اتوار خوشگوار: مہمان مبارک حیدر

December 8, 2012 at 15:08

 اتوار خوشگوار ا یف ایم 107.2 پر انیلا انصاری کی مبارک حیدر سے تہذیبِ نرگسیت پر تفصیلی بات چیت

میزبان: انیلا انصاری
مہمان: مبارک حیدر

پروفیسر مبارک حیدر کا نام ادبی اور ثقافتی حلقوں میں آپ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انسپریشنل ، دانشوراور ادیب ہیں ۔حال ہی میں ان کی کچھ تصانیف منظرِعام پر آئیں جن میں تہذیبِ نرگسیت اورمبالغے مغالطےسرِفہرست ہیں۔ ان کتابوں میں آپ نے مسلم دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، انتہا پسندی اور خود پسندی کی بات کی ہے۔ یہ بتایا ہے کہ کن وجوہات اور امراض کی بنا پر مسلم دنیا  باقی تمام دنیا سے معاشی، معاشرتی اور سائینسی اعتبار سے پیچھے رہ گئی ہے۔

انیلا: آپ ہمیں کچھ تہذیبِ برگسیت کے بارے میں بتائیں کہ یہ کیا چیز ہے اور کیوں کر مسلمان اس مرض کا شکار ہیں؟
مبارک: ویسے تو اس پر نفسیات والوں نے ذاتی اور انفرادی طور پر اس کا تجزیہ کیا ہے کہ نرگسیت خود پسندی اور اپنے اوپر عاشق ہونے کا مرض ہے۔ ویسے تو ہر انسان خود سے کم و بیش کچھ نہ کچھ پیار کرتا ہے لیکن جب یہ پیا راورخود پسندی حد سے زیادہ بڑھتی ہے اورہم اپنے اردگرد کی دنیا کو بھلا دیتے ہیں اور اسے کچھ بھی اہمیت دینے پر تیار نہیں ہوتے اور اپنی ذات کےپیار، عزت اور توقیرمیں مبتلا ہو جاتے ہیں تو بیماری کی ایسی حالت کو نرگسیت کہتے ہیں۔ لیکن جب پوری ایک قوم اس  فخر کے مرض میں مبتلا ہو جائے کہ ہماری تہذیب اور مذہب کے مدِمقابل کوئی نہیں۔ تو میں نے اس مرض کے لیے تہذیبِ نرگسیت کے لفظ کا انتخاب کیا۔ میرے مطابق دنیا کی دوسری تہذیبوں اور مذاہب کے مقابلے میں یہ مرض مسلمانوں میں سوچ کا یہ انداز بہت ذیادہ ہے کہ ہمارے پاس سچائی، دانش، علم و عقل ہے۔ بلند آواز میں اس کا تذکرہ اور اس کا پرچار کرنا اور باقی سب کو اس کے مقابلے میں جھٹلا دینا اور دوسروں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔میں دنیا بھر میں گھوما ہوں اور یہ اندازِ فکر مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے معاشرے میں نہیں دیکھا ۔ ہمارے ہاں جو علما تبلیغ کے لیے آتے ہیں ان کا بنیادی نقطہ یہی ہے جس کے نتیجے میں ایک مسلمان دوسروں کو جبراً اپنے دین پر چلانا چاہتے ہیں جیسے طالبان نے لوگوں کو پکڑ کر ان سے کلمہ سننا اور نماز پڑھنے پر مجبور کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو ایسے حالات کو تہذیبِ نرگسیت کہتے ہیں۔
انیلا: کیا اس مرض کا کیا کوئی سدِباب ممکن ہے اور یہ بھی بتائیے کہ کیا یہ مرض مسلمانوں میں ہمیشہ سے رہا ہے؟
مبارک: اچھی پرفارمنس کے نتیجے میں جب لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسے اپنی کامیابیاں نظر آتی ہیں تو پھر ہی کوئی خود پر فخر کرنا سیکھتا ہے۔ جیسے اہل روم نےایک دورمیں بڑی حکومت کی، یونانیوں کے علم کا ڈنکا دنیا بھر میں بجا، انڈینز اور چینیوں نے دنیا بھر میں اپنی فتوحات کی بنا پر حکومت کی۔ اسی طرح مسلمانوں نے  بڑی فتوحات کیں اور سلطنتیں  بنائیں لیکن جب یہ عمل ختم ہوا یعنی جب مسلم قوم نے آگے بڑھنے کا عمل چھوڑ دیا ۔ جب کوئی اقتدار میں سالہاسال سے ہو تو وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے کہ  وہ ہے ہی حکومت کرنے کے لیے اور محنت و سعی کرنا چھوڑ دیا تو ایک انہطاط آیا اورمسلمان پیچھے رہ گئے اور  دنیا کی دوسری قومیں آگے بڑھ گئیں۔ یہ انسانی تاریخ کا خاصہ ہے کہ کوئی بھی قوم سدا حاکم نہیں رہتی۔ لیکن مسلمانوںحکمرانوں  نے یہ بات لوگوں کے اذہان میں راسخ کر دی گئی کہ ہم مسلمانوں کی ہزار یا سال کی بہترین  علم و ہنر اور مذہب کی اعلیٰ تہذیب ہے۔ لیکن سمجھنے کی بات ہے کہ جب دنیا کی دیگر اقوام جب کمزور ہوئی تو ہمارے آباواجداد نے ان پر غلبہ پا لیا۔  اور اسے فخر کا ذریعہ بنا لیا۔یقیناً یہ دور بہت اچھا تھا پر یہ سچ نہیں ہے کہ اب بھی وہ ہی دور ہے۔ یہ سمجھنے کی بات ہے کہ یہ کام ہمارے آباواجداد نے کیا ہم نے نہیں۔ جبکہ ہم نے اس تاریخ کو اپنے لیے فخر کا ذریعہ بنا لیا یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بوڑھا آدمی کہے کہ جوانی میں میں نے سو میٹر کی دوڑ دس سیکنڈ میں جیت لی تھی اور اب بھی اگر میں دوڑوں تو نتیجہ ویسا ہی ہو گا اور میں یہ دوڑ نو سیکنڈ میں جیت جاؤں گا۔ لیکن اگر وہ دوڑے کا تو گر پڑے گا۔
انیلا: یہ ایک تصوراتی مبالغہ ہے اس کا کوئی علاج بھی ہے؟
مبارک: جی بالکل علاج ہے۔ لیکن اس میں ایک بنیادی نقطہ ہے کہ مریضانہ  نرگسیت کے مریض کو خود اپنے مرض کا نہیں پتہ ہوتا کہ اسے ایسی کوئی بیماری ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اس سے حسد کرتے ہیں ۔ ان حالات میں عزیزواقارب کو سختی کرنا پڑتی ہے کہ علاج کراؤ۔ تو مسلم قوم کے عزیزواقارب دیگر اقوام عالم ہیں تو ان کو اب سختی کرنا پڑرہی ہے۔ یہ تنقید اور احساس دلانا  کہ اپنی کمزیوں کو دور کرو جیسے بوڑھے آدمی کو سمجھانا کہ یہ کیا خبط ہے کہ اس عمر میں دوڑلگانا مناسب نہیں ہے۔ لیکن یہ کام کیا جاسکتا ہے کہ آپ پیار محبت سےاپنے تجربے کی بنیاد پر نوجوانوں کی رہنمائی کرے۔ اگر وہ یہ سمجھنا شروع کردے تو وہ بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ یہ صرف سمجھانے کے لیے مثال ہے مسلمان قوم بوڑھی نہیں ہے لیکن اب ہمارہ کردار اقوام عالم میں اب لیڈر کا نہیں ہے۔  ہاں ہمارے پاس یہ اختیار چار سو سال پہلے تک تھا۔ اب یہ اختیار ہمیں نہیں ہے۔ تو ہمیں خود کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ہم اب ویسے نہیں رہے، جیسے انسان کا دماغ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ ہاں میری یہ غلطی ہے۔ تو ہمیں خود کو بھی یہ سمجھانا چاہیے کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے کہ لوگوں کو بتلائیں کہ اپنے لوگوں کو سمجھائیں کہ ہم غلط رستے پہ ہیں، یہ غلط فہمی ہے کہ ہم دنیا کو اپنے جیسا کر لیں گے۔ دنیا میں سات ارب لوگ ہیں چند سو سال پہلے اتنے لوگ روئے سر زمین پہ نہیں تھے۔ ان کی زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہیں اور ان کی امنگیں ہیں جو بھی چیز ایجاد ہوتی ہےاس کو پانے کی خواہش ہر ذی روح کو ہے۔ یہی زندگی کا حسن ہے کہ ہر شخص کو ان اسائشوں تک رسائی ہو۔ اس  مانگ میں کوئی خرابی بھی نہیں۔ لیکن مسلمان یہ تو نہیں کہتے کہ وہ ایک ہزار سال پہلے جیسی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور دنیا کی جدید سہولتیں مثلاً تیز ترین سفر کی سہولتیں، علاج کے اعلیٰ طریقے اور بہترین ادویات۔ مسلمان ان سہولتوں سے انکار نہیں کرتے اور یہ اصرار نہیں کرتے کہ ہم نے تو اونٹ کا سفر کرنا ہے ایسا  کوئی بھی نہیں چاہتا اور اس خواہش میں کوئی برائی بھی نہیں ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان ایجادات بنانے میں مسلمانوں کا بھی کوئی حصہ ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہم یہ مانگتے سب کچھ ہیں لیکن دنیا پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک ہزار سال پہلے کی سی زندگی بسر کرے۔
انیلا: آپ کی بات سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ مسائل کے حل کے لیے ایک ریشنل اپروچ ضروری ہے۔  بدقسمتی سے مسلم معاشروں میں ایسی سوچ بہت کم پائی جاتی ہے آپ کا کیا خیال ہے کہ مسلم دنیا میں ایسی سوچ پیدا کی جاسکتی ہے؟
مبارک: جی بالکل ریشنل اپروچ سے ہی ہمارے آباواجداد نے دنیا میں جنگیں جیتی ہیں۔ یہ خوش فہمی یا غلط فہمی ہے کہ ہم نے یہ جنگیں کسی معجزے کے نتیجے میں جیتی ہیں۔ مسلمان اپنی انفرادی اور روزمرہ  زندگی میں بہت ریشنل سوچ کے حامل ہیں۔ مثلاً وہ دو جمع دو چار کر رہے ہوتے ہیں، اپنے لیے ہر چیز مانگ رہے ہوتے ہیں ، تمام معاملات میں سچے اور کھرے ہوتے ہیں اور کچھ بھی چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے  اس کا مطلب ہے کی ریشنل سے بھی زیادہ ریشنل ہیں۔ بعض لوگ تو حد درجے تک چالاک ہیں۔ ہمارے جو لوگ تبلیغ کے ذریعے جذباتی بنا رہے ہیں میں ان کو نرگسیت کے معمار کہتا ہوں، لوگوں کو آخرت اور عاقبت کی باتیں سمجھا رہے ہیں لیکن ہمارے لوگوں میں جذباتی رویے راسخ کر رہے  حالانکہ ان کے اپنے حرم دنیا بھر  کی نعمتوں اور ازواج سے بھرے پڑے ہیں لیکن ہمارے معصوم لوگوں کو دین کے نام پر جذباتی کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اجتماعی زندگی میں بھی ریشنل بنانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً اگر  آپ نے کوئی وزن اٹھانا ہو تواپ پہلے سوچتے ہو کہ میں یہ اٹھا سکتا ہوں کہ نہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ آپ ایک ٹن وزن کے نیچے گھس کے اسے کمر کے زور سے اٹھانے کی کوشش کریں۔ آپ چاقو کو اپنے پیٹ میں مار کے تو نہیں دیکھتے کہ یہ جاتا ہے کہ نہیں آپ وہاں تو ایسا نہیں کرتے۔ جب آپ کا کوئی بچہ بیمار پڑتا ہے تو  وہاں تو کوئی نہیں کہتا کہ اللہ کی مرضی۔ اور جب آپ کی زندگی کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو آپ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کراتے ہیں۔ لیکن جب آپ اجتماعی معاملات میں آپ کی کوئی بھی سوچ نہیں ہوتی کیونکہ آپ کے پاس علم نہیں ہوتا۔ آپ دنیا کوکوئی بھی حل نہیں دے رہے ہوتے۔ یہ جذباتی نعرے  ہیں کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے عالم ہیں۔ آپ مہربانی کر کے علم حاصل کریں اور ریشنل ہو جائیں۔ مثلاً اگر کسی کے گردے فیل ہو جاتے ہیں اور آپ کو کوئی ایک وظیفہ بتائے کہ یہ عمل، یہ آیت مبارکہ اتنے ہزار دفعہ پڑھیں تو یہ ٹھیک ہو جائے گا توآپ اس کو پرکھ لیں کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے کہ نہیں۔ اس عمل کو دو چار ہزار لوگوں پر آزما کر دیکھ لیں کہ یہ کام کرتا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں کرتا تو آپ کو لازماً اس کا علاج ہی کرانا پڑتا ہے اور یہ عمل درست نہیں ہے۔ اسی طرح ہی زندگی کے دیگر معاملات ہیں، آپ اس عقلی اندازِفکر کو نہیں روک سکتے۔ ضرورت اس اندازِ فکر کو اجتماعی زندگی میں بھی رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ لوگوں کو سمجھانے کی بجائے لوگوں سے سیکھیں کیونکہ ہم علم و فن کے میدان میں اقوام عالم سے پیچھے ہیں۔  اسی طرح ہی ہم دنیا میں پنپ سکتے ہیں۔ ہمارے نوجوان طبقے میں اس اندازِ فکر کو بہت پذیرائی ملی ہے ۔
انیلا: اس کا مطلب ہے کہ ابھی امید زندہ ہے اور ہم سب کچھ نہیں ہارے۔
مبارک: جی امید ابھی باقی ہے کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی قوم کےکروڑوں اربوں لوگ اجتماعی خودکشی پر چلے جائیں۔ آپ کسی ایک کو خود کش بمبار بنا سکتے ہیں لیکن پوری قوم کو اس راہ پر نہیں لگا سکتے۔ یہ جو تبلیغی قسم کے لوگ لوگوں کے اذہان میں غلط سوچ کو پروان چڑھا رہےہیں اور دنیا سے نفرت کا پرچار کر رہے ہیں۔ یہ ہمیں سبق دے رہے ہیں کہ اسلام کی عظمت اس میں ہے کہ آپ تلوار لے کر کھڑے ہو جائیں اور سب کو تہ تیغ کر دیں۔ اس کو اڑادیں کیونکہ یہ کفر و گندگی کی تہذیب ہے۔ یہ تبلیغ کرنے والے جو اہل مغرب کو ٹھیک کرنے آتے ہیں  اپنی قوموں کو تو ٹھیک نہیں کر سکتے اور دنیا کو ٹھیک کرنے نکلے ہوئے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ ایک قوم کو ہمیشہ کے لیے گمراہ کر لیں گے۔ انشااللہ بہت جلد لوگوں کو حقیقت کا ادراک ہو جائے گا اور لوگ زندگی کے عمل میں واپس آجائیں گے اور یہ جو طوفان اٹھا ہوا ہے یہ تھم جائے گا۔
انیلا: یہ بتائے گا کہ اگر ہم مغرب کی طرف دیکھیں  تو مسلمان یہاں خوف و نفرت کی علامت بن گئے ہیں۔ مثلاً جب ہم یہاں سفر کرتے ہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تو ہم کس حالات کو کیسے اپنے لیے بہتر بنا سکتے ہیں؟
مبارک: یہ سمجھنے کی بات ہے کہ یہ ہمارے لوگوں کے عام لوگوں کی غلطی سے نہیں ہوا۔ ہمارے عام لوگ پر امن اور معصوم ہیں۔ ہوا یہ کہ شاطر اور برے لوگوں نے ایک پلان کے تحت عام لوگوں کے جذبات میں شدت اور نفرت کو پروان چڑھایا۔ اور ایسے واقعات رونما ہوے جو پر تشدد تھے جیسے بم بلاسٹ ہوئے اور نو گیارہ کا واقعہ ہوا۔ اور ان مغربی معاشروں میں جو نفرت ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان واقعات کے خلاف لب کشائی نہیں کی۔ مثلاً کسی مسلمان کے ساتھ اگر مغربی ملک میں کوئی واقعہ ہو جائے تو ہم اس کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن جب ہمارے کچھ برے لوگوں نے مغرب میں دہشت گردی شروع کی تو ہم اس کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں کرتےان کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا نہ ہی ان کو غدار کہا۔ حالانکہ مغربی معاشرے نے ممکنہ عراق جنگ کے خلاف کروڑوں کی تعداد میں باہر نکل کے مظاہرہ کیا۔ جبکہ مسلمانوں نے نو گیارہ کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں کیا۔
انیلا: جی مجھے یاد ہے کہ ایسا ہی ایک مظاہرہ لندن میں ہوا تو میں بھی اس میں شرکت کے لیے گئی تو مظاہرین کی اکثریت گوروں کی تھی اور بھی ممالک میں  ایسے بے شمار مظاہرے ہوے تھے۔
مبارک: جی ایک منتخب حکومت نے عراق پر حملہ کیا پھر بھی وہاں کے لوگوں نے اپنی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں جو القاعدہ، حزب تحریر جیسے لوگ جو کہ منتخب نہیں ہیں کہ ہماری طرف سے دوسروں پر حملہ کر دو لیکن ہم اس پر اپنی انکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہم اس لیے اس کی تائید کر دیتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے مسلمان بھائی نے کفار کے خلاف کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان لوگوں نے یہ کام اپنے ذاتی مفاد کے لیے کیا اور مسلمانوں کو اس سے بہت نقصان ہوا۔ جیسے لاہور میں ایک امریکی نے لاہور میں دو لوگوں کو گولی مار کر قتل کر دیا تو پوری قوم آگ بگولہ ہو گئی کہ اسے لٹکا دو اسے جرات کیسے ہوئی وغیرہ وغیرہ جبکہ جب ہم میں سے کوئی مغرب میں جا کر تین ہزار لوگوں کو مار دیتا ہے تو ہم اس پر چپ سادہ لیتے ہیں کیونکہ یہ کام ایک مسلمان نے کفار کے خلاف کیا ہوتا ہے تو اسی کو تہذیبِ نرگسیت کہتے ہیں۔ تو اسلام کے نام پر اگر کوئی کتنا بھی گھناؤنا   کام کرے تو آپ اس کے حق میں جواز گھڑتے ہو تو یہ بیمار ذہنیت ہے۔ جیسے اکبر بادشاہ نے انصاف سے کام لیا تو اس کا بول بالا ہوا جبکہ اسی کے مقابلے میں اس کا پوتا اورنگزیب آیا تو اس کے انتہا پسندعزائم سے مغل سلطنت زوال پذیر ہو گئی۔ یہ ہوتا ہے کہ انصاف کرنے والا ہی اصل لیڈر ہوتا ہے تو منصف کے لیے ضروری ہے وہ بہت ذیادہ قربانی دینے والا ہو اور دونوں طرف برابر سوچے اور پورا تولے۔
انیلا: آپ کا پیغام کیا ہو گا کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام کا بول بالا ہوانفرادی سطح پر کیا کر سکتے ہیں؟
مبارک: اس کا حل ہی انفرادی طور پر ممکن ہے۔  اجتماعی طور پر اس کا حل ممکن نہیں ہے کسی نے بھی ہمیں نہیں کہا کہ ہم دنیا چلائیں۔ زبردستی حکومت نہیں چل سکتی امریکہ بہت بڑی سپر پاور ہے لیکن حکومت کو وہ بھی کسی پر مسلط نہیں کر سکے ویتنام میں انہوں نے مار کھائی افغانستان میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ لہذا اجتماعی بات کو چھوڑ دیں ہم تو روٹی بھی مانگ کر کھاتے ہیں۔ ہم سے تو بندوق بھی صحیح نہیں بنا سکتے۔ مجھے یاد ہے جب میں روس میں تھا تو واّہ انڈسٹریز والے منتیں کر رہے تھے کہ آپ ہمیں ان سے لوہا لے دیں ہم سے تو اچھا لوہا نہیں بن پا رہا۔ انفرادی سطح پر ہمارہ فرض بنتا ہے کہ ہم اچھے انسان بنیں۔ اس کا سادہ سا طریقہ یہ کہ دنیا میں انسانوں کی بھلائی کی جو چیزیں ہیں تو ہم ان میں کمال حاصل کریں۔ اگر کوئی اچھا مشین مین بن سکتا ہے تو آپ اچھے مشین مین بنے، آپ اگر اچھے کمپیوٹر انجینئر بن سکتے ہیں تو بنیں، اگر آپ اچھے ریسرچر بن سکتے ہیں تو بنیں ، اگر آپ کوئی خلا میں سیٹلائیٹ بیجھنے کے فزکس کے عالم بن سکتے ہیں تو بیں۔ یہ وہ کام ہیں جو آپ  کریں جس سے آپ کی صلاحیت بڑھے اور آپ معاشرے کے کارآمد شہری ہوں۔ تو ہمارے دین کے مبلغ اور امام یہ کام نہیں کر سکتے وہ ان چیزوں میں پیچھے ہیں تو ان کو کفر قرار دے کر ان میں مہارت تو کجا سیکھنے سے ہی دستبردار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان علوم کی وجہ سے ہی دنیا اپنے قدموں پر کھڑی ہے۔ دیکھیں ایک دور میں اگر ایک گردہ ختم ہو جاتا تھا تو بندہ ختم ہو جاتا تھا آج گردہ ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے دل اور جگر کی بھی ٹرانسپلانٹیشن ہوتی ہے۔ آپ زور لگا لگا کر گوبر ڈال ڈال کر بمشکل چند من گندم کی فی ایکڑ پیداوار لیتے تھے لیکن اب سائینسی علوم کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار ایک سو پچاس فی من تک پہنچ گئی ہے۔ انڈیا سے لوگ حج کرنے عرب جانے کا سفر چھے ماہ میں کرتے تھے جبکہ اب یہ سفر اب چھ گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔ یہ جو باتیں ہیں ان سے انسانی زندگی کو سہولتیں ملی ہیں اور زندگی آسان ہوئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہم بھی دنیا کی قوموں کے لیڈر نظر آئیں۔ انڈیا اور چین والوں نے کر دکھایا ہے نا۔ وہ دنیا کی باعزت قوموں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ہم ایک اچھی یونیورسٹی نہیں بنا سکتے۔ آپ کو مدینہ یونیورسٹی کی مثال دیتا ہوں کہ وہاں آج بھی یہ پڑھایا جاتا ہے کہ زمین ساقط ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے  ابھی تک مسلمان اپنی یونیورسٹیز میں ایسی بے تکی باتیں اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ اللہ کے واسطے اس کو چھوڑ دیں اپنے بچوں کو بہترین سائینسدان انجینئر اور ڈاکٹر بنائیں۔ مستقبل کے رہنما بنائیں وہ لوگوں میں سر اونچا کر کے فخر سے معاشرے میں رہ سکیں۔ لوگ خود آپ کے پاس رہنمائی کے لیے آئیں۔ لیڈر ذبردستی نہیں بنتا۔ ڈنڈے سے اور غدر مچا کر کوئی لیڈر نہیں بنتا۔ بہترین وہ ہوتا ے جہاں لوگ رہنمائی کے لیے جاتے ہیں۔ آپ امریکہ ، یورپ ، روس اور چین کی یونیورسٹیز جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ رہنمائی کا مقناطیس تو وہاں ہے۔
انیلا: جی اور چندہ جمع کرنے بھی وہیں جاتے ہیں۔
مبارک: جی حالانکہ عربوں کے پاس پیسہ بہت ہے لیکن ان کی سوچ یہ ہے کہ سوا ارب لوگوں کو ایندھن بنا کر اپنی حفاظت پر لگانا چاہتے ہیں۔لوگوں کو مارو اور ہماری طاقت بن جاؤ۔ تاکہ کسی کو ان کا ناجائز تیل بیچ کر کمایا پیسہ نظر نہ آئے۔ آپ مذہب کو اپنا ذاتی ایشو بنائیں۔ آپ کسی کو کیوں بلاوجہ تنگ کریں کہ اپنا دین چھوڑ کر آجاؤ۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اگر اچھے رہنما ہیں، اچھے انجینئر، اچھے ڈاکٹر ، اچھے سیاستدان ہیں آپ  کے پاس کہنے کو بات ہے اور آپ کی بات میں وزن ہے اور اس بات سننے والے لوگ ہیں تو آپ خود کو پرکھیں کہ آپ کی بات سن کر تھوڑے سے کم مخالف ہوئے، کیا ان کا غصہ تھوڑا سا کم ہو، کیا آپ کے دوست تھوڑا سا اور آپ کے حمایتی ہوئے، جو نئی بات آپ لوگوں کو بتارہیں ہیں تو کیا لوگ اس کو سننا پسند کر رہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو آپ خود پر غور کریں کہ آپ میں خرابی ہے۔ آپ حکیم بن کر دوائی دے رہے ہیں اور اگر لوگ تڑپ رہے ہیں تو آپ کی دوائی میں خرابی ہے۔ یہی مسلمان دنیا میں جہاں جاتے تھے ان کو خوش آمدید کہا جاتا تھا۔ اب آپ کو ننگا کر کے آپ کی تلاشی لیتے ہیں تو کچھ تو خرابی ہوئی ہے۔ آپ یہ کہ دیتے ہیں کہ گورے متعصب ہو گئے ہیں۔ گورے متعصب ہیں تو آپ کو کیوں بلا رہے ہیں۔ اتنی مدتوں سے آپ کواتنی نسلوں کو شہریت دی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے ہاں سے دروازے بند نہیں ہوے ۔ آپ نے اپنے آپ کو قابلِ نفرت بنا لیا عربوں کے کہنے پر۔ اپنا کردار تو کسی کا برا نہیں ایک عام مسلمان آج بھی بہت اچھا اور ملنسار اور متحمل مزاج ہے لیکن ان کے برے پہلو کو ان تبلیغیوں نے ابھار کر اقوام عالم کے لیے قابلِ نفرت بنا دیا ہے۔ اسکے نتیجے میں ہمارے انفرادی اور اجتماعی سطح پر خرابی ہے۔ اس کا حل ہے کہ ہم اپنی انفرادی زندگی میں اپنے کام میں کمال حاصل کریں۔ ہمارے کام کی لوگ تعریف کریں۔ جو جس فیلڈ میں ہے اس کے لوگ کہیں کہ آپ واقعی اس میں مہارت رکھتے ہیں اور معاشرے کے مفید رکن ہیں۔ ڈنڈے مار کر نہ آپ کچھ حاصل کر پا رہے ہیں اور نہ ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
انیلا: آپ آخر میں ہمیں کوئی شعر سنا کر اس بات چیت کا اختتام کریں۔
مبارک: اردگرد کی تلخیوں سے میں بھی گھبرایا ہوا ہوں اور اب پیار محبت کے شعر عرصہ ہوا چھوڑ چکا ہوں۔ جو بات اب منہ سے نکلتی ہے وہ کڑوی سی نکلتی ہے۔ مثلاً کچھ دن پہلے میں نے لکھا،
؏ سجدوں کا صلہ دستِ تنہائی، دستِ دعا تھا
کیا کوئی بتِ سنگ ہی
میرا بھی خـــــــــدا تھا
کہ دیکھیں دل میں دکھ آتا ہے کہ ہم جتنی ذیادہ دعائیں  اور عبادتیں کرتے ہیں اتنا ہی مایوسی ہو رہی ہے۔ اقبال نے ہماری نرگسیت کو اتنا بڑھاوا دیا اور کہا
؏ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
یعنی دیکھیں  انہوں نے دین اور سیاست کو ملا دیا اور اب طالبان کی سیاست اب اسی محور کے گرد گھومتی ہے، تو میں نے بھی ایک شعر کہا
؏ دین اور سیاست کا ملن دیکھ کے اقبـال
چنگیز کے پہلو میں پشیمـــ
ــــان کھڑا تھـا
یعنی یہ جو فلسفہ تھا کہ دین اور سیاست کو ملا دو تو چنگیز کی طرز کی سیاست آگئی، قتل و غارت، کوڑے مارو، بم مارو اور لوگوں کے گھروں کو آڑا دو۔ ہوا کیا کہ آپ نے دین  اور سیاست آپ نے ملائی تو وہ سیاست پیدا ہوئی کہ چنگیز بھی شرمائے۔
انیلا: آپ اپنا مثبت پیغام دیں۔
مبارک: جی میں بلکل بھی نا امید نہیں ہوں ، میں اب بھی یہی پیغام دوں گا یہ ایک مثبت تبدیلی آرہی ہے اور اس روش سے لوگ باغی ہو رہے ہیں اور ہم شاندار اور بہترین لوگوں میں شامل ہوں گے ، مسلمانوں کی ایسی تعداد غالب اکثریت میں ہوں گے اور ایسے تبلیغی کونے میں شرمندہ بیٹھے ہوں گے۔
انیلا: آمین، جی یہ بہار مسلمانوں میں انشاللہ ضرور آئے گی۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



nine + = 18

%d bloggers like this: