آن لائن فرام کعبہ

June 20, 2013 at 02:05 , , , ,

ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

عمرے کے سلسلے میں چند ماہ قبل مکہ جانے کا اتفاق ہوا،وہاں کے بارے میں ایک عمومی تاثر جو ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں یہ ہے کہ یہ ایک مقدس جگہ ہے پیغمبروں کی سر زمین، کرہ ارض کا مرکز جو کہ تمام عالمِ ہست وبُود کی استقامت کا ضامن ہے۔ اور اسلام کے عظیم سپاہی اور خادمین حرمین شریفین جسکی توسیع کیلئے اور اللہ کے مہمانوں کی سہولت یا خاطرداری کیلیے اربوں ریال اپنے ذاتی تیل کی آمدن سے خرچ کر رہے ہیں۔ یوں جیسے سالانہ دنیا بھر سے سفر کرنے والے کروڑوں زائرین مفت میں قیام پزیر ہوتے ہوں، مفت ٹرانسپورٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوں یا واپسی پر مفت تحائف لے کر جاتے ہوں اور اس میں ٹورازم سے حاصل شُدہ آمدنی کا ایک پیسہ استعمال نہ ہوتا ہو، دنیا بھر میں اسلام کی ترویج و تبلیغ اور مخصوص اسلامی طرز فکر کی پشت پناہی بھی صرف اپنےاسی تیل کےوسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے کرتے ہوں۔ اور چونکہ وہ مذہب کے نسلی و ثقافتی و لسانی و علاقائی وارث ہیں اسلےس تمام اسلامی ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا حق بھی اسی وراثت کے تحت رکھتے ہیں۔

پہلا دھچکا اس وقت لگا جب حرم میں داخل ہوئے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات یعنی سادگی اور آرائش و زیبائش سے گُریز جسکا ہمیشہ درس دیا جاتا ہے اسکا تو جیسے جنازہ ہی اٹھ گیا۔ سونے کے دروازے اور گنبد، سنگِ سفید کا فرش، راہداریوں میں بچھے سرخ قالین، دنیا بھر کے ڈیزائنوں سے مرصّع در و دیوار، کعبے کے دروازے پہ لکھا سعودی فرمانروا کا نام اور بیش قیمت سیاہ لباس میں ملبوس اللہ کا گھر اپنے غریب زائرین کی غربت اور غربت کے ہاتھوں مجبور دنیا بھر میں اپنے بے لباس، ننگے ماننے والوں کا مذاق اڑاتا دکھائی دے رہا تھا۔ اور عظیم الشان عمارتوں کے بیچوں بیچ ایستادہ خانہ خدا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں یرغمال خود انہی کا اشتہار دکھائی دے رہا تھا۔
حرم کے اندر بیشمار افراد فوٹو گرافی کرتے نظر آئے، تصویر کشی جو کہ اسلام میں حرام ہے وہاں بڑے اہتمام سے “پریکٹس” کی جا رہی تھی۔ پھر دنیا بھر سے آئے افراد میں سے جنوبی ایشیائی افراد سے زیادہ میں نے کسی کو بھی زاروقطار روتے، گڑگڑاتے اور غلافِ کعبہ سے لپٹتے نہیں دیکھا۔ شاید اسکی وجہ بھی خون میں رچی صدیوں پرانی پتھرپرستی ہو جس نے شکل بدل کر اسلام قبول کر لیا ہو۔ پھر حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش میں دھکم پیل، اور اس کیلیے مرد وزن جس طرح ثواب کمانے کی خاطر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑ رہے تھے وہ منظر بھی دیدنی تھا۔ نہ کسی کو دوپٹہ کھینچنے پر غصہ آرہا تھا نہ ہی مردوں اور عورتوں کیلیے الگ الگ حجر اسود ہونے کی بحث و تکرار جاری تھی۔
kaba-newمسجد سے قریب 400 میٹر کے فاصلے پر فور سٹار ہوٹل میں ہمارا قیام تھا اور میرے میاں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سمارٹ فون سے انٹرنیٹ کنیکٹ کر کے مجھے تھما دیا۔ حیرت در حیرت، میں نے ساون کے ترسے کے مصداق فوراً یو ٹیوب کھولی۔ سبحان اللہ حرم کی برکتیں دیکھیے یو ٹیوب کھل گئی ۔ ۔ ۔ اور میری آنکھیں بھی۔ پاکستان میں ایک زمانے میں حرام قرار دی جانے والی “پے ایوری پینی ٹو سیو اسرائیل” پیپسی اسلام قبول کر کے فرج میں استادہ تھی، آخری امید کہ فیس بک یقیناً حرم کے اندر ممنوع ہوگی، لیکن فیس بک کے پاکستان میں سنسرشُدہ پیجز اور سائٹس نے بھی کھل کر میری جہالت کا خُوب مذاق اڑایا۔ ایک زمانے میں فحاشی و عریانی کا علمبردار ٹی وی بھی حرم کی عصمت کا شاہد نظر آیا۔ چلو اس پر بھی یہاں کا بے ضرر سرکاری ٹی وی چلتا ہو گا، لیکن محو رقص لبنانی گلوکارہ نےماحول کوجیسے مُرتعش کردیا۔ عربوں میں میڈیا پر ترکی اور مصر کا سکہ چلتا ہے۔ قطر اور لبنان کے چینلز بھی مقبول ہیں لیکن ڈرامے زیادہ تر ترکی یا مصر کے ہی مشہور ہیں شاید انہیں سے متاثر ہو کر کوئی پاکستانی زائر واپس جا کر ترکی کے ڈرامے پاکستانی چینلز پر دکھانے کا مؤجب بنا ہو اور اس پیروی میں ثواب دارین کے حُصول کیلئے اس نے اپنے ملک میں یہ رسم ڈالی ہو جبھی تو آجکل پاکستان میں ہر چینل پر آپکو بدیشی ڈرامے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
سعودی عرب پچھلے چند سالوں میں بیشمارتبدیلیوں سے گزرا ہے، جسکی ایک وجہ شاید عربوں میں اٹھنے والی بیداری کی وہ لہر بھی ہو جو اپنے ساتھ تیونس، مصر اور لیبیا کی حکومتیں بھی لے ڈوبی اور ابھی بھی بہت سے مسلم ممالک خانہ جنگی کی صورتحال کا شکار ہیں۔ حکومتی سطح پر سعودی عرب کی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی، خواتین کی کوہ پیمائی، پائلٹ یا وکیل بننے کی اکا دکا مثالیں اور محرم کے ساتھ یا اسکی اجازت سے پارکوں میں سائکل سواری کی اجازت تاکہ بعد میں آہستہ آہستہ اُنہیں ڈرائیونگ کی اجازت بھی دی جا سکے، اسکی چند مثالیں ہیں۔ اسکے علاوہ خواتین کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکہ بھیجنے کا بڑھتاہوا رواج اور خواتین کے باقی عرب ریاستوں میں کاروبار، یونیورسٹیوں میں مغربی اساتذہ کو دُگنی تنخواہ اور مراعات پر نوکری دینا جو ظاہر ہے فقہ اور قرآن تو نہیں پڑھائیں گے۔ مزید یہاں کے نوجوانوں کی کثیر تعداد کی مغربی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش و کوشش، ایک سست رفتار سماجی تبدیلی کی طرف چند قدم ہیں۔ معاشرتی سطح پر کچھ تبدیلیاں یوں دیکھنے میں آئیں کہ سوشل میڈیا کا راج ہے۔ نوجوان صبح اٹھ کر ناشتہ بعد میں کرتے ہیں، پہلے فیس بک، وٹس ایپ یا ٹویٹر اپڈیٹس دیکھی جاتی ہیں۔ انسٹاگرام کے ذریعے حرام تصویر کشی ہر نوجوان کے سمارٹ فون کا لازمی جزو ہے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ کمپنیاں اشتہارات میں ازراہ ترغیب ایسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے بیان دکھا رہی ہوتی ہیں جو اپنے بارے میں انٹرنیٹ پر ‘سب کچھ سچ’ بتانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ اسی سعودی عرب کی طرف سے پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں رجعت پسند اور قدامت پرست دائیں بازو کی جماعتوں کی اخلاقی، مالی اور نظریاتی حمایت جاری و ساری ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کو سوچنا ہو گا کہ جب خود روایتی طورپررجعت پسند اور قدامت پرست عرب ممالک میں ایک متوازی روشن خیالی اور سماجی بیداری کی لہراٹھ رہی ہے اور حکومتیں اسکے مطابق خود کوڈھالنے پر مجبور ہورہی ہیں تو ہم آزادئِ رائے اور اعتدال پسندی پر پہرے کیوں بٹھا رہے ہیں۔ آئے روز فیس بک کے مخصوص پیجز کی بندش، یو ٹیوب جیسی معلوماتی سائٹ پر پابندی اور جدید سائنسی ایجادات کو رد کرنے اور پھر جب ساری دنیا میں عام ہو جائیں تو ان کوباامرِ مجبوری اپنانے کی فرسودہ روایت کو کب تک گلے لگائے رکھیں گے۔ آزادئِ اظہار رائے اتنا ہی بُنیادی حق ہے جتنا کہ سانس لینا۔ سوچ کو آزاد رکھیں گے تو دماغ کی کھڑکیاں کھلیں گی، نئی ایجادات ہونگی، ترقی کے راستے کھلیں گے، توازن اور ہم آہنگی بڑھے گی اور ہمارا وجود قائم رہے گا۔ ورنہ ہم ساری دنیا سے کٹ کر نہیں جی سکیں گے اور دنیا اگر گلوبل ولیج بنے گی تو ہمارا کردار اس میں ڈھور ڈنگر کا ہی ہو گا۔

Related Posts

Comments

comments

2 Comments

  • Saleem

    very well written. I fully agree with you. hajj, umra & oil are the two main resources of income for saudi Arabia. Innocent, illiterate, blind followers of society & ancestors, superstitious people religionists waste there trillins of dollars just in vain activities of pooja paat, chooma chati, pahairay of rooms, gods houses, stones, waters, walls with no fruit full results, how much manhours are wasted just for nothing. Arab slavery is a curse.

  • Dr Afaq Ahmad

    I think dr sahiba was not on Umra trip but doing somekind of research work on saudi society.On one hand u all condemn what Taliban r or were doing in Afghanistan in the name of Islam and calling it JAHALAT and on the other hand we condemn the modernization in saudia.Have u seen the pics of Khana kaba in 1920.Were u expecting that kind of kaba amongst most modern buildings.Then probably u would have been the first to criticise that look at them ,they have wasted the oil money in raising modern buildings and neglected Kaba.Please all of us should do our selef accountability rather than criticizing others.Ar Afaq Ahmad

Leave a reply

required

required

optional



9 − = six

%d bloggers like this: