آخر مرد اپنا چہرہ کیوں نہیں ڈھانپتے؟

August 7, 2013 at 00:01 ,
ڈاکٹر سلیقہ وڑائچ؛

میں اور میرے خالہ زاد بچپن میں اکٹھے پلے بڑھے، ہماری پرورش میں کبھی کوئی فرق نہ رکھا گیا تھا۔ خالہ کے گھر کے لان میں ہم لڑکیاں لڑکے اکٹھے کھیلتے کودتے، ہنستے روتے اور کھیل کھیل میں لڑائی بھی کرتے تھے۔ہم اکٹھے ٹی وی دیکھتے تھے اور افسردہ کارٹون دیکھ کر اکٹھے بیٹھ کر رو دھو بھی لیتے تھے۔ پھر ہم ذرا بڑے ہوئے تو ہم نے اکٹھے سکول جانا شروع کیا۔سکول میں بھی شرارتیں جاری رہیں لیکن لڑائی کے دوران دھمکی کی نوعیت بدل گئی، اب ہم کہتے تھے کہ ہم ٹیچر کو شکایت لگائیں گے۔ وہ دن … جب ہم ایک دوسرے پر گرتے پڑتے اور وہ دن جب ہم پورے دل سے ہنسا کرتے تھے۔ وہ دن پر لگاکے اڑ گئے۔ وہ وقت چلا گیا…

آج میں اور میری خالہ زاد کھڑکی سے باہر لان میں جھانک رہی ہیں۔ جہاں ہمارے چچا زاد اور خالہ زاد لڑکے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل میں مگن ہیں۔ یہی وہ باغیچہ ہے جہاں ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور تب یہ لڑکے ہمارے ہم جولی تھے۔یہی وہ لڑکے تھے جن کے ساتھ ہم کھیلتی تھیں… اب ایسا کیا ماجرہ ہو گیا کہ ہم گھروں میں قیدی بنے بیٹھی ہیں؟ جبکہ وہ آزادی سے اور مزے سے گھر سے باہر کھیل رہے ہیں۔ ہم سے ایسی کیا خطا ہوئی؟کیا ابھی سےہماری عمر کھیلنے کی نہیں رہی؟ کیا ہمارے جسم اب اس قابل نہیں؟ وہ ہے کیا جو بدل گیا ہے؟ اب ہم ایک دوسرے کے لیے اتنے اجنبی کیوں ہیں؟ کیا ہمارے جسم ایک فتنہ ہیں جنہیں دوسروں سے ڈھانپنا ضروری ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ اُن کی آواز بھاری جبکہ ہماری تیکھی ہو گئی ہے؟ کیا صرف یہی وجہ ہے کہ اب ہم دوست بھی نہیں رہے؟ آج ہم سے یہ توقع کیوں کی جا رہی ہے کہ ہم اپنے سابقہ دوستوں سے نئے اور مختلف انداز سے شرما کر بات کریں؟ ابھی کل ہی کی بات ہے ہمارے مزاج اور ہمارے رویے ایک جیسے تھے۔ آج اس قدر تبدیلی کیوں؟ ہمارا ایک دوسرے سے کھیلنا بند ہو گیا ہے اور کیوں اب ہم اپنے فارغ اوقات میں 50 سالہ بوڑھیوں کی طرح بیٹھ کر ٹی وی ڈرامے دیکھا کریں۔ یوں وہ دن گزر گئے …۔

پھر آج میں سکول میں ہوں … آج ہمیں سکھایا جا رہا ہے کہ عورت ہونے کے ناطے ہمیں کیا کیا ڈھانپنا چاہیے؟ ہم سیکھ رہے ہیں کہ ہمارے جسم میں کونسی جگہیں جنس مخالف کے لئے باعثِ ترغیب ہیں جو نہ ڈھانپی جائیں تو فتنہ ہو سکتی ہیں۔ ہمارے بال فتنہ ہے … ابرو فتنہ ہیں … میری آنکھوں کے سامنے میرے پسندیدہ مرد گلوکار کی تصویر آ گئی ہے … اس کی آنکھیں بے حد دلکش ہیں … اس کے بال بہت خوبصورت ہیں … وہ کیوں پردہ نہیں کرتا؟ میں نے خود سے یہ سوال پوچھا، تاہم، مجھے اس کا جواب نہیں مل سکا …جب میں جوان ہوئی تو میرے باغیچے میں کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی، لیکن لڑکوں کو کسی نے نہیں روکا کیا وہ بلوغت کو کبھی نہیں پہنچے؟ وہ ابھی تک بچے ہیں؟ کیوں ہماری طرح وہ گھر میں قید نہیں ہیں؟ مجھے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں مل سکا … اوریوں وہ وقت بھی نہیں رہا … مجھے ہمیشہ یہی سننے کو ملتا ہے کہ میں “ایک عورت ہوں، مجھے حفاظت کی ضرورت ہے”، میں زیور ہوں قیمتی گہنا ہوں۔ اور بسا اوقات تویہ بھی کہ میں ایک مٹھائی ہوں جسے ملفوف رکھنے کی ضرورت ہے… ا گر میں نے حفاظتی ورق اتار دیا تو میرے ارد گرد مکھیاں بھنبھنائیں گی۔ میرا پسندیدہ گلوکار ٹی وی پر اپنی آواز کا جادو بکھیر رہا ہے۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اس کے نرم ریشمی بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کروں، اور اس کی مردانہ وجاہت کو سراہوں، اس کا برہنہ سینہ… اور برہنہ بازو… میں بے خود سی ہو رہی ہوں، اف یہ فتنہ … اس پر پا بندی کیوں نہیں… اس کو گھر میں قید کیوں نہیں کیا گیا … اس کی جوانی. .. کیا عورتوں کا ایمان اس سے خراب نہیں ہوتا؟ اب کہنے والےکہیں گے کہ عورتیں نہ دیکھیں.. بہت اچھا۔۔ تو یہ ان مردوں کو کیوں نہیں کہا جاتا جو عورتوں کو فتنہ قسم کی کوئی چیز سمجھتےہیں کہ وہ عورتوں کو نہ دیکھیں … مجھے اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا… اور وہ دن بھی گزر گیا …

پھر آج میں یونیورسٹی میں ہوں … آج یہاں کچھ لوگ ایک مذہبی کتابچہ تقسیم کر رہے ہیں، “عورت ایک فتنہ” اس میں لکھا ہوا ہے کہ کیسے عورت سر اپأ فتنہ ہے۔”… اس کے بال … اس کے پاؤں … اس کی دونوں آنکھیں حتیٰ کہ اس کی ایک آنکھ کا پردہ ضروری ہے کیونکہ عورت کی دونوں آنکھیں بیک وقت دکھانا فتنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ آپ کو یقین نہیں آرہا… میں حلفاً لکھتی ہوں یہی لکھا ہے۔ یوں جیسے دنیا میں عورت کے فتنہ ہونے سے بڑھ کر کچھ بات کرنے کو نہ بچا ہو۔ یا اسے ترغیب گناہ ثابت کرنے کےعلاوہ کچھ اہم نہ ہو۔

کیا واقعی عورت فتنہ ہے ایک اور سوال میں جس کے جواب کی متلاشی ہوں۔ چلو آج دیکھتے ہیں کہ مرد کس چیز کو فتنہ سمجھتا ہے۔ میں نے یونیورسٹی میں موجود مردوں کی نگاہوں کا پیچھا کرنا شروع کیا… میرے سامنے ایک تنگ برقعے میں ملبوس لڑکی گزری، آہا تو عورت کا سراپا فتنہ ہے، پھر ڈھیلے ڈھالے برقعے میں ملبوس ایک اور لڑکی بس اس کا چہرہ ڈھکا ہوا نہیں ہے… اچھا تو عورت کا چہرہ مرد کے لئے باعث کشش ہے، پھر ڈھیلے ڈھالے برقعے میں، چہرہ تک چھپائے ایک اور لڑکی گزری لڑکوں نے تاحدِّ نظر اس کو بھی گھورا … ہونہہ! … ایک سیاہ برقعے میں دیکھنے لائق ہے کیا؟ نہ سراپا، نہ آنکھیں، نہ پیر اب یہ کیا گھور رہے ہیں؟ اس لمحے میں جان گئی ہوں کہ … لباس کا اس سب سے کچھ لینا دینا نہیں… مرد ہر صورت میں گھوریں گے۔ ہاں مردوں کے کشادہ کندھے، بال، ان کی آنکھیں ان کے ہونٹ سب ملکر بھی ان کو فتنہ نہیں بناتے۔ اگر ساری دنیا کی عورتوں کے لئے بھی ایک مرد صرف ایک مرد ہی فتنہ ہو وہ تب بھی اپنے آپ کو ڈھانپنے کا پابند نہیں۔ کیونکہ مرد فتنہ نہیں ہے؟ وہ سنبھال کے رکھا جانے والا قیمتی زیور نہیں ہے۔ اس لمحے میں نے بڑی شدت سے چاہا کہ کاش میں قیمتی زیو رنہ ہوتی صرف انسان ہوتی صرف ایک آزاد انسان۔ اور یوں وہ دن بھی گزر گیا …

پھرآج میں ایک مغربی ملک میں ہوں … میرے ارد گرد عورتیں چل پھر رہی ہیں … کوئی پتلون پہنے ہوئے ہے … کوئی مختصر سکرٹ پہن کر پھر رہی ہے … ایک اور شارٹس پہنے … مرد اور عورتیں شانہ بشانہ چل رہے ہیں۔ کیا عجیب منظر ہے … کوئی کسی کو نہیں گھور رہا … یہاں ایسے کوئی کسی کو نہیں گھورتا جیسے میرے ملک میں لوگ گھورتے ہیں ان آنکھوں سے جو مجھے احساس دلاتی ہیں جیسے میں ننگی پھر رہی ہوں۔ اپنے اوپر گڑی وہ نگاہیں جو مجھے خود سے نفرت پر مجبور کر دیتی ہیں، وہ آنکھیں جو مجھے میرے عورت ہونے پر شرمندہ کر دیتی ہیں۔ وہ نظریں جو میرا انسان ہونا میرے لئے باعثِ توہین بنا دیتی ہیں، وہ آنکھیں جو مجھے زمیں سے اپنا وجود ختم کر دینے کو مجبور کردیں۔ آخر مجھے یہاں ویسی حریص آنکھیں کیوں نہیں دکھتی ہیں۔ حالانکہ یہاں کی عورت برقعے کی بجائے رنگین لباس پہنے ہوئے ہے اور زیادہ پر کشش ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ایک عورت کو خوشی سے بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے آج بھی یاد یے کہ کیسے بلوغت کو پہنچتے ہی میرا بھاگنا دوڑنا بند ہو گیا، کھیل کود پر پابندی لگ گئی۔ مجھے خالہ کے باغیچے میں کھلتی وہ کھڑکی آج بھی یاد ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے اپنے ملک میں میرا وجود ایک فتنہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ملک میں مرد سفید رنگ پہنتے ہیں جبکہ عورت کو سیاہ لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ میرا آج پھر وہی سوال ہے کہ مرد کیوں سیاہ لباس نہیں پہنتے ؟ آخر مرد اپنا چہرہ کیوں نہیں ڈھانپتے؟ اور میرا سوال آج بھی سوال ہی ہے۔ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا…۔ اور یوں دن گزرتے جا رہے ہیں…


یہ بلاگ ایک یمنی بلاگر اور خاتون صحافی ہند العریانی نے لکھا ہے۔ ان کا یہ بلاگ مقامی جریدے “یور مڈل ایسٹ” کا اب تک کا مقبول ترین بلاگ ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ one = 2

%d bloggers like this: