آئی ایم جاہل

October 30, 2013 at 03:45 ,
میں جب بھی کسی خُشکے کی تجربہ کار ٹھگوں کے ہاتھوں جیب کٹتے اور دُرگت بنتے دیکھتا ہوں۔ بہت افسوس ہوتا ہے۔
جن حضرات کو پاکستان کے علم و عقل کا سومنات سمجھتا تھا اور دِل سے عزّت کرتا تھا، کل ٹی وی پر وہی ایک دوسرے کو “تُو جاہل ہے” – “نہیں۔ تُو جاہل ہے” کہ کر اندھوں کی طرح پٹھو گرم کھیل رہے تھے۔ چلو اچھا ہوا۔ کئی بُت ٹوٹ گئے اور کئیوں کے دِلوں کی کالک سامنے آگئی۔

پروگرام کا موضوعِ سخن و گُل افشانی و گالم گلوچ ، ہماری قوم کی غدار بیٹی ملالہ کی کتاب “آئی ایم ملالہ” تھا۔

اوریا مقبول جان کا اعتراض تھا کہ کتاب میں سلمان رُشدی کی “شیطانی آیات” لکھنے کی حرکت کو حقوقِ آزادئ رائے کے تحت حلال قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ اس میں قادیانیت کے حق میں لکھا گیا ہے۔ انصار عباسی کو اعتراض تھا کہ کتاب میں کہیں بھی آنحضرت کے نام کے ساتھ “پیس بی اپون ہِم” یعنی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نہیں لکھا گیا۔ پرویز ہود بھائی کا کہنا تھا کہ یہ دونوں حضرات جھوٹ بول رہے ہیں۔ کتاب میں اسلام کے حوالے سے کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔

ان تینوں نے کل کسی پرانے ذاتی عناد کی بناء پر اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دیں۔

غور فرمائیں۔ قوم کے تین قابل فخر سپوت کِس قسم کی بکواسیات کر رہے تھے۔

“یہ جھوٹ بول رہے ہیں، ان کو شرم آنی چاھیئے!” “یہ کس قسم کے جاہل کو آپ نے یہاں بٹھایا ہے جِس کے لیے اِسلام شرمندگی ہے” (واضح رہے، جاہل نے اِسلام کے بارے کہیں بھی شرمندگی ظاہر نہیں کی تھی) – “آپ فزکس میں ایم اے ہو کہ انگریزی میں ایم اے ہو۔؟” – کیسے نامعقول لوگوں کو آپ بُلا تے ہیں؟ – آپ ہیں کِس قسم کی چیز؟ – آپ کو مانتا کون ہے؟ – آپ اُن پڑھے لکھے جاہلوں میں شامل ہے، جن کو اپنے دین سے شرم آتی ہے۔ – آپ کو شرم آنی چاھیئے ، آپ جھوٹ بول رہے ھیں – آپ کو تو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔- کیسے بولا آپ نے کہ ہم نے جھوٹ کہا ہے۔آپ نے یہاں صرف زہر پھیلایا ہے۔ او چھوڑو۔ بس زیادہ بات نہیں کرنا – (چیختے ہوئے)اِس شخص کو چُپ کرائیں۔ اِ س شخص کو چُپ کرائیں۔ – جاہل آدمی ! جاہل کہیں کا – تُم جاہل آدمی ہو ہود بھائی۔ تُم جاہل ہو – انصار عباسی! تُم جاہل ہو – ہود بھائی کو اگر انگریزی آتی ہے، اگر! کیونکہ یہ فزکس کے ایم اے ہیں۔ انگریزی کے نہیں۔

یعنی کہ چیک کریں پاکستانیوں کو۔ جب بات کریں تو باتوں سے خوشبو آئے وغیرہ وغیرہ۔

اِس پروگرام میں کیے گئے دعووں کی حقیقت یہ ہے۔

ملالہ کی کتاب میں سلمان رُشدی کی شیطانی آیات کا ذکر موجود ہے۔ یعنی کہ اوریا اینڈ عباسی جھوٹ نہیں بول رہے تھے۔ لیکن پورا سچ بھی نہیں بول رہے تھے۔یہ بات کِس تناظر میں ہے، ذیل میں پڑھیں۔

جن لوگوں کو انگریزی آتی ہے، اور انہوں نے فزکس میں ایم اے نہیں کیا ہوا، اُن کے لیے یہ سمجھنا کافی آسان ہے کہ کیا گیم کھیلی گئی ہے اور سُرمہ بتا کر معصوم قوم کی آنکھوں میں کیا جھونکا گیا ہے۔

فرماتی ہیں کہ میرے پِتا جی کالج کے دنوں میں بڑی بحثیں کرتے تھے۔ ان میں سے ایک گرماگرم بحث رشدی کے ناول شیطانی آیات پر تھی۔ اس کتاب میں آنحضرت ؐ کی پیروڈی کی گئی تھی اور اس کتاب نے مسلمانوں کے جذبات کواس قدر ٹھیس پہنچائی کہ اُن دنوں لوگ اِس کے علاوہ کم ہی کسی موضوع پر بات کرتے۔ عجیب بات یہ تھی کہ جب یہ کتاب چھپی تو پاکستان میں کسی نے نوٹس نہیں لیا کہ یہ کتاب پاکستان میں دستیاب نہیں تھی۔ پھر انٹیلیجنس ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایک مولوی نے اخباروں میں کالم لکھے کہ کتاب میں کیا گند گھولا گیا ہے اور توجہ دلائی کہ اچھے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کریں۔ چنانچہ پورے پاکستان میں مولویوں نے مظاہرے سٹارٹ کر دیے۔ سب سے پر تشدد مظاہرہ بارہ فروری 1989 کو ہوا جب امریکن سنٹر کے سامنے امریکی جھنڈے جلائےگئے۔ (حالانکہ پبلشر اور رشدی برٹش نیشنل تھے)۔

مطلب کہنے کا یہ کہ رُشدی نے جو کیا سو کیا۔ لیکن پاکستانی خفیہ اداروں نے اپنے کٹھ پُتلی مہروں کے ذریعے اِس موقع کو پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ( کیونکہ امریکہ پاک فوج کے بجائے بینظیراور جمہوریت کو سپورٹ کر رہا تھا؟)۔

پھر رقم طراز ہیں کہ میرے والد کے کالج میں اِس کتاب پر مباحثہ ہوا۔ کچھ نے کہا کہ کتاب پر پابندی لگنی چاھیئے، جلا دینا چاھیئے، اور قتل کے فتوے پر عمل ہونا چاھئیے۔ میرے والد بھی کتاب کو اسلام کے خلاف سمجھتے تھے۔ لیکن آزادئ رائے پر ایمان رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب پڑھ کر اس کے خلاف اپنی کتاب لکھ کر جواب دینا چاھیئے۔ ان کا فرمانا تھا کہ کیا اسلام اتنا کمزور ہے کہ اپنے خلاف ایک کتاب کو برداشت نہیں کرسکتا۔؟

ملالہ کے ابّے کی بات میں وزن ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم شیطانی آیات جیسی کتاب کا جواب نہیں لکھ سکتے۔ انصار عباسی کی طرح یہ کتاب میں بھی پڑھ چکا ہوں۔ اِس میں کافی بکواس لکھی گئی ہے۔شیطانی آیات میں حضورؐ کے بارے لغوٹھٹھہ مذاق کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ رشدی گالی بن کر رہ گیا۔ اگر اِس کتاب کو اتنی توجہ نہ دی جاتی ، اور کتابیں خرید خرید کر جلانے (اور رُشدی کی رائلٹی میں نتیجتاً اضافہ کرنے) کی بجائے اِس شخص کو پاگل سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا تو رُشدی مغرب کی آنکھوں کا تارہ نہ بنتا۔ مزید یہ کہ مولوی مظاہرے نہ کرتے، رافضیوں کا امام قتل کا فتوٰی نہ دیتا تو لاکھوں بندے حضورؐ کے بارے بکواس سے لبریز یہ کتاب پڑھتے ہی کیوں؟۔کہیں یہ یہودی سازش تو نہیں؟ سب جانتے ہیں مسلم دنیا میں جس سودے کو بیچنا مقصود ہوتا ہے، اُس کو متنازع بنا کر بین کر دیا جاتا ہے۔ ریٹنگ اپنے آپ اوپر!!! ہیں جی۔
معاشروں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاھیئے کہ لوگوں کے نزدیک مقدس ہستیوں اور عقائد کا غیر سنجیدہ ٹھٹھہ مذاق بنایا جائے۔ البتہ معاشرے کے اِن مقدس ستونوں کے بارے حقائق پر مبنی سنجیدہ تجزیہ یا مہذب بحث گستاخی کے زمرے میں نہیں آتی۔
رُشدی کا عمل مسلمانوں کے لیےآزادئ رائے کے تحت تب ہوتا، اگر اس میں سنجیدہ علمی بحث ہوتی (جو کہ نہیں تھی)۔ یہ بھی سمجھنا چاھیئے کہ آزادئ رائے کا مطلب دو مختلف کلچرز میں مختلف ہو سکتا ہے۔ مغرب اپنے ہر مقدس ستون کو ڈھا چکا ہے، اور ان کے لیے اپنے کسی بھی شخص کا کسی بھی بناء پر مذاق اڑانا بڑی بات نہیں۔ لیکن مشرق میں ایسی صورتحال نہیں۔ ادھر لوگ ابھی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان نامی بُتوں کی آنکھیں بند کر کے پوجا کر رہے ہیں اور شرک ترک کرنے پر تیار نہیں۔

ویسے ابھی ابھی ایک فاسد خیال دل میں آیا کہ ہم ہزاروں میل دور ہونے والی گستاخی کو برداشت نہیں کرتے لیکن، خود ہر روز کسی نہ کسی کا بے بنیادفحش مذاق بنا کر دھڑلے سے عملی طور پر سلمان رُشدی بنے پھرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ٹٹّی خانے میں مرنے کا مذاق تو آپ نے سُن ہی رکھا ہوگا۔ یا پھر عیسائی عورت کی ٹھنڈی تاثیر ہونے کا تذکرہ بھی سُن رکھا ہوگا۔شیعوں کے غسل موت پر مردے کی اندرونی صفائی کی غرض سے ڈنڈا استعمال کرنے اور پھر اُس ڈنڈے کو برکت کی غرض سے محرم میں پکائی گئی دیگوں میں پھیرنے کی فحش بکواس بھی سُن رکھی ہوگی۔ دس محرم کی رات “شام غریباں” منانے کی غرض سے بتیاں بند کرنے اور مردوں عورتوں کو ایک دوسرے پر کُھلا چھوڑ دینے کی لغویات بھی سُن رکھی ہوگی۔ بریلویوں کے طاہر “الپادری” وغیرہ اور وہابیوں دیوبندیون کے کئی لیڈروں اور عقائد کے بارے شغل میلہ بھی سُن رکھا ہوگا۔

مذہبی ہستیاں اور عقائد چھوڑیں، اس “آزادئ رائے” کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنے اردگرد کے ہر بندے کا مذاق بناتے ہیں، لیکن چاہتے ہیں کہ ہمیں معاف رکھا جائے۔ کیا یہ کُھلا تضاد نہیں؟

بات واپس ملالہ کی طرف۔ پیرے سے صاف ظاہر ہے کہ ملالہ نے شیطانی آیات کے حوالے سے کوئی “بکواس” نہیں کی، اور یہ کہ اوریا مقبول جان اور عباسی صاحب کا فرمانا کہ کتاب میں پتہ نہیں کیا گستاخی کی گئی ہے، غلط ہے۔ یہ دونوں آدھے سچ اور آدھے جھوٹ بول کر معصوم عوام کے جذبات ملالہ کے خلاف ابھار رہے ہیں۔ غالباً سلمان تاثیر کی طرح ملالہ کو بھی جھوٹا الزام لگا کر اِس دفعہ توہین رسالت کے الزام میں مروانا چاھتے ھیں۔

یا پھر غالباً میری انگریزی کمزور ہے کیونکہ میں نے فزکس میں ایم اے کیا ہوا ہے۔ :)

اب آئیں دوسری بات کی طرف اور یہ ملاحظہ فرمائیں۔

ثابت ہوا کہ ۔ ۔ ۔
ویسے اِس ایک جگہ کے علاوہ کہیں بھی “پیس بی اپون ہم” کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ کتاب ملالہ نے نہیں بلکہ اُس کی خالہ کرسٹینا لیمب نے لکھی ہے۔ ہودبھائی کی بات صحیح ہے کہ پبلشر ٹارگٹ مارکیٹ کے حساب سے کتاب کا متن تبدیل کرتا ہے۔ اس کتاب کے اردو ترجمے میں آنحضرت کا نام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی چھپے گا۔

تیسرا الزام یہ کہ قادیانیوں کے حق میں بات کی گئی۔ تو یہ متن ملاحظہ کریں۔

فرماتی ہیں کہ ہمارے ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں 96 فیصد مسلمان ہیں۔ اِس کے علاوہ دو ملین عیسائی اور دو ملین قادیانی ہیں جو کہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن گورنمنٹ نہیں مانتی۔ اِن اقلیتوں پر اکثر حملے ہوتے ھیں۔

غور کریں۔ قادیانیوں اور عیسائیوں کا ذکر ایک ہی جملے میں ہے۔ یعنی؟
قادیانیت کے حق میں کہاں لکھا گیا ہے، اگر کسی پڑھنے والے کو معلوم ہو تو مطلع کرے۔
اب یہ مت کہیے گا کہ حملوں کی بات کر کے مسلمانوں کو بدنام کیا گیا ہے!!!

قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ مومنو۔ جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو بات کی تحقیق کر لیا کرو۔
پڑھنے والوں پر لازم ہے کہ وہ مجھ فاسق پر یقین نہ کریں۔ بلکہ ملالہ کی کتاب دیکھ کر اوپر دیے گئے ریفرنسز کی تحقیق کر کے اوریا مقبول جان، انصار عباسی اور ہودبھائی کے بارے اپنی رائے بنائیں۔

اب کچھ باتیں ہود بھائی نامی خُشکے کے بارے۔

جو لوگ انگریزی کالجوں میں پڑھ چکے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ خُشکے کی اصطلاح ایسے سٹوڈنٹ کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کا رات اور دِن اُس کی کتابیں ہوتی ہیں۔ جس کو شُغلِ پڑھائی کے سِوا کسی اور کام دھندے اور تعلق واسطے کا علم نہ ہو۔اسی لیے، خُشکہ تعلیمی میدان میں تو کُشتوں کے پُشتے اکھاڑتا جاتا ہے، لیکن جب عملی میدان میں آتا ہے تو پریشان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ کتاب سے باہر کی زندگی ، کتاب کے ورقوں کی طرح بالکل صحیح ترتیب میں ہوگی۔ عملی زندگی کی حقیقت بالکل برعکس نکلتی ہے۔ یہاں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ کتابیں جتنی مرضی رٹّی ہوں، جو بولتا ہے، وہی دولت اور شہرت کے کُنڈے کھولتا ہے۔

ڈیبیٹ، یعنی بحث مباحثہ ایک باقاعدہ فن ہے ، جس میں کامیابی کے لیے کافی تجربہ اور قوت گویائی درکار ہے۔ چالاک اور حرامی لوگ اپنے آپ کو دلیلوں میں بے بس پاکر بحث کو کو اکثر ذاتیات کی طرف موڑ دیتے ہیں تاکہ مخالف جذباتی ہو جائے اور غلطی کر بیٹھے۔ خُشکے نے نا تجربہ کاری کے ہاتھوں ، بحث کے اصولوں کی مخالفت کرتے ہوئے شروعات ہی ذاتیات سے کی۔ جواباً مخالفوں نے اسے پھر آزمودہ رگڑے لگانے شروع کیے۔ یہ اگر اتنا ہی پروفیسر اور عالم تھا تو کم از کم کتاب ہی اٹھا کر لے جاتا تاکہ جھوٹا جھوٹا کے نعروں کے حق میں کوئی دلیل بھی پیش کر سکتا۔ مہذب ہونے کا دعویدار ٹو دی پوائنٹ اور دھیمی بات کرنے کی بجائے پھولے ہوئی رگوں کے ساتھ جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگاتا رہا۔

اوریا مقبول جان اور انصار عباسی نے انتہائی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے خُشکے کو گھیرنے کی کوشش کی۔ اگر خُشکہ محتاط نہ ہوتا تو آج قتل کا فتوٰی گلے میں لے کر پِھر رہا ہوتا۔ اگر یہی بحث اوریا مقبول جان اور انصار عباسی انہی دلائل کی بنیاد پر کسی مغربی ملک میں لبرلز کے ساتھ کرتے، تو ان کے پرخچے اُڑ جاتے۔

اس پروگرام میں ظفر ہلالی نے سچے میچور شخص ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے طوفان بدتمیزی میں بالکل حصہ نہیں لیا۔ باقی تینوں کو بھی خاموش ہی رہنا چاھیئے تھا۔

یہ تحریر “جوانی پِٹّے کا بلاگ” سے نشر مکرر کے طور پر شائع کی گئی ہے۔

Related Posts

Comments

comments

Leave a reply

required

required

optional



+ five = 9

%d bloggers like this: