے دہشت گردی کی ات مچا دی۔1979 میں انہوں نے 83شعیوں کو اپیلو آرٹلری سکول میں قتل کیا۔

اسد کے قتل کی ایک کوشش 25جون 1980 کو کی گئی، جس کے بعد اسد نے پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اخوان کو تہ تیغ کرنے کے لیے فوج کا استعمال کیا۔ یہ آپریشن فروری 1982ء تک جاری رہا جس کے بعد اخوان کا نام شام سے مٹا دیا گیا اس کے بچے کچھے اراکین دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہو گئے۔

1973ء میں اسرائیل نے احمد یٰسین کو مذہبی اور ویلفئر کے کاموں کی اجازت دی۔ اس سے 1983ء میں گولہ بارود اور اسلحہ برامد ہوا اور جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ 1985ء میں رہائی کے بعد اس نے مسلح جدوجہد کے لیے حماس کی بنیاد رکھی۔

روس میں بھی اخوان نے دہشت گردی کی وارداتیں کیں اور 27دسمبر 2002ء کو روس میں ہونیوالے کار بم دھماکے کا الزام بھی اخوان کے سر آتا ہے۔

ایک جماعت کو سمجھنے کے لیے اس کے جاری کیے ہوئے فتاویٰ کو بھی دیکھنا چاہیے۔ 2004ء میں اخوان کے یوسف القرضاوی کی طرف سے جاری ہونیوالے ایک فتوے میں امریکہ کے عراق میں عام شہریوں کا قتل جائز قرار دیا گیا۔

ایمن الزاہروی جو کہ اسامہ بن لادن کے بعد امریکہ کو مطلوب ترین شخص ہے کا تعلق بھی اخوان المسلمین سے ہے۔

جاری ہے

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



four − 3 =

%d bloggers like this: