ابن مسکویہ اور نظریہ ارتقاء

August 30, 2013 at 07:00 ,
انا الحق؛

رے سے تعلق رکھنے والا عظیم محقق جناب ابو علی احمد بن محمد بن یعقوب مسکویہ نے نظریہ ارتقاء پر بہت اچھی طرح روشنی ڈالی تھی جو ڈروان کے نظریہ ارتقاء سے ملتا ہے۔

ابن مسکویہ لکھتا ہے کہ: موجودات عالم میں زندگی کا اثر سب سے پہلے نباتات کی شکل میں ظاہر ہوا کیونکہ ان میں حرکت پائی جاتی ہے اور وہ غذا کے محتاج ہوتے ہیں اور ان ہی دو خصوصیات کی وجہ سے وہ جمادات سے ممتاز ہوجاتے ہیں۔

نباتات میں تدریجی ارتقاء کے بارے لکھتے ہیں:

پہلا درجہ: یہ ابتدائی درجہ تو ان نباتات کا ہے جو بغیر تخم کے پیدا ہوجاتے ہیں اور ہر قسم کی زمین سے اگتے ہیں۔وہ تخم کے ذریعے اپنی نوع کو مخفوظ نہیں رکھتے اس لئے ان میں اور جمادات میں بہت کم فرق ہے۔

اس بالکل ابتدائی درجے کے بعدزندگی کے اثر میں ترقی ہوتی ہے اور اس قسم کے نباتات پیدا ہوتے ہیں جن میں شاخ و برگ پائے جاتے ہیں اور وہ تخم کے ذریعے اپنی نوع کو مخفوظ رکھتے ہیں۔

دوسرادرجہ:ایسے درخت پیدا ہوتے ہیں جن میں تنا پتہ اور پھل پائے جاتے ہیں اور اسی پھل سے وہ اپنی نوع کو مخفوظ رکھتے ہیں

ان درختوں میں درجہ بدرجہ اور ترقی ہوتی ہے وہ لگائے بھی جاسکتے ہیں اور قدرت ان کی نشونما کرتی ہے۔

تیسرا درجہ:نباتات کی ارتقاء کا انتہائی درجہ وہ ہے جس میں ایسے قسم کے درخت پیدا ہوتے ہیں جو بہت بڑے حساس اور مخصوص ماحول میں اگتے ہیں۔

ابن مسکویہ نے نباتات میں زندگی ثابت کی اور اور کہا کہ یہ زندگی ترقی پزیر ہے نباتات کو ارتقاء کی آخری منزل حیواناتی زندگی کا ابتدائی درجہ ہے۔

حیوانات کی ابتدائی منزل تک پہنچ کر قوت حس لمس پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی حرکت اور حس لمس یہ دو قوتیں حیوانات میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ابتدائی ترین حیوانی زندگی میں دوسرے حواس سے حیوان محروم تھے۔ اور ان میں حرکت اور حس لمس ابتدائی شکل میں موجود تھی جیسے گھونگھے اور سیپ جو سمندر کے کنارے پائے جاتے ہیں اور چھونے اور حرکت کی حس بہت کم ہوتی ہے۔

اس کے بعد ابن مسکویہ اور اگے بڑھتا ہے اور حیوانی زندگی کی ابتدائی کڑیاں بیان کرتا ہے۔

1: حرکت اور حس لمس کو قوتیں بلکل معمولی حالت میں پائی جاتی ہیں۔

2: حرکت اور حس لمس کی قوت زیادہ پائی جاتی ہے جیسے کیڑے مکوڑے۔

3: وہ جاندار جن میں چار خواص پائی جاتی ہیں مثلا چھچھوندر

4: اور پھر ترقی ہوتی ہے اور ان میں قوت باصرہ پیدا ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیاں۔

ان ارتقائی کڑیوں کو بیان کرتے ہوئے ابن مسکویہ نے یہ ثابت کیا کہ کس طرح درجہ بدرجہ حیوانات ارتقاء پا گئے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ابن مسکویہ کا مشاہدہ انتہائی اچھے درجے کا تھا۔

اس کے بعد وہ مزید تشریح کرتا ہے حیوانات کا ابتدائی درجہ اس کی مختلف منزلیں۔

1:وہ حیوانات جو غبی اور کم فہم ہوتے ہیں

2: وہ حیوانات جو ذکی الحس اور تیز فہم ہوتے ہیں مثلا ہرن، نیل، گائے وغیرہ

3: وہ حٰیوانات جو ذکی الحس اور تیز فہم ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور قوت بھی رکھتے ہیں یعنی ان میں کچھ قوتیں حکم قبول کرنے کی اور نہ کرنے کی بھی پیدا ہو جاتیں ہیں۔ مثلا گھوڑا، باز وغیرہ۔

حیوانات کا اعلی درجہ:

1:نسبتاً ذکی الحس اور تیز فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ابتدائی درجہ میں ان میں نقل کرنے کے کچھ مادہ ہوتا ہے جیسے طوطا اور مینا وغیرہ ۔

2:ذکی الحس تیز فہم اور جماعت بندی پر مائل اجتماعی طور پر رہتے ہیں۔ مثلا بندر اور بن مانس وغیرہ۔

حیوانات کے اس اعلی ترین درجے کی اخری منزل سے انسانیت کا ابتدائی درجہ شروع ہوتا ہے۔

اس درجے میں حیوان اور انسان کے مزاج بہت ملتے جلتے ہیں اور بہت کم فرق پایا جاتا ہے مثلا جنگلی قبائل، آدی باسی، اور دوردراز کے حبشی لوگ۔

ابن مسکویہ نے اپنے وقت کا خوبصورت ترین نظریہ پیش کیا تھا ابن مسکویہ سے بھی پہلے فارابی نے انسانی ارتقاء کا نظریہ پیش کر دیا تھا جس پر ابن مسکویہ نے اس کی بڑے اچھے انداز میں تشریح کی۔اگرچہ آج اس نظریے میں بہت سے جھول نظر آتے ہیں مگر سائینس کا یہی خاصہ ہے کہ وہ رنگ، نسل، ذات اور مذہب سے آزاد ہے اور اپنے نظریات آپ کو بتدریج بہتر بناتی اور جھول ختم کرتی جاتی ہے۔ جو تخم فارابی نے بویا ابن مسکویہ نے اسے پانی دیا اور ڈارون نے اسے تناور درخت بنا دیا۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



− three = 6

%d bloggers like this: