اجڈ ہجوم یا مہذب انسان

February 7, 2014 at 00:01 ,
امام دین؛

انصار عباسی کا 6 فروری 2014 کا ایک کالم “کون سی شریعت؟ جواب حاضر ہے” نظر سے گزا۔ پڑھا تو ان کے بیان کردہ بودے دلائل کا جواب دینے کاقصد کیا۔

موصوف شریعت کے حق میں لکھتے ہوئے کچھ بنیادی باتوں کو نظر انداز کر گئے ہیں، جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ حضرت کس فرقہ کی شریعت تو اسکا مقصد شریعت کو بدنام کرنا یا اس پر کیچڑ اچھالنا ہرگز نہیں بلکہ اس حقیقت کو دنیا کے سامنے بیان کرنا ہے جو فقہی اختلاف کے نتیجے میں سامنے آتی ہے اور وہ ہے کفر کا فتویٰ۔ جب ایک فرقہ کی بات دوسرا ماننے کو تیار نہیں ہوتا کسی بات پر اختلاف ہوجائے جسکا قرآن و سنۃ اور حدیث میں کوئی تذکرہ نہ ہو تو اجتہاد میں ہر فرقہ آزاد ہے۔ اسی آزادی کے نتیجے میں ایسے ایسے فتوے سامنے آتے ہیں جو نہ صرف جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں بلکہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلامی علما دنیا میں پنپنے کے طور طریقوں سے قطعی ناآشنا ہیں اور آج بھی ساتوں صدی میں جی رہے ہیں۔

ایک سابقہ مضمون ‘مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ، ۱۲‘ میں ایسے کچھ فتاویٰ کا ذکر کیا ہے جو نہ صرف مضحکہ خیز ہیں بلکہ اسلام کے نام پر دھبہ بھی ہیں۔ اب آتے ہیں انصار عباسی کے اسلام کے درخشاں اصولوں کی طرف اور ان کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔

سب سے پہلے انہوں نے شراب کاذکر کیا ہے جبکہ اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ شراب آج کے پاکستانی “سیکولر” قانون کے مطابق بھی قابل تعزیرجرم ہے۔ شراب کے حرام ہونے پر تو سارے فرقے متفق ہوں گے لیکن اسکا استعمال کرنے والے کو کتنی سزا دیں اس پر یقیناً اختلاف موجود ہے۔ نبیﷺ نے شراب کو حرام قرار دیا تو اس حکم کے نتیجے میں اسکا استعمال ترک کر دیا گیا۔ جنہوں نے نہیں کیا وہ چھپ کر پیتے رہے۔ لیکن نبیؐ کے دور میں کوئی ایسی معروف مثال نہیں ملتی جس میں کسی شرابی کو سزا دی گئی ہو۔

خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر کے دور میں شرابیوں کو چند جوتے مارنے کی مثالیں موجود ہیں۔ سب سے سخت سزا حضرت عمر نے دی جنہوں نے اسکی سزا چالیس درے مقرر کی۔ جسے ان کے پیش رو عثمان نے کم کر کے دس درے کر دیا۔ جبکہ حضرت عثمان کے بھائی کوفے میں شراب پی کر نماز پڑھاتے رہے اور ان کے ان کاموں پر خلیفۂ وقت نے کوئی قدغن بھی نہ لگائی۔ آج اس جرم پر کتنی سزا ہو گی کوئی بھی فرقہ ہرگز متفق نہیں۔ کیونکہ اسکی سزا کا قران میں کوئی ذکر نہیں نہ ہی قرآن کے مطابق شراب حرام ہے۔ قرآن کے الفاظ میں شراب پینا پلید کام ہے۔

اس کے بعد عباسی صاحب عریانی اور فحاشی کا ذکر کرتے ہیں۔ کیا آج کے “سیکولر” پاکستان میں آپ کو بازار یا کسی گلی محلے میں کوئی خاتون، منی سکرٹ، بکینی یا نیکر پہنے نظر آتی ہے؟اس معاملے میں موصوف نے کافی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ یقیناً اسلام میں عریانی فحاشی کی ممانعت ہے لیکن عریانی یا فحاشی کیا ہے اسکی کیا تعریف ہوگی اس پر اسلام کے تمام فرقوں میں اختلاف ہے۔ قرآن کو حرف آخر ماننے والے صرف عورت کے سینے کا پردہ مانتے ہیں، بریلوی سر پر ڈوپٹے کو پردہ مانتے ہیں خواہ چہرہ ننگا ہی کیوں نہ ہو۔ دیوبندی کالا برقع کے استعمال کو پردہ خیال کرتے ہیں اور انصار عباسی کے ہردل عزیز طالبان ٹوپی والے برقعے کو پردہ خیال کرتے ہیں۔ تو سوال تو بنتا ہے کہ میاں کونسے فرقے کا اسلام؟؟

آج کا پاکستان اس معاملے میں عورت کو مکمل اختیار دیتا ہے کہ وہ مناسب ستر کا استعمال کرکے اس معاشرے کی کارآمد رکن بن سکتی ہے، کسی فرقے کا اسلام نافذ کرنا اس خاتون کے بنیادی انسانی حقوق کی یقیناً صریحاً خلاف ورزی ہوگی۔ یاد رہے کہ پردہ معاشرے کا حصہ ہے نہ کہ اسلام کا بنیادی تقاضہ۔

جوا اور اس کی تمام اقسام آج کے “سیکولر” پاکستان میں بھی نہ صرف ممنوع ہیں بلکہ قابل تعزیز جرم ہیں۔معاشرہ بھی ان کاموں کو برا سمجھتا ہے اور کوئی بھی وضع دار انسان اس کام کے نزدیک نہیں پھٹکتا۔ اسکی اسلام میں کیا سزا ہے قرآن و حدیث اس معاملے میں خاموش ہیں۔تو سوال تو بنتا ہے کہ جناب کس فرقے کے اسلام کے مطابق اس جرم کی سزا طے ہو گی؟

اس کے بعد انصار عباسی کے اندر کا طالبان جاگتا ہے اور ان کا اصل مدعا زبان پر آتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کے اسلام میں مردوزن کے اختلاط کی چونکہ کوئی گنجائش نہیں اس لیے مخلوط تعلیم پر پابندی عین اسلامی ہے۔ یہاں آکر نہ صرف انہوں نے یہ الفاظ لکھ کر زیادتی کی ہے بلکہ ایک ہی فرقے کے اسلام کو اجاگر کیا ہے۔ ایسی بے شمار مثالوں سے اسلامی تاریخ بھری ہوئی ہے جس میں خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ ہر قسم کے کام میں حصہ لیا۔

حضرت خدیجہ خود تجارت کرتی تھی۔ تجارت ایک ایسا پیشہ ہے جو گھر میں بند بیٹھ کر نہیں بلکہ بازار میں آکر کیا جاتا ہے اور تول مول میں بحث مباحثہ بھی اس کا اہم جز ہے۔ حضرت عائشہ نے جنگوں کی کمان سنبھالی۔ ام ورقعہ کو محمدﷺ نے ایک مسجد کا امام مقرر کیا تھا اور مرد بھی ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھےاسی طرح حضرت عمر نے انہیں مدینہ کے بازار کا مبصر مقرر کیا تھا۔یہ چند ایک مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اسلام اتنا تنگ نظر نہیں جتنی انصار عباسی کی سوچ ہے۔ مخلوط تعلیم گاہوں اور مولویوں کے مدارس میں ہونیوالے غیر اخلاقی واقعات کا شمار کیا جائے تو مدارس اس دوڑ میں “مغربی “تعلیم گاہوں سے کئی گنا آگے ہیں۔ جبکہ مخلوط تعلیم گاہوں کے فارغ التحصیل کم از کم عورت کی صحیح معنوں میں تکریم کرنا اور اسے انسان سمجھنا سیکھ لیتے ہیں۔دوسرا یہ کہ ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے چند طلبا کو پڑھانے کے لیے الگ الگ سٹاف مقرر کرنا بھی ایک بوجھ ہے جو مذہب نے اس پر لاد رکھا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے مخلوط تعلیم دہتے ہیں اور بنا کسی خرابی کے چل رہے ہیں مغرب کی بجائے مشرق کے ملک بھارت کے حالات ہی ملاحظہ کریں۔دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے اوپر سے اسلام کے نام پر مسلم خواتین کو تعلیم سے دور کر دینا نہ صرف خواتین بلکہ قوم اور امت سے بھی زیادتی ہو گی۔

زنا آج کے “سیکولر” پاکستان میں بھی قابل تعزیر جرم ہے۔ لیکن اس معاملے میں اسلامی علمانے جو لچ تلا ہے اس کے نتیجے میں ریپ کا شکار خواتین بجائے دادرسی کے ظلم کا شکار ہوئی ہیں اور اسلامی قوانین میں سقم کے باعث ملزم باآسانی بری ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مغربی ممالک میں ایسا کوئی تصور نہیں ہےکہ کوئی ریپ کا مجرم قانون کی گرفت سے بچ پائے۔ اس معاملے پر چونکہ پہلے بھی بہت لکھا جا چکا ہے لہذا اسی بات پر ختم کرتے ہیں کہ ریپ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے اور ریپ کا کوئی قانون ضابطہ قرآن میں موجود نہیں ہے۔

جہاں تک اسلامی سزاؤں کا تعلق ہے تو اگر ان کا مقصد خوف ہراس پھیلا کر لوگوں کو جرائم سے دور رکھنا ہے تو مسلم شریعہ کے علاقوں میں تو جرائم کا وقوع ہونا ہی ناممکن ہونا چاہیے۔ لیکن اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ سب سے کم جرائم لادینی سیکولر معاشرے میں ہو رہے ہیں جبکہ اسلامی شریعہ کے علاقوں میں بھی کم و بیش عام علاقوں جتنے ہی جرائم ہو رہے ہیں۔ دوسرا موصوف کا یہ فرمانا کہ یہ الہامی احکامات ہیں اور اس میں تبدیلی ناممکن ہے صرف انہی کے فرقے کا دعوی ہے۔ یہاں وہی سوال پھر اٹھتا ہے کہ کیا صرف طالبانی فرقہ ہی اصل اسلام ہے؟

دنیا میں مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ خلفائے راشدین کے دور کی اسلامی سزائیں اب قابل عمل نہیں رہی۔ خود خلیفہ دوم حضرت عمر نے قرآن کی مقرر کردی سزا، چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم معزول کر دیا تھا۔ اسی طرح مرتد کی سزا قتل کو ستارہویں صدی میں خلافت عثمانیہ میں ختم کردیا گیا تھا۔کیوں؟ کیونکہ تب اسلام ایک انقلاب کا جدت کا نام تھا آج کی طرح دقیانوسیت کا نہیں۔

اپنے تمام تھیسز کے بعد انصار عباسی محمدیﷺ قانون سے محبت کا دم بھرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ کسی اور ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ایک مسلمان کے نزدیک تو یہ بات بہت عمدہ اور قابل ستائش ہے پر معروضی حالات سے مطابقت ہرگز نہیں۔ اگر ایسا ہے تو انصار صاحب کسی بھی طریقے سے ٹریفک کے قوانین کو اسلامی شریعہ سے ثابت کردیں ہمارا اور ان کا جھگڑا تمام ہو جائے گا۔

ضابطے اور قوانین حالات اور وقت کیساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ قانون کو وقت کیساتھ مستحکم نہ کیا جائے تو لوگ اس میں سے چور راستے تلاش کر لیتے ہیں اور قانون بےکار بن جاتا ہے۔ کیا کوئی صحیح العقیدہ مسلمان یہ گوارا کر سکتا ہے کہ کوئی مجرم اسلام کے نام پر آزادی پائے اور لوگ اسلام کو برا بھلا کہیں۔ اس کی تازہ مثالیں ریمنڈ ڈیوس کا دو قتل کرکے بچ کر امریکہ واپس چلے جانا اور شاہزیب قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی کا اسلامی قوانین میں موجود سقم کو استعمال کرتے ہوئے آزادی پانا ہے۔ لوگ ان کی رہائی سے چراغ پا تو نہیں لیکن پھر بھی اسلامی قوانین پر لب کشائی سے گھبراتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے وہ مولوی حضرات کی طرف سے شاتم رسول ٹھہرائے جاتے ہیں۔

واضح رہے اسلامی شریعت محمدﷺ کی دی ہوئی ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ یہ نبیﷺ کی وفات کے سو سال بعد اس دور کے حالات کے مطابق مرتب ہوئی۔اسے عام انسانوں نے مرتب کیا جس میں رہنما اصول یقیناً قران سے ماخوذ تھے لیکن ان کی سو فی صد پابندی لازم نہیں۔ کوئی بھی اسلامی حکومت اپنے معروضی حالات کی بنا پر ان میں ردوبدل کرسکتی ہے۔

ٹریفک کے قوانین کی طرح ایسی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں جن کا اسلامی شریعت میں کوئی تذکرہ نہیں نہ ہی اسلامی شریعت کے مطابق وہ کوئی جرم ہیں لیکن جدید اور مہذب دنیا میں ان کو نہ صرف جرم مانا جاتا ہے بلکہ ان کی سزائیں بھی موجود ہیں۔

ہمارے ملک کا قانون آج بھی اسلامی ہی ہے کیونکہ انصار عباسی کے بیان کرددہ تمام تر برائیوں کو یہی موجودہ قانون جرم سمجھتا بھی ہے اور اسکی سزائیں بھی مقرر ہیں۔ ہمیں پیچھے نہیں آگے کی جانب دیکھنا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارے ملک کو شریعت چاہیے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے ایک ترقی پسند ملک بننا ہے یا ساتویں صدی کا ایک اجڈ ہجوم۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ six = 14

%d bloggers like this: